پاکستانتازہ ترین

اراکین اسمبلی کی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات جاری، وزیراعظم نے 98لاکھ ٹیکس ادا کیا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پارلیمنٹرینز کے لیے 2019 کی ٹیکس ڈائریکٹری کا اجرا کردیا ہے جس کے مطابق وزیر اعطم عمران خان نے 98لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ٹیکس کی مد میں ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا۔

دستاویز کے مطابق ڈائریکٹری کو 3 جنوری تک دستی اور الیکٹرانک طور پر جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیٹا میں صرف ایف بی آر کو جمع کرائے گئے ریٹرن میں ظاہر کردہ آمدنی اور ٹیکس شامل ہیں جبکہ اس میں صوبوں کو ادا کیے جانے والے زرعی انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ شامل نہیں ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اس حوالے سے کہا کہ ایف بی آر گزشتہ چھ سالوں سے ڈائریکٹری شائع کر رہا ہے تاہم اس بار ڈائرکٹری کو مزید معلوماتی بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کی گئیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ شفافیت کی طرف ایک اہم قدم ہے، قوم کی نظریں ارکان پارلیمان پر ہوتی ہیں، جب قوم کو معلوم ہو گا کہ اراکین پارلیمنٹ شفاف طریقہ سے ٹیکس ادا کرتے ہیں تو شہری بھی اسی جذبے کے ساتھ ٹیکس ادا کریں گے، اس سے ٹیکس کے پورے نظام میں شفافیت آئے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق وزیراعظم نے 2019 میں 98 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا اور اس دوران ان کی آمدن 3کروڑ 89 لاکھ 774 روپے تھی۔

 

اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 82 لاکھ روپے جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 5 کروڑ 30 لاکھ روپے ادا کیے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے 22 لاکھ روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے، سینئر بینکر اور موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے 2 کروڑ 66لاکھ روپے جبکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 49 لاکھ روپے ادا کیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 11 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا تاہم ان کے برعکس وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹیس کی مد میں صرف 2ہزار روپے کی رقم ادا کی۔

بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے 11 لاکھ روپے اور ان کے پیشرو جام کمال خان نے ایک کروڑ 18 لاکھ روپے ادا کیے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66ہزار 258 روپے ادا کیے۔

 

وفاقی کابینہ میں شامل دیگر اراکین میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 9 لاکھ روپے جبکہ وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے 43 لاکھ روپے بطور ٹیکس ادا کیے، وزیر توانائی حماد اظہر نے انفرادی حیثیت میں 29,025 روپے ٹیکس ادا کیا البتہ ان کی ایسوسی ایشن آف پرسنز نے ٹیکس کی مد میں ایک کروڑ 81 لاکھ روپے کی رقم ادا کی۔

صرف وزیر اعلیٰ پنجاب ہی نہیں بلکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیٹر فیصل سبزواری، پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس اور پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان بھی ان متعدد قانون سازوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ(ن) کی عظمیٰ زاہد بخاری نے ٹیکس کی مد میں ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا۔

سب سے زیادہ ٹیکس این اے-256 سے منتخب رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے ادا کیا، مذکورہ دورانیے میں ان کی آمدن ایک ارب 87 کروڑ 66 لاکھ تھی اور انہوں نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

آئندہ 6سالوں میں ٹیکس وصولی کو جی ڈی پی کے 20فیصد تک بڑھانا ہو گا، شوکت ترین

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے ٹیکس ڈائریکڑی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس سسٹم میں شفافیت لانے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ کلیکشن میں آسانی لانے کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹیکس کے نظام میں بہت پیچیدگی اور ابہام ہے، کوئی ٹیکس صوبہ لیتا ہے، کوئی ٹیکس ایف بی آر لیتا ہے، پیچیدگی اور ابہام ختم کرنےکے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی کوشش کررہے ہیں، صرف دو قسم کے ٹیکس ہونے چاہئیں، اس کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیکس کلچر بنانا ہے، معاشرے کی ترقی میں ٹیکس کا بہت اہم کردار ہے، ہر شہری کو ٹیکس دیناچاہیے۔ ہم نے سب کو ٹیکس دینا ہے کے اصول کو فالو نہیں کیا اسی وجہ سے مشکلات بڑھیں، کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہے، اپنے اخراجات بھی پورے نہیں کرپاتے، تبھی مزید ادھار لینا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم کسی کو ہراساں نہیں کرنا چاہتے بلکہ شفاف طریقے سے ٹیکس لینا چاہتےہیں، ڈیٹا اکٹھا کررہےہیں تاکہ ٹیکس کلیکشن میں بہتری آئے، اعدادوشمار کے مطابق ٹیکس لیں گے، افسوس کی بات ہے کہ 22کروڑ آبادی والے ملک میں صرف 30 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے نام ہیں جن کو ٹیکس دینا چاہیے اور ہم ان کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، جیسے جیسے ٹیکس نیٹ بڑھے گا ویسے ویسے ہم ٹیکس کی شرح کم کرتے جائیں گے ۔

شوکت ترین نے کہا کہ پائیدار ملکی ترقی اور معاشی نمو کے لیے آئندہ 6 برسوں میں جی ڈی پی کی شرح سے ٹیکسوں کی وصولی کو 20 فیصد تک بڑھانا ہو گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button