پاکستان

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کے اختیارات محدود کر دیے

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے فریقین کی رضا مندی پر 22 جولائی کو ووٹنگ کرانے کا حکم د یدیا ،فاضل عدالت نے دوران

سماعت قرار دیا کہ 22 جولائی تک حمزہ شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب رہیں گے لیکن حمزہ شہباز شریف تبادلے اور تقرریاں اور دیگر انتظامی اختیارات استعمال نہیں کریں گے جس سے پنجاب بھر کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات پر اثرانداز ہونے کا تاثر ملے ، اس دورانیہ میںاگر پکڑ دھکڑ ،قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتیں کھلی ہیں ۔یہ فیصلہ مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کرد ہ درخواستوں کی سماعت کے بعد دیا گیا ۔جمعہ کے روز درخواست پر سماعت بیک وقت سپریم کورٹ اسلام آباد اور لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی،لاہور رجسٹری میں وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی پیش ہوئے ،سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جو تین سیشن تک جاری رہی، بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔ دوران سماعت پی ٹی آئی کے کونسل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ سولہ اپریل کو وزیراعلی پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی،لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کا ایوان میں طلب کیا گیا، عدالتی سوال پر بابر اعوان نے موقف اپنایا کہ دوبارہ انتخاب کیلئے میرے ذہن میں دس دن کا وقت تھا لیکن سات دن بھی دیئے جائیں تو مناسب ہے ،

وزیراعلی بیمار ہو جائے یا باہر جائے توسینئر وزیر کو وزارت اعلی کا چارج دیا جاتا ہے،دوسری صورت میں نگران وزیراعلی بنایا جا سکتا ہے،ق لیگ اور تحریک انصاف دونوں الگ سیاسی جماعتیں ہیں،میں اپوزیشن لیڈر سبطین کا وکیل ہوں،حمزہ شہباز کی وزارت کا نوٹیفیکیشن غیر قانونی ہے،عدالت وزیر اعلی پنجاب کیلئے صاف شفاف انتخابات کا حکم دے،5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفیکیشن کا حکم دیا،لیکشن کمیشن روز کہتا

ہے عدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرینگے، حمزہ شہباز کو قبول نہیں کر سکتے، ہمیں حمزہ شہباز عبوری پیریڈ مین وزیر اعلی قبول نہیں،میری گزارش ہے کہ عدالت آرٹیکل 187 کے تحت فیصلہ کر ے،عدالت کسی تیسرے کو صاف شفاف الیکشن کرانے کا حکم دیدیں،صرف استدعا ہی کر سکتے ہیں فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے،وقت دیا جائے

تا کہ پارٹی سے ہدایات لے سکوں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم کس بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کریں؟اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے،کیا فریقین کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟کیا آپ چاہتے ہیں سات دن تک پنجاب میں کوئی وزیراعلی نہ ہو،اگر وزیراعلی کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا؟سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے،گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار

دینا غیرآئینی ہوگا،آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں،سترہ جولائی کو عوام نے بیس نشستوں پر ووٹ دینے ہیں،ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے،گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا،آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ نہیں چاہتی تھی کہ صوبہ بغیر وزیراعلی رہے،کئیر ٹیکر

حکومت کا تو سوال ہی نہیں،عوام کو موقع دیا جائے تو جمہوریت بہتر نتائج دیتی ہے،1988 میں بھی صدر کی وفات کے بعد قائمقام صدر کے انتظامات سنبھالنے کو درست نہیں کیا گیا تھا،اگر موجود وزیر اعلیٰ نہیں تو پھر کون اسکا اپکے ہاس جواب نہیں، یہ انا کا مسئلہ نہیں ملک وقوم کا مسئلہ ہے،وزیراعلی نہ ہوئے تو قیاس پھیلے گا،وکلا نے مہلت کے باوجود آئین نہیں پڑھا،ارٹیکل 130 پڑھتے تو وکلا حل بتادیتے،اگر ہم ارٹیکل 130 پر ائے تو دونوں

کیلئے مسائل ہوں گے، ہمارے سامنے ووٹنگ کے وقت کا ہے۔کہا گیا کہ مناسب وقت پولنگ کیلئے نہیں دیا گیا،ایک سوال یہ ہے عدالت وقت دے تو حکومت کون چلائے گا،آئین کے مطابق صوبہ وزیر اعلی کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا ہے،چوہدری صاحب آپکا حمزہ پر کوئی اعتراض ہے،کیا پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو ضمنی الیکشن تک حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب قبول ہیں؟ہم قانونی حل کی طرف گئے تو ہو سکتا ہے پی تی آئی کا بھی نقصان ہو،آئین

رن اپ الیکشن کا آپشن فراہم کرتا ہے،17 جولائی کا انتظار کرنا لازمی نہیں ہے،آئین کہتا ہے ایوان میں موجود اکثریت سے ہی دوبارہ انتخاب میں فیصلہ ہوگا،عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے کہ وزیراعلی کا الیکشن کب ہونا چاہیے،ضمنی الیکشن تک انتخابات روکنا ضروری نہیں ہے،دونوں فریقین اتفاق کریں تو ہی 17 جولائی تک انتظار کیا جا سکتا ہے،آئین ارکان کو مناسب وقت فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔رن آف الیکشن کیلئے 3 سے 5 دن مناسب

وقت ہوگا،ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو ہٹانے کا حکم نہیں دیا۔درخواست گزار اور ان کے امیدوار ہی ایک پیج پر نہیں،دو تین دن کیلئے متبادل انتظام ہو سکتا ہے لیکن لمبے عرصے کیلئے نہیں،متبادل انتظام 17 جولائی تک نہیں ہو سکتااگر آئین کے مطابق جائے تو رن اپ الیکشن کسی تاخیر کے بغیر ہو گا۔جسٹس اعجاز الحسن نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میںکہا ہے 197 میں سے 25 ووٹ نکال دیں، پچیس ووٹ نکالنے کے

بعد حمزہ شہباز کا انتخابات درست نہیں رہتا، انتخاب کے دوسرے ر ائونڈ میں سادہ اکثریت یعنی 186 کی ضرورت نہیں،آپ کا موقف ہے کہ ہمارے ارکان بیرون ملک ہیں، ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں،ملک کے کسی بھی حصے سے 24 گھنٹے سے لاہور پہنچا جا سکتا ہے، قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلی کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہ سکتا ہے، اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں تو انکا فی الحال برقرار رہنا

مشکل ہے،عدالتی حکم کے بعد انتخاب کا دوسرا را?نڈ ہونا ہے، لمبے عرصے تک صوبہ بغیر وزیراعلی نہیں رہ سکتا، کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلی کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟ سمبلی تحلیل ہونے پر ہی نگران حکومت بن سکتی ہے، سات دن کا وقت مناسب نہیں لگتا، اختلافی نوٹ میں دیے گئے وقت میں ایک دن کا اضافہ ہوسکتا، منحرف اراکین کی نشستوں پر اگر تحریک انصاف جیت جاتی ہے تو عدم اعتماد لاسکتی ہے،انتخابات

تک مہلت دینے سے متفق نہیں،7 دن کی مہلت بہت زیادہ ہے، 24 گھنٹے 36 گھنٹے یا 48 گھنٹوں تک مہلت پر بات کریں، منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ نئے الیکشن تک چیزیں نہیں چلیں گی،اس بحران کو اچھے طریقے سے آئین کے مطابق حل کیا جائے,ہائوس مکمل ہونے کے بعد جس کی اکثریت ہوگی وہ وزیراعلی بن جائے گا،پاکستان میں موجود اراکین کے آنے تک دوسری صورت میں وقت دیا جا سکتا ہے،دوسری صورت

الیکشن کیلئے وقت کی کمی کی ہے، یہاں پہ کہا گیا ارکان دستیاب نہیں،کہا گیا کہ پانچ مخصوص نشتوں پر بوٹی فیکیشن نہیں ہوا،کہا گیا کہ ضمنی الیکشن تک آپکو حمزہ شہباز پر اعتراض نہیں،عدالت سے کہا گیا کہ ووٹنگ کو وقت بڑھایا جائے،عدالت سے سات دنوں کا وقت مانگا گیا،عدالت نے کہا وقت مناسب نہین تو وقت بڑھایا جا سکتا ہے،ارکان کو اکھٹا کرنے والی بات نہیں ہو سکتی،پاکستان میں موجود اراکین کے آنے تک دوسری صورت میں وقت

دیا جا سکتا ہے،ملک کو مستقل طور پر اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا،پرویز الہی کی تجویز عدالت کو مناسب لگی تھی، یہی حالات چلتے رہے تو کسی کا بھی فائدہ نہیں ہونا، ہاؤس پورا ہونے پر جس کی اکثریت ہوگی وہ جیت جائے گا،لوگ اپنا ووٹ کاسٹ کریں،ضمنی الیکشن کے بعد جسکی اکثریت ہوگی وہ وزیر اعلی بن جائے گا،اس غیر یقینی کا کسی فائدہ نہین ہے،دونوں فریقین کے اتفاق سے گورنر کو نگران مقرر کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں،

حمزہ شہباز کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لئے ہی دوبارہ انتخاب ہو رہا ہے،اگلے پیر تک بھی وقت دیں تو آپ وزیراعلی نہیں رہ سکتے،فی الحال آپ قانون کے مطابق وزیراعلی نہیں ہیں،دوبارہ الیکشن کیلئے مناسب وقت دینا ضروری ہے، دو تین دن سے کوئی پہاڑ نہیں گرے گا اگر آئینی بحران کا حل نکالیں تو، چوہدری صاحب کی دونوں باتیں نہیں مانی جا سکتی، یا حمزہ کو وزیراعلی تسلیم کرنا ہوگا یا پھر مناسب وقت میں دوبارہ الیکشن ہوگا،یہ نہی ہو

سکتا کہ حمزہ کو ہٹا کر 17 جولائی تک ووٹنگ کا انتظار کیا جائے،اگر آپ نہیں مانتے توووٹنگ کا دو دن کا مناسب وقت دے دیتے ہیں،پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی یہ احکامات ہم جاری کرینگے، اگر پکڑ دھکڑ ہوتی ہیں تو عدالتیں کھلی ہیں،قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتیں موجود ہیں،الیکشن کا اعلان ہونے پر کوئی تقرر و تبادلے نہیں ہو سکتے۔عدالتی حکم پرقائم مقام وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور انتخاب میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الہیٰ

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوئے۔عدالتی استفسار پر چوہدری پرویز الہیٰ نے ویڈیو لنک پر عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ 5 اہم نشستوں پر نوٹیفکیشن اور 6 ممبران حج پر ہیں،جب سے حمزہ وزیر اعلی ہے، آج بھی سارا کنٹرول پولیس نے سنبھالا ہوا ہے،کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے، ہا?س بھی اس وقت مکمل نہیں ہے، ایسی صورتحال میں ان پر اعتماد نہیں کر سکتا،عدالت نے جو فرمانا ہے ہم نے اس حکم کو بجا لانا ہے،ضمنی الیکشن

تک ہمارے ممبر حج سے واپس آ جائے گے،ہماری مخصوص نشتوں پر نوٹی فیکیشن بھی ہو چکا ہوگا،چیف جسٹص نے اس موقع پر چوہدری پرویز الہیٰ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو یہ تجویز پسند ہے کہ ضمنی الیکشن تک حمزہ وزیر اعلی رہے،اگر قبول نہیں ہے تو آپکا بھی نقصان ہوگا انکا بھی نقصان ہوگا،چوہدری پرویز الہیٰ نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ حمزہ شہباز کو نگران وزیراعلی رہنا ہے تو اپنا اختیار طے کریں، یہ تو بادشاہ بن جاتے ہیں،

حمزہ شہباز 17 جولائی تک رہنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اختیار کو طے کرلیں،17 جولائی تک وزیر اعلی رہے لیکن ارکان کو ہراساں نہ کیا جائے ،حمزہ شہباز کے ہمیشہ پروڈکشن آرڈر جاری کرتا رہا ہوں،یقین دہانی کراتا ہوں سب کچھ برادرانہ طور پر ہوگا۔قائم مقام وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے عدالت کے روبرو ویڈیو لنک پر موقف اپنایا کہ عدالت کا بہت احترام ہے،کوئی شخص نہیں سسٹم ضروری ہوتا ہے، پرویز الہی کا کام تھا اپنے لوگوں کو روک کر

رکھیں، حمزہ شہباز نے پرویز الہی کی تجاویز مسترد کر تے ہوئے موقف اپنایا کہ یقین نہیں دلا سکتا کہ ہمارا اتفاق رائے ہوجائے گا، عدالت 17 کو وزیراعلی کا الیکشن رکھ لے تو ہا?س مکمل ہو جائے گا، آج الیکشن ہوجائے صوبہ میں استحکام آجائے گا،آج اگرالیکشن ہوتا ہے تو میرے پاس عددی اکثریت ہے،وزیر اعلی خو ہٹانا کس قانون مے تحت یہ کہہ رہے ہیں،17 تک صوبہ کا سربراہ نہین ہوگا تو صوبہ کیسے چلے گا،میرے پاس اکثریت آج بھی موجود

ہے،سربراہ کے بغیر صوبہ کیسے چل سکتا ہے،اس حساب سے تو آج ہی دوبارہ الیکشن کروا دیں،مسئلہ کا حل آئین اور قانون کے مطابق ہی نکلے گا،عدالت چاہے تو ہائیکورٹ کے فیصلہ پر آج الیکشن کروا دیں،آج ووٹنگ ہو نے سے بے یقینی ختم ہو جائے گی،مناسب وقت کا فیصلہ عدالت بہتر کر سکتی ہے،سیاسی ورکر ہوں، جیلیں کاٹی ہیں،متفق ہوں کہ کسی کو حراساں نہیں کیا جائے گا،صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا۔پنجاب اسمبلی میں

اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ مین نے اسپیکر کیساتھ طے کیا ہے کہ 17 جولائی تک حمزہ وزیر اعلی رہے،17 جولائی تک ضمنی الیکشن کا نتیجہ بھی آجائے گا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد موجودہ صورتحال پیدا ہوئی،سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے آ جاتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی، ہم نے ائین دیکھنا ہے خواہشات کو نہیں،ایسا کام نہیں کرنا جس کا کل غلط استعمال

ہو،عدالت کی طرف سے پی ٹی آئی کو پارٹی راہنما ئوں ست مشاورت کا وقت ملنے کے بعد معاملہ کی دوبارہ سماعت کو آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے بابر اعوان سے پوچھا عمران خان نے کیا ہدایات دی ہیں؟ جس پر بابر اعوان نے بتایا کہ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلی قبول ہیں، بس دھیان رہے کہ ضمنی الیکشن میں ترقیاتی فنڈز جاری نہ کیے جائیں،آئی جی، چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کو

قانون کے مطابق کام کرنے کا حکم دیا جائے، آئی جی، چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کام کرنے کا حکم دیا جائے،الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کا یہ تو کوڈ اف کنڈیکٹ ہے،ہم نہیں چاہتے آپ دوبارہ ہمارے پاس آئے،خاندانی تنازعہ کا فیصلہ نہیں کر رہے،خاندانی تنازعہ پر چھوٹے چھوٹے ایشوز ہوتے ہیں،چیف جسٹس نے حمزہ شہباز سے پوچھا کیا

آپکا ارکان کا ہراساں کرنے کا کوئی ارادہ ہے؟ جس پر حمزہ شہباز نے موقف اپنایا کہ ہم تو صاف شفاف الیکشن چاہتے ہیں ،وزارت اعلی کا الیکشن دھاندلی زدہ نہیں بنایا جائے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حمزہ شہباز کیلئے نگران کا لفظ استعمال نہیں کرینگے،ایسے الفاظ استعمال کرینگے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہونگے،مسئلہ حل ہو گیا ہم آرڈر پاس کرینگے،تمام فریقین کی مدد سے مسئلہ حل ہو گیا،ہم تحریری حکمنامہ کل جاری کردینگے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button