تازہ تریندلچسپ و عجیب

1974 میں قت ل ہونے والا شخص 47 سال بعد دوبارا پرسرار طور پر واپس اپنے گاؤں آگیا پھر اس کے ساتھ وہ ہوگیا ج

یہ کہانی ساجد عباسی نام کے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر شئیر کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ان کے خاندان کے ساتھ 1974 میں پیش آیا۔ساجد عباسی کے مطابق ان کے چچا جن کی عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی نو محرم کے دن قریبی گاؤں کوہالہ سے واپس اپنے گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ گاؤں کے قریب ایک آبشار بکوٹ کے قریب پہنچے تو وہاں سے وہ غائب ہو گئے۔ جب گھر والوں نے ان کی تلاش شروع کی تو ان کو اس آبشار کے مقام پر ان کی خون آلود واسکٹ ملی جس پر خون کے نشانات تھے یہ خون کے قطرے دریا تک جا رہے تھے مگر ان کی لاش نہیں مل سکی- جس پر گھر والوں نے یہ تصور کیا کہ کسی نے ان کو قتل کر دیا ہے اور لاش دریا میں پتھر باندھ کر پھینک دیا گیا تاکہ لاش کسی کو مل نہ سکے اس کے بعد گھر والوں نے اسی جگہ پر کچھ پتھر جمع کر کے ایک قبر سی بنا دی تھی اور گھر والے سب اسی جگہ پر دعا کرتے اور فاتحہ پڑھتے تھے۔ ساجد عباسی کا یہ کہنا تھا کہ کچھ دن قبل ان کو ان کے ایک کزن کی کال آئی کہ ہمارے چچا جن کو بیس سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ زندہ ہیں اور گاؤں کی گاڑی میں گاؤں کی طرف آرہے ہیں پتہ کرو کہ یہ بندہ اصلی ہے یا نقلی۔ ساجد عباسی کا یہ کہنا تھا
کہ یہ فون سن کر ان پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ان کو دیکھا تو ان کی شکل ان کے والد اور ایک چچا سے مشابہ تھی انہوں نے مجھے دیکھا تو بے ساختہ رونے لگے اور روتے ہوئے انہوں نے مجھے سینے سے لگا لیا ان کے سینے سے لگتے ہی خون کی کشش نے مجھے بے چین کر دیا اور مجھے ان کی سچائی پر کسی قسم کا شک نہیں رہا- میں نے ان سے جب ان کی کہانی دریافت کی تو جو کچھ انہوں نے بتایا وہ ایک فلمی کہانی سے کم نہ تھا ۔ بابو چچا کے مطابق کچھ نامعلوم افراد نے اس آبشار کے مقام پر ان کو خواب آور دوا سونگھا کر بے ہوش کر کے اغوا کر لیا تھا- جب ان کو ہوش آيا تو انہوں نے خود کو ایک بیاباں میں پایا ۔جہاں ان جیسے اور لوگ بھی قید تھے اور وہ سب لوگ بیگار کروانے کے لیے اغوا کیے گئے تھے ان کو آپس میں بات تک کرنے کی اجازت نہ تھی ۔ کھانے کے لیے ان کو سوکھی روٹی دی جاتی تھی بعض اوقات وہ بھی نہ دی جاتی بس ان کا کام بیگار میں مزدوری کرنا ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو ایسی دوائيں دی جاتی تھیں جس سے ان کا دماغ کچھ حکم ماننے کے علاوہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہا یہاں تک کہ یاداشت بھی بھول گیا

کہ وہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔ اس کے باوجود رات کو ان سے زنجیروں سے باندھ دیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ اغوا کنندگان کو یہ یقین ہو گیا کہ اب یہ کہیں نہیں جائيں گے تو انہوں نے ان کی زنجیروں کو باندھنا بند کر دیا۔ اس وقت میں ساجد حبیب کے چچا کو اللہ نے ہمت دی اور انہوں نے ان درندوں کی قید سے بھاگنے کا فیصلہ کیا- رات بھر بھاگتے بھاگتے وہ ایک سڑک تک پہنچے اور جو پہلی بس ملی اس پر بیٹھ گئے دس گھنٹوں کے بعد جب بس آخری منزل تک پہنچی تو ان کو اترنا پڑا پتہ چلا کہ وہ کراچی پہنچ گئے ہیں۔ انہیں اپنے گاؤں اور اپنے خاندان والوں کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں تھا- اس کے بعد کچھ دن کراچی کی سڑکوں پر گزارا جہاں کبھی فٹ پاتھ پر سوئے کبھی بھوکے رہے یہاں تک کہ مزدوری کی اسی دوران ان کو ایک کینٹین میں ملازمت مل گئی جس کا مالک حویلیاں سے تعلق رکھتا تھا اس نے جب ان کے چچا کا اچھا کردار اور پانچ وقت نماز گزاری دیکھی تو ان سے ان کے خاندان اور عزیز و اقارب کے بارے میں سوال کیا مگر ان کے چچا کو کچھ بھی یاد نہ تھا اس وجہ سے انہوں نے یہی کہا کہ ان کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے- جس پر اس نے ان کی شادی اپنے خاندان کی ایک لڑکی سے کروا دی اسی دوران ان کے چچا کو ایک آدمی نے سعودیہ میں ملازم رکھوا دیا۔

چچا اپنی بیوی کے ساتھ سعودیہ چلے گئے جہاں انہوں نے کئی عمرے حج کیے اس دوران اللہ نے ان کو ایک بیٹے سے نوازہ مگر اس کی زندگی مختصر تھی۔ اس کے بعد ایک بیٹی ہوئی تو وہ بھی جلد ہی اللہ کے پاس چلی گئی اسی دوران چچی کا بھی انتقال ہو گیا تو چچا واپس سعودیہ سے پاکستان آگئے واپس آکر حویلیاں میں ہی دوسری شادی کر لی۔

دوسری عورت نے جب چچا سے بہت اصرار کیا کہ اپنے خاندان والوں کے بارے میں کچھ بتائيں تو اس دوران ان کو اپنے گاؤں کا نام یاد آگیا- انہوں نے اللہ کا نام لے کر اس گاؤں روانگی کا فیصلہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ کیا وہاں سے پوچھتے پوچھتے جب گھر تک پہنچے تو ان کو پتہ چلا کہ بیس سال میں ان کے چاروں بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے- تاہم ان کے سارے رشتے دار ان کو مردہ سمجھ چکے ہیں اور ان کے بھائیوں کی جگہ اب ان کے بھتیجے ہیں۔ یہ جان کر وہ ہم سے ملے جب گاؤں والوں کو اس سارے واقعہ کا پتہ چلا تو وہ اس معجزانہ کہانی پر بہت حیران ہوئے اور دور دور سے چچا کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سچ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی کرنا ناممکن نہیں ہے-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button