پاکستان

خورشید شاہ نے ملکی معیشت کو سنبھالنے کا فارمولا بتا دیا

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ قرضوں میں جکڑے، مہنگائی میں گھرے پاکستان کو بچانے کیلئے مل بیٹھنا ہو گا۔ اپنے بیان میں سید خورشید شاہ نے کہاکہ یہاں تک کیسے پہنچے، سب قصور وار لیکن اب آگے کا سوچیں۔انہوںنے کہاکہ جلسے سب کرتے رہتے، عمران خان بھی کرتا رہے

، کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ یہ عمران خان کا مائنڈ ہے، اگر وہ ملک کی بہتری اسی میں سمجھتا ہے تو کرتا رہے۔ سید خورشید شاہ نے کہاکہ کیا ہم نے کبھی سوچا، اس ملک کے غریب عوام نے کیا قصور کیا ہے، 75سال ہو گئے، ہم آزادہونے کی بجائے غلام ہوتے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ جب ہم ابھی کچھ بھی نہیں بناتے تھے، مقروض نہیں تھے، جب ہم مقروض نہیں تھے،تب ہمارے پاس زراعت تھی۔ انہوںنے کہاکہ پینسٹھ کی جنگ ہوئی، اکہتر کی جنگ ہوئی، ہم تب بھی مقروض نہیں تھے،آج مقروض کیوں ہیں، کبھی سیاستدانوں نے مل بیٹھ کر اسے سوچا ہے، کیا سیاستدانوں، اداروں نے اپنے آپ کو جھنجھوڑا ہے کہ آج یہ حال کیوں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمارے پاس ایک آئین ہے، اس کا حشر بھی ہم وہ کر رہے جو پاکستان کی معیشت کا کیا،آج کل فیصلے آئین کے تحت نہیں، مشاورت کے تحت ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اس آئین کی اپنی اپنی تشریح کر کے آئین کی حیثیت ہی ختم کرنے کی طرف جا رہے،خدا کے واسطے اس آئین کو بچاؤ، پاکستان بچ جائے گا،اس سے بچیں کہ ہم آئین و قانون کی بجائے ہم کچھ اور کریں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ مجھے وزارت نہیں، پاکستان عزیز ہے، اگر وزارت میں کام کر رہا ہوں تو پاکستان کے لیے کر رہا ہوں۔

خورشید شاہ نے ملکی معیشت کو سنبھالنے کا فارمولا بھی دے دیا اور کہاکہ دعوے سے کہتا ہوں،دس سال زراعت کو سپورٹ کریں،ملک پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت کسی کی بھی ہو، زراعت کو سپورٹ کرنے کا دس سال سسٹم چلتا رہے،

آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں، یوریا پر سبسڈی واپس لے لیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ کاٹن کی قیمت آٹھ ہزار کر دو، گندم تین ہزار، سرسوں سات ہزار، کسان سترہ سو کی بجائے خوشی سے تین ہزار کی یوریا لینے پر تیار ہے۔سیدخورشید شاہ نے کہاکہ کھاد فیکٹریوں کو گیس سبسڈی ختم کر دو،

اس گیس سے دوسری صنعتیں چلیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھائیں، دو سو ارب روپے اضافی ملیں گے، میں جانتا ہوں، سگریٹ پر ٹیکس، یوریا پر سبسڈی واپس لینے کی بات کرنا آسان نہیں،کیوں نہیں لگایا جاتا سگریٹ پر ٹیکس، کون بچا رہا ہے انہیں۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ میں یہ بات کر کے دشمنی ملک کے لیے مول لے رہا،سگریٹ سے اتنا تو ٹیکس وصول کرو جس سے ہیلتھ بجٹ نکلے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ایک پیکٹ کم از کم چار ڈالر کا کر دو، جو نہیں افورڈ کر سکتا نہ پیے، یہ تو اور اچھا ہے، اچھا ہے لوگ بیماریوں سے بچیں گے،

صحت پر اربوں، کھربوں خرچ نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ میں کوئی فلاسفر نہیں، ایک سیاسی ورکر ہوں، ہمیں تو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا،دماغ دیا،سوچ دی۔ سید خورشید شاہ نے کہاکہ کیا ہم پاکستان کو ٹھیک نہیں کر سکتے،کیا مقروض ہونے سے نہیں بچا سکتے،

ایک پرندہ تنکا تنکا اکٹھا کر کے گھونسلہ بنالیتا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے، کیا ہم اس پرندے سے بھی کمتر ہیں، ایک وزیر کہہ رہے تھے ہمارے گلے میں بے غیرتی کا طوق پڑ گیا ہے جو آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے۔

انہوںنے کہاکہ بھائی کیوں پڑا ہے طوق، کس نے آپ کو دھکا دیا،ہمیں جہازوں پر چڑھنے کی بجائے اپنی سواری کو قبول کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پرائے محل کو دیکھ کر اپنی جھونپڑی کو آگ نہ لگائیں، قائد اعظم اور بھٹو نے ہمیں جو پاکستان بنا کر دیا وہ مقروض نہیں تھا۔

انہوںنے کہاکہ آج جو ہو رہا ہے اس پر غور کرنے کی بات ہے کیوں ہو رہا، ہم نے پارلیمنٹ کو عزت و احترام نہیں دیا۔ انہوںنے کہاکہ پچھلا وزیراعظم بھی پارلیمنٹ نہیں آتا تھا،

آج یہ ہمارا بھائی وزیراعظم بھی پارلیمنٹ نہیں آتا۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیشہ پارلیمنٹ کو طاقت دی، آج یہ بات نہیں ہے، آج رو رو کر بجٹ پاس کرتے ہیں،

گذشتہ حکومتیں بھی ہاتھ باندھ کر بجٹ پاس کرواتی تھیں،آؤ مل بیٹھ کر پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button