تازہ تریننیشنل خبریں

حمزہ شہباز کا بھی پتہ نہیں کہ ن لیگ کا ٹکٹ لیں یا نہیں، اتحادیوں کے علاوہ اپوزیشن اراکین سے بھی رابطے، وہ اپنی قیادت سے تنگ ہیں: فواد چودھری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اتحادیوں سے ہمارے رابطے ہیں ، (ق) لیگ اور ایم کیو ایم سے جلد ملاقات ہوگی، پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کے بھی کچھ اراکین اسمبلی سے رابطہ ہوا ہے، وہ اپنی سیاسی قیادت سے تنگ ہیں، اپوزیشن پہلے لانگ مارچ میں ہلکان ہوجائے پھر ہم کارروائی کریں گے، پیپلز پارٹی نے پولیس کی گاڑیوں پر پارٹی پرچم لادے ہوئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو چاہیے کہ بےنظیر بھٹو کے پرانے لانگ مارچ اٹھا کر دیکھیں،اپوزیشن کی کتاب کا کوئی صفحہ نہیں، یہ سارے ایک دوسرے سے دھوکہ کررہے ہیں،3 مہینے گزرنے دیں پھر پتہ نہیں حمزہ شہباز بھی(ن)لیگ کا ٹکٹ لیں گے کہ نہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ کہ پہلے سال ہمیں بکھری ہوئی معیشت ملی ، وزیراعظم عمران خان نے 2018میں وزارت عظمی کا حلف اٹھایا توہمیں جو بریفنگ دی گئی تھی اس میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمارے پاس تین ہفتے رہیں اس میں ہم نے 2بلین ڈالرز کا اضافہ کرنا ہے ورنہ پاکستان بنک کرپٹ ہوجائے گا یہ ایسے صورتحال تھے جس کی وجہ سے عمران خان کو ایسا پاکستان ملا اور عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے موجودہ اکاو¿نٹ ڈیفیسیٹ 20بلین ڈالرز پر کھڑاتھا جبکہ فارن بلین ڈالرز میں 7ارب کا اضافہ ہورہا تھا جس دن وزیراعظم عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے اس دن ہم نے 10بلین ڈالرز واپس کرنے تھے اس دن تباہ حال ملک پاکستان تحریک انصاف کو ملا جس میں انہوں نے اینٹ کے اوپر اینٹ رکھ کر پاکستان کی معیشت کو صحیح کیا ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم سعودی عرب ،چین ، متحدہ عرب امارات کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی اور پاکستان کو بنک کرپٹسی سے بچاسکے ۔ اگلے مرحلے میں وزیراعظم عمران خان کے سوشل ویلفئیر کا کانسیپٹ تھا اس میں غریب ترین آبادی کیلئے محفوظ پروگرام لے کر آئے ۔ہم نے احساس کا پروگرام شروع کیا ابھی ہم نے اس کا آغاز کیاہی تھا کہ کرونا کا مسئلہ شروع ہوگیا ، کورونا کے پاکستان کی معاشی سٹیبلیٹی کو نقصان پہنچایا ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جس نے تیزی سے کورونا کا مقابلہ کیا ، یہ وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی جدوجہد تھی جس کی وجہ سے ہم کورونا پر تیزی سے قابو پاسکے ،کورونا ختم ہوا تو افغانستان کا معاملہ شروع ہوگیا ، افغانستان میں جو صورتحال پیدا ہوئی اسکا معاشی دباو ہمیں برداشت کرنا پڑاکورونا کے بعد عالمی منڈی میں جواشیاءکی قیمتیں بڑھیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے ان تمام معاملات کے دوران پاکستان میں جو ہم نے بنیادی اقدامات کئے اس کے نتیجے میں پاکستان میں کنسٹرکشن انڈسٹری عروج پر پہنچی ہے ہم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بحال کیا ۔21بلین ڈالرکے اوپر ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جو ایکسپورٹس تھیں جو پا کستان کی تاریخ کا حصہہیں ڈالر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ جنہوں نے پچھلے سال 29ارب ڈالر پہنچ گئے تھے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button