پاکستانتازہ ترین

حکومت نے ٹیکس نوٹس بھیجنے کیلئے 15ملین لوگوں کا ڈیٹا نادراسے حاصل کر لیا

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نوٹس بھیجنے کیلئے 15ملین لوگوں کا ڈیٹا نادراسے حاصل کر لیا- اعتراض کرنے والے تھرڈ پارٹی سے رابطہ کریں،ہم کسی کو ڈنڈا نہیں ماریں گے ،پیار سے اور قانون کے دائرہ میں رہ کر ٹیکس وصول کریں گے- تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ 15ملین لوگوں کا ڈیٹا نادرا کی مدد سے مل چکا ہے ،اسی ماہ سے سب کو ٹیکس کے نوٹس بھیجے جائیں گے ،اعتراض کرنے والے تھرڈ پارٹی سے رابطہ کریں،ہم کسی کو ڈنڈا نہیں ماریں گے ،پیار سے اور قانون کے دائرہ میں رہ کر ٹیکس وصول کریں ،ایسا کرنے سے چھ سال میں جی ڈی پی ریشو پندرہ سے بیس تک چلی جائے گی،ٹیکس ڈائریکٹری اس لیے جاری کی کہ عوام کو پتہ ہو کہ کون کتنا ٹیکس دیتا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراکی تقریب سے خطاب کے دوران کیا،وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہحکومت اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس ڈائریکٹری کو کافی سالوں سے چھاپ رہی ہے ،ٹیکس کلچر کی شروعات اراکین پارلیمنٹ سے ہونی چاہئے ،اس سے پورے نظام میں شفافیت آئے گی،کسی معاشرے کی ترقی میں ٹیکس کا بڑا کردار ہوتا ہے ،74 سالوں میں 12.13 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی سے اوپر نہیں گئی,سب نے ٹیکس دینا ہے ، کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہئے ,جس کا جتنا زور لگتا ہے ٹیکس چھپاتا ہے ,شوکت ترین نے مزید کہا کہ جاری اخراجات کو بھی آمدن سے پورا نہیں کرسکتے ،ترقیاتی اخراجات کے لیے قرض لینا پڑتا ہے ٹیکسوں کو ہم آہنگ کرنا ایف بی آر کے لیے چیلنج ہے ،ٹیکسوں کو سادہ کرنا ہے ،ود ہولڈنگ ٹیکس اس لیے لیتے ہیں کہ ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکتے،دو قسم کے ٹیکس ہونے چاہئیں،آمدن اور اخراجات پر ٹیکس ہونا چاہئے،2 ملین لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں ،نادرا کے ساتھ مل کر ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں ،اب سے لوگوں کو نوٹسز بھیجنا شروع کردیں گے،اگر کسی کو اعتراض ہے تو تھرڈ پارٹی سے رابطہ کرے ،لوگوں کو ہراس نہیں کریں گے ،ڈنڈا کسی کو نہیں ماریں گے ،15 ملین لوگوں کا ڈیٹا مل چکا ہے ،6 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 15 سے 20 فیصد تک کریں گے ،چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ یہ اہم تقریب ہے اورپارلیمان کے ممبران کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کی جائیگی،کابینہ نے اس ٹیکس ڈائریکٹری کے جاری کرنے کی منظوری دی تھی، گزشتہ ڈائریکٹری صرف اراکین پارلیمنٹ کے نام، ٹیکس اور ایسوسی ایشن آف پرسن میں ان کے حصص کا ذکر تھا، نئی ڈائریکٹری میں اراکین پارلیمنٹ کی آمدنی سمیت زرعی آمدنی کو شامل کیا، زرعی آمدنی پر ٹیکس صوبوں کو جاتا ہے جس کی وجہ سے زرعی آمدنی پر ٹیکس شامل نہیں، جو بھی رکن پارلیمنٹ تصحیح کیلئے درخواست دے گا وہ تصحیح کردی جائے گی، ٹیکس ڈائریکٹری سال 2019 کی جاری کی جارہی ہے�

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button