پاکستان

اسلام آباد کو فسادی جتھوں کی جانب سے گھیرائو اور دھرنوں سے ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی ہے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (این این آئی)وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو فسادی جتھوں کی جانب سے گھیرائو اور دھرنوں سے ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو محفوظ شہر بنانے کیلئے سیف سٹی منصوبہ کی 100 فیصد کوریج فوری یقینی بنائی جائیگی،

تمام درکار فنڈز فراہم کریں گے، تمام سیاسی جماعتیں ملک کو موجودہ حالات سے نکالنے کیلئے متحد ہیں صرف ایک جماعت اور ایک لیڈر ملک میں انارکی چاہتا ہے، تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور معاہدہ آئین پاکستان کے مطابق ہوسکتا ہے،اسلام آباد پولیس کی تنخواہیں اورمراعات پنجاب پولیس کے برابر کرنے کا دیرینہ مطالبہ فوری طور پر منظور کرلیا گیا ہے، اسلام آباد میں پولیس کیلئے پانچ ارب روپے کی لاگت سے 100 بستروں کا ہسپتال رواں مالی سال کے دوران تعمیر کیا جائے گا۔ ہفتہ کو سیف سٹی کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیف سٹی امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے،آبادی کا شہروں پر بوجھ اس کے علاوہ کنٹرول کرنا ممکن نہیں، بڑے شہروں میں اس کی اب بہت ضرورت ہے، اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے اور بدقسمتی سے یہاں سیف سٹی کو اپنانے میں کچھ تکنیکی خامیاں تھیں اس وجہ سے یہ منصوبہ نہیں چل سکا، اس وقت اس کی کوریج 30 فیصد ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی سال اس کوریج کو 100 کریں گے، فوری طورپرحساس اور اہم جگہوں پر کیمرے لگانے کے لئے 40 ملین روپے کی رقم حکام کو اداکردی گئی ہے، آئی جی اسلام آباد اور سیف سٹی کے انچارج سے کہا ہے کہ ایک ہفتہ میں فزیبلٹی سٹڈی بناکردے جو رقم درکار ہوگی وہ حکومت مہیا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو مبارکباد دینا چاہوں گا ، ہمارے شہدا جو دوران ملازمت وفات پاگئے یا دہشت گردوں سے نبرد آزما ہوتے شہید ہوئے ان کے ورثا کو 1 ارب 22 کروڑ روپے واجب الادا تھے، میرے پیش رو وزیر داخلہ ایک پریس کانفرنس گھر سے نکلتے اور ایک واپس جاتے کرتے تھے لیکن ، یہ قوم پر قرض ہے انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کے ورثا دفاتر کے اس کے لئے چکر لگا رہے تھے، یہ رقم چار سال ان کو

نہیں دی گئی یہ کوئی بڑی رقم نہیں تھی، اس پر شہدا کے خاندانوں سے معذرت خواہ ہیں کہ ان کو ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مالی حالات کے پیش نظر اس میں مزید تاخیر کی بجائے فوری ادائیگی کا کہا۔انہوں نے کہا کہ 100 بستروں کا ہسپتال اسلام اباد پولیس کو دے رہے ہیں، یہ منصوبہ 5 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا۔ابتدائی طور پر اس کیلئے 335 ملین جاری کردیئے۔ اس کا سنگ بنیاد

ایک ماہ میں وزیر اعظم رکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ رواں سال یہ منصوبہ مکمل ہو۔ یہ ہسپتال دیرینہ اور بنیادی ضرورت تھی یہاں شہید ہونے والے پولیس اہکاروں کے اہل خانہ کو علاج کی سہولت میسر آسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم، وزیر خزانہ، وزیر اقتصادی امور کا اس منصوبے کے حوالے سے مثبت رویہ اور اس منصوبے کی فوری منظوری پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،انہوں نے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود یہ خطیر

رقم دی۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ اسلام اباد پولیس کی تنخواہیں ومراعات پنجاب پولیس کے مساوی ہونی چاہیئں،دوسرے صوبوں سے اچھے آفیسرز اسلام آباد پولیس کا حصہ بنتے ہیں لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ تنخواہ کم ہوجائے گی۔ یہ مطالبہ پورا کردیا گیا ہے اسی بجٹ میں اسے پنجاب پولیس کے برابر کردیاگیا ہے۔ اس کے لئے تمام امور کے لئے ایک ارب روپے درکار ہوں گے۔ اس سے 738 ملین کا مالی

فرق پڑیگا۔ یہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی کی تنخواہیں کے پی پولیس کے برابر ہوں یہ پورا کردیا گیا ہے،28 ہزار ایف سی جوانوں کو دوران ڈیوٹی راشن الائونس باقی فورسز کے مساوی کردیا ہے، اس کے لئے 5 کروڑ روپے دے دیئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایف سی کے پاس اینٹی راڈ آلات نہیں تھے،اب2 ہزار ایف سی اہلکاروں کو اینٹی راڈ پولیس آلات اور تربیت کے لئے فنڈز دیئے جارہے ہیں۔اس کے لئے 667 ملین روپے کی رقم

انہیں مہیا کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ دوروز قبل بدنام زنامہ دہشت گرد، ڈاکو بلال ثابت جو بے شمار لوگوں کا قاتل تھا اور ایک ڈپٹی کمشنر کا قتل بھی اسی گینگ نے کیا، عسکری اور دیگر ایجنسیوں کی معاونت سے اسلام آباد پولیس نے اس کو جہنم واصل کیا، اس پر پولیس اور معاونت کرنے والے ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں ان کو کیش ایوارڈ دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیٹگری ایوارڈ ومیڈل کاسلسلہ 2018 سے بند ہے اس کو حکومت بحال کرنے

جارہی ہے۔آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لئے 140 ملین کی ابتدائی رقم دی گئی۔ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے انہیں مطلوبہ فنڈز مہیا کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو فسادی اور دہشت گرد ٹولہ نے اسلام آباد پر حملہ کیا، اس فسادی ٹولہ کو رینجرز، ایف سی اور اسلام آباد پولیس نے دلیری اور حوصلہ سے اس کو پسپا کیا۔اس پر فورسز کو سراہتے ہیں ان کی یہ کوشش نے وفاقی دارالحکومت کو نہیں بلکہ اس ملک کی جمہوریت

کو مستحکم اور محفوظ کیا، ان کی آپریشنل ضروریات پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، انہوں نے ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کی شیلنگ سے انہیں کنٹرول کیا اس پر ان اہلکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس فسادی ٹولہ کا یہ گلہ تھا اور وہ مجھے گالیاں دیتے رہے نے مجھ پرالزام تراشی کی آنسو گیس کے زائد المیعاد شیل پھینگے گئے یہ آنسو گیس میرے پیشرو وزیر داخلہ نے خرید کر رکھے تھے،اب ان کو تازہ، موثر اور

جدید چیزیں ملیں گی اگر ضرورت محسوس ہوئی،بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا نہ کریں کہ دوبارہ ایسی ضرورت محسوس ہو۔انہوں نے کہا کہ سرگودھا، راولپنڈی ڈویڑن اور اسلام آبادکو تین اطراف سے احتجاجی مظاہرین آسکتے ہیں، جہلم، اٹک اور میانوالی سے آسکتے ہیں اس کی میپنگ کردی گئی ہے مطلوبہ فنڈز فراہم کردیئے گئے،اب اس قسم کا فسادی جھتہ اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کرسکے گا۔ اسلام آباد کا گھیرائو اور ڈی چوک

جانے کی دھمکیوں سے اسلام آباد کو ہمیشہ کے لئے نجات مل گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس کلچر میں تبدیلی ہونی چاہئے،100 فیصد سیف سٹی کوریج اسی سلسلے کی کڑی ہے، یہ کوریج تھانوں کے اندر بھی ہوگی۔اس میں گزشتہ سالوں میں پولیس کلچر میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی ذہنیت کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے جو محسن بیگ جیسے صحافی کے حوالے سے تھانے کو احکامات دیکہ اس پر تشدد کرکے اس

کی ویڈیو بناکر وزیر اعظم آفس بھیجی جائے،اس قسم کی ذہنیت کا بھی خاتمہ ہونا چاہییے، تشدد کا کوئی معاشرہ اجازت نہیں دیتا اور اس کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ہم اس حوالے سے پرعزم ہیں۔سابق وزیر داخلہ کے بینر اتارے جانے بارے الزام کے سوال پرانہوں نے کہا کہ ہم نے کسی کے بینر نہیں اتارے، علم نہیں کہ بینر پر کیا لکھا تھا، ہوسکتا ہے کسی کو تحریر ناگوار گزری ہو۔اس بارے میں معلومات دیں گے اگر اس کی منظوری کرکے

لگائے گئے تو ثبوت دیں۔اگر پھر اترے ہیں تو ہم ذمہ دار ہیں اور اجازت نہیں لی گئی تو وہ ذمہ دار ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کی صوبائی اسمبلی کی نشست ہم جیت رہے ہیں تاہم وہاں کچھ مشکلات بھی ہیں، ان مشکلات کا ازالہ بہت جارحانہ انداز میں بوجوہ نہیں ہوسکتا، اداروں کی عزت مطلوب ہے اور ہم ان کی عزت کرتے ہیں کسی کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو گرفتاری

کا خوف نہیں تھا تو پشاور کیوں بیٹھے رہے اور ضمانت قبل ازگرفتاری کیوں کرائی اور ساری قیادت عدالتوں کے چکر کیوں لگا رہی ہے۔انہیں خوف تو ہے لیکن انہیں اپنے اعمالوں سے خوف ہونا چاہیے، افراتفری سے باز رہنا چاہئے،انہیں پرامن اور قومی سیاست کرنی چاہیے، پوری قوم ایک طرف کھڑی ہے اور سب لوگ مل بیٹھ کراس ملک کے معاشی و انتظامی وسیاسی حل کے لئے کوشاں ہیں یہ ایک جماعت الگ کھڑی ہے اور سب کو برابھلا کہہ

رہی ہے،اور افرتفری اور فتنہ کی سیاست کررہی ہے اسے اس سے باز آنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ایاز امیر پر حملہ افسوسناک ہے وہ بڑے منجھے ہوئے صحافی ہیں اس حملہ کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں،ان کو ٹریس کرکے ان کو گرفتار کریں گے اور ان کو قرار واقعی سزادیں گے،ان کی ایک دن پہلے کی ایک لیڈر پر تنقید وجہ ہوسکتی ہے تاہم اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اس ملک کی بہتری کے لئے سیاسی

اتفاق رائے اور میثاق معیشت کے لئے تیار ہیں، وزیر اعظم نے اس وقت کے وزیر اعظم کی موجودگی میں قائد حزب اختلاف ہوتے ہوئے میثاق معیشت کی پیش کش کی،بلاول بھٹو نے بھی ان کو تعاون کی پیش کش کی لیکن جواب میں وہ گالیاں دیتا رہا کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گااور آج اللہ کے فضل سے ایک وزیر اعظم اوردوسرا وزیرخارجہ بن گیا ہے۔ملک کو گڑے میں گرانے والا یہی ایک شخص اور پارٹی ملک کی تباہی چاہتا ہے،یہ ایک

فرد ملک میں انارکی اور انتشار پھیلانا چاہتا ہے،ایک بندہ اور جماعت ملک میں انارکی چاہتا ہے باقی ساری جماعتیں اس ملک کا بھلا اور خیر مانگ رہی ہیں، بلوچستان کی قوم پرستیں جماعتیں جن کو ملک کے ائین سے بھی گلہ تھا وہ بھی اب اس ملک کی خیر مانگتے ہیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم اور لیڈرنواز شریف نے اے پی ایس پر حملے کے بعددہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کیا عمران خان چار ماہ سے انہیں

گالیاں دے رہا ہے،اس کو فون کرکے دعوت دی کہ آئیں مل بیٹھ کر ملک کو اس بحران سے نکالیں،وہ قیادت تھی جس کے اتفاق رائے پیدا کرنے کی وجہ سے دہشت گردی ختم ہوئی،آج بھی اسی جذبہ کی ضرورت ہے لیکن ایک فرد کی وجہ سے قومی اتفاق رائے نہیں ہورہا۔اس شخص کی وجہ سے انتشار پایا جاتا ہے یہی شخص ملک کوقومی سطح پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔سابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب

میں انہوں نے کہا سابق وزیر اعظم کے خلاف ہم نے اپنی سفارشات ثبوت کے ساتھ کابینہ کو بھجوادی ہیں وہ اس کی منظوری دے گی تو مقدمہ درج کرلیں گے۔انہوں نے کہا کہ سیف سٹی 33 فیصد سے اسی سال 100 فیصد کوریج پر لے جائیں گے۔فوری ضرورت کے لئے 40 ملین روپے دے دیئے باقی بھی فوری دیں گے۔انہوں نے تحریک طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ مذاکرات چلتے رہتے ہیں،آئین سے ماورا نہ تو ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہوں گے اور نہ کوئی معاہدہ ہوگا۔جو بھی اس بارے میں پیش رفت ہوگی اس سے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا اور پھر اس پر قومی اسمبلی میں بحث ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button