پاکستان

لانگ مارچ کب ہو گا؟عمران خان نے اعلان کر دیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک )عمران خان نے سوشل میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے ملاقات اور بات کرنا چاہتا تھا، اندازہ ہےکہ کن مشکل کنڈیشنز میں 25 مئی کی کوریج کی، میں کئی چیزیں دیکھ رہاتھا جو کنٹینرز سے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا، آپ نےجذبےاور دلیری سےکوریج کی،

میں آپ سب کوخراج تحسین پیش کرتاہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 30سال سے جرم کرنیوالے آج اوپر آکر بیٹھ گئے ہیں، پاکستان جس دورسےگزررہاہےبہت کم ایساوقت آتاہے، یہ ملک کے لئے فیصلہ کن وقت ہے، جب نماز پڑھتے ہیں تو اللہ سے ایک ہی چیز مانگتے ہیں، اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں عظمت کے راستے پر لگا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اللہ کسی کواجازت نہیں دیتاکہ وہ کہےمیں نیوٹرل ہوں، حق کے راستے پر چلتے ہیں تو بات ذات سے آگے نکل جاتی ہے، اس جدوجہ کوسیاست نہیں بلکہ جہاد سمجھیں، جب آپ راہ حق پر چلتے ہیں تووہ جہاد ہے۔ ہمارے معاشرےمیں شہادت کاسب سےبڑامقام ہے ، جس طرح ظلم کرکےلوگوں پرشیلنگ کی گئی یہ جنرل ڈائر کر سکتا تھا شہبازشریف اور راناثنااللہ نے ماڈل ٹاؤن میں 14لوگوں کو قتل کرایا ، ماڈل ٹاؤن میں جب 14قتل ہوئے ان کو اس وقت جیلوں میں ڈالنا چاہیے تھا۔ لانگ مارچ کے دوران تشدد کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ لااینڈفورسمنٹ ایجنسی اپنے لوگوں پر ایساظلم نہیں کرتی، یہ سب ایسے لوگ ہیں جنہیں بہت پہلےجیلوں میں جاناچاہئےتھا، انصاف کی ضرورت تو کمزور کو ہے ، طاقتور تو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکاانٹرنیشنل کریمنل کورٹ کےنیچےخودکونہیں لاناچاہتا، عدالتیں کمزورکوتحفظ دینے کےلئےبنتی ہیں ، ہم ان لوگوں کو شکست دیں گے تو پاکستان اوپر چلا جائے گا،

اگر ہم کامیاب نہ ہوئے تو آپ کے بچوں کو یہ جنگ لڑنا پڑےگی ، چوروں کے خلاف یہ جنگ کبھی نہ کبھی تو لڑنی پڑے گی۔رانا ثنا اللہ کی دھمکیوں سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ راناثنااللہ کی پھر اسٹیٹمنٹ آئی ہے کہ میں یہ کردوں گا وہ کردوں گا، یہ لوگوں کو پھر سے ڈرانے کی کوشش کررہےہیں، سب سے بزدل انسان ہی ظالم ہوتاہے ، راناثنااللہ پر تو ان کی اپنی جماعت کا منسٹر کہتا تھا اس نے 22قتل کئے۔ اللہ فرماتاہےتم سےپہلےقومیں تباہ ہوئیں جوطاقتورکوقانون کےنیچےنہیں لاسکیں، شہبازشریف نے98،97میں سب سے زیادہ لوگ پولیس مقابلےمیں مرائے۔

آزادی مارچ کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ میں فیملیز،عورتوں اور بچوں پرانہوں نےشیلنگ کی، وہ شیل صرف دہشت گردوں پراستعمال ہوتےہیں وہ ان لوگوں پر کیے گئے، ان کی کوشش ہےکہ عوام ڈرکرسہم کربیٹھ جائے، 62سال میں30سال فوج تو 30سال ان 2 خاندانوں نے حکومت کی۔ کسی نے دنیامیں بڑاکام نہیں کیا جس نےخوف پر قابو نہیں پایا، 4 ہزار لوگوں نے 40 کروڑ ہندوستانیوں پر حکومت کی ہے، جنرل ڈائر نے جلیاں والاباغ میں لوگوں کو گولیاں ماری تھیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں اس کوجہادسمجھ کرلڑتاہوں مجھےکسی چیزکاخوف نہیں ،یہ ہم آنےوالی نسلوں کیلئےجنگ لڑرہےہیں، یاد رکھیں ان سےبزدل لوگ کوئی نہیں ہی

ں۔ سپریم کورٹ میں ہماراکیس لگاہواہے، ہم سپریم کورٹ سےپروٹیکشن چاہ رہےہیں، سپریم کورٹ سےسوال ہے ایسے مجرموں کو شیلنگ کی اجازت دےسکتےہیں، پنجاب میں چادرچاردیواری کوپامال کیاگیا۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلےکےبعدہم نکلیں گے، پہلےہماری تیاری نہیں تھی،اب پوری تیاری کیساتھ جائیں گے، جو غلطیاں پہلےہوئیں اب وہ نہیں ہوں گی، آپ لوگوں کوچوٹیں بھی لگیں زخمی بھی ہوئے ، جس پر میں آپ سب کوخراج تحسین پیش کرتاہوں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button