تازہ ترین

اومی کرون کے زیادہ کیسز والے علاقوں میں لاک ڈاؤن لگاناپڑ سکتا ہے

لاہور (03 جنوری 2022ء) سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اومی کرون کے زیادہ کیسز والے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے،بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن لگانے میں کوئی حرج نہیں، اومی کرون ڈیلٹا کی نسبت پھیلتا تیزی سے ہے لیکن بیماری کی شدت کم ہے۔انہوں نے ٹی وی سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی امی کرون کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اومی کرون وائرس ڈیلٹا کی نسبت کچھ اسٹڈی کے مطابق 4فیصد ، کچھ کے تحت 8 سے 10 فیصد تیزی سے پھیلتا ہے۔
جب کوئی چیز تیزی سے پھیلے گی اور اس کو روکا نہیں جائے گا تو وباء پھیلے گی۔ وباء پھیلنے کی وجہ ماسک نہ پہننا ، ویکسین نہ لگوانے سے ہے، بہت ضروری ہے لوگ اس بات کو سمجھیں کہ ایس اوپیز پر دوبارہ عملدرآمد سخت ہونا چاہیے۔
لوگوں میں وباء میل جول سے پھیلتی ہے، کچھ لوگ بیرون ملک سے وائرس لے کر آتے ہیں اور دوسرے لوگوں میں ٹرانسفر کردیتے ہیں۔

ہر نئی کورونا لہر کے ساتھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ویکسین کی ضرورت نہیں ہے، پہلی ویکسین ڈوزوالے فوری دوسری اور بوسٹر ڈوز والے بھی اگر عمر 30 سال سے زائد ہے تو فوری ویکسین لگوائیں۔ انہوں نے کہا کہ اومی کرون تیزی سے پھیلتا ضرور ہے لیکن بیماری کی شدت کم ہے،زیادہ شدت کی بیماری پیدا نہ کرنا خوش آئند بات ہے، ڈیلٹا میں جس طرح مریض ہسپتال میں داخل ہوئے اس طرح شاید اومی کرون میں مریض ہسپتال میں داخل نہ ہوں۔ جہاں کیسز زیادہ ہوں گے وہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانا پڑ سکتا ہے، بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہوتا ہے۔ جہاں زیادہ کیسز ہوں گے وہاں روکنے کیلئے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button