پاکستان

موجودہ دورکی جنرل رانی!!!حریم شاہ۔۔۔ اس کو کس نے کس کام کے لیے تیار کیا اور آج یہ اس کے لیے کسطرح گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے ؟نامور کالم نگار کی دلچسپ اور معنی خیز تحریر

ایک نیا معاشرہ وجود میں آرہا ہے۔ مجھ جیسے گوشہ نشینوں کو مگر اس کی خبر نہیں۔برسوں سے معمول یہی ہے کہ سورج ڈھلتا ہے تو گھر کی طرف رخ کرتا ہوں۔ غمِ روزگار نہ ہوتا تو شاید ہی گھر سے باہر قدم رکھتا۔ چند احباب ہیں جو پرانی وضع قطع کے ہیں اور میری مردم بیزاری کے

نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔!!!باوجود سماجی رشتہ نبھائے جارہے ہیں۔ ان کیلئے دعاگو رہتا ہوں کہ مجھے معاشرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ مجھ پہ ہوتا تو کب کا اجنبی ہوچکا ہوتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہیں لکھاہے کہ قیدِ تنہائی جسے لوگ سزا کہتے ہیں، میرے لیے نعمت ہے۔ میں، جو مولانا کے علم واخلاق سے کوئی نسبت پیدا نہیں کرسکا،

اسی پر شاداں ہوں کہ مولانا سے تنہائی پسندی کی نسبت تو ہے۔منگل کوایک عزیز دوست محبانہ اصرار کے ساتھ ایک ریستوران میں لے گئے جس کی شہرت یہ ہے کہ امریکہ کا مشہور پیزا وہاں ملتا ہے۔ اس پیزے کو ہماری سیاست میں جو شہرت ملی وہ بریانی کی پلیٹ اور قیمے کے پراٹھے سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے بھی اشتیاق ہوا کہ پاکستان کے وسائل اور امریکی ذائقے کے اس امتزاج سے لذت آشنا ہوا جائے۔ آخر اس میں کوئی بات توہے کہ لوگوں نے اس کیلئے ہر رسوائی برداشت کرلی۔ اس ذائقے کے احوال پھر کبھی، سرِدست توایک اور تجربے کا ذکر مقصود ہے۔ریستوران میں، کچھ دیر بعد ایک لڑکی اور لڑکا ہمارے قریب کی نشست پر آبیٹھے۔ لڑکی میری بیٹی کی عمرکی تھی۔ بیٹھتے ہی لڑکی نے سگریٹ سلگایا تو میں چونک اٹھا۔ میں نے دیکھاکہ دونوں کافی دیر چپ بیٹھے رہے۔ سگریٹ کے دھویں کے علاوہ، ان کے مابین کوئی ابلاغ نہیں ہوا۔ لڑکی پریشاں حالی کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔ میری نظراس کے چہرے پر پڑتی تواس کے خدوخال میری بیٹی کے نقوش سے گڈمڈ ہونے لگتے۔ میں پریشان ہوگیا۔ میرے دوست نے میرا چہرہ پڑھ لیا اورپھر اس نے جوبتایا، اس سے میرے رہے سہے

حواس بھی جاتے رہے۔یہ محض اتفاق تھاکہ منگل ہی کو ایک قومی روزنامے میں معروف صحافی شکیل انجم صاحب کا ایک کالم شائع ہو جس میں انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے جو نقشہ کھینچا، وہ اتنا خوفناک تھاکہ میں نے اسے صحافیانہ مبالغہ آرائی سمجھا۔ میرے ساتھ بیٹھا میرا دوست اس کالم کے حرف حرف کی نہ

صرف تصدیق کررہا تھا بلکہ اس نے جو بتایا، وہ اس سے کہیں زیادہ اور چونکا دینے والا تھا۔حاصل یہ ہے کہ اس ملک میں ایک نیا سماج وجود میں آرہا ہے۔ یہ اس سے بہت مختلف ہے جو دکھائی دیتا ہے۔ نئی نسل، امیر ہوکہ غریب، ایک نئی سوچ کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے جو میری نسل تک اجنبی تھی۔ وہ زندگی کو جس زاویہ نگاہ سے دیکھ رہی ہے، وہ باپ دادا سے بالکل مختلف ہے۔ مذہب، روایت جیسے الفاظ اس کیلئے بے معنی ہوچکے۔ وہ اب اس زندگی سے زیادہ سے زیادہ لذت کشید کرنا چاہتی ہے اوراسے اپنا حق سمجھتی ہے۔ وہ ان محرومیوں کو بوجھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں جسے ہمارا معاشرہ روایت اورمذہب کے نام پر، نسل درنسل منتقل کر تا چلا آیا ہے۔اس مشاہدے اور اپنے دوست کی معلومات نے سوچ کے ایک عمل کو مہمیز دی۔ دودن سے ذہن کے پردے پرایک تصویر بن رہی ہے جومتفرق بکھری ملاقاتوں، پڑھی کتابوں اوردیکھے مناظر کا حاصل ہے۔ یہ نسل اپنا اظہار سرِعام نہیں کرتی۔ یہ کہنا بھی شاید صحیح نہ ہوکہ یہ اکثریت کی سوچ بن چکی۔

شواہد مگر یہی ہیں کہ یہ وبا کی طرح تیزی سے پھیل رہی ہے۔ نئی نسل پرانی نسل سے کسی بحث میں الجھے بغیر اپنا راستہ تلاش کررہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وعظ ونصیحت کے بغیر، پرانی نسل کے پاس دینے کوکچھ نہیں۔ آسودہ حال خاندانوں میں دو دنیائیں وجود میں آچکیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ پرانی نسل نے نئی نسل کو قبول کرنا شروع کردیا ہے۔نور مقدم کیس کو ذرایاد کیجیے۔ یہ مقدمہ اس نئے معاشرے کی ایک دھندلی سی تصویر ہے۔ یہ آسودہ حال لوگوں کا قصہ ہے جہاں پرانی نسل اپنے انداز میں اورنئی اپنے طریقے سے زندگی کی لذتوں کواپنے دامن میں جمع کرنا چاہتی ہے۔ دونوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ دوسرا کیا کررہا ہے۔ دونوں نسلوں کے مابین عدم مداخلت کا ایک غیرتحریری معاہدہ ہو چکا۔ نور مقدم کی المناک موت نے مجھ جیسوں کو چونکا دیا ورنہ باخبر لوگوں کیلئے اس حادثے کے پس منظر میں جھانکتے واقعات میں کچھ انکشاف انگیز نہیں تھا۔آپ کی یادداشت میں دو نام اور بھی محفوظ ہوں گے: ایان علی اور حریم شاہ۔ یہ کردار کیسے ابھرے؟ یہ اسی متوسط طبقے کی نئی نسل کی نمائندہ ہیں جس کی خواہشیں بے لگام ہیں اور ان کی تکمیل کا کوئی مختصر راستہ موجود نہیں۔ ان کیلئے ایک ہی آسان راستہ ہے۔ آسودہ حال طبقے کی شاموں میں شامل ہو جائیں۔ یہ دو نام تو میڈیا نے نمایاں کردیئے۔ میرے ندیم کا اصرار ہے کہ یہ دونام نہیں، سرعت سے پھیلتی سماجی تبدیلی کا ایک حقیرسا اظہار ہے۔

بڑے شہروں میں اب یہ رویہ ایک روایت میں ڈھلتا جارہا ہے۔فکر کا عمل آگے بڑھا تو ذہن میں اس قیاس نے جگہ بنائی کہ بڑھتے معاشی تفاوت اور میڈیا کی معرفت پھیلتی، لذتیں سمیٹنے کی بے لگام خواہش نے جہاں نئی نسل کے ایک حصے کو نئی سماجی اقدار کی راہ دکھائی ہے وہاں دوسرے نصف کو مذہبی انتہا پسندی کی پستیوں میں جا دھکیلا ہے۔ زندگی کی تلخیوں سے نجات کا آسان راستہ جو خودکشی سے قدرے بہتر ہے۔ ایک جوا… بچ نکلے تو ہیرو جن پر گھن برسنے لگتا ہے۔محض وعظ ونصیحت اس تبدیلی کو نہیں روک سکتے۔ انسانی تاریخ کا سبق کچھ اورہے۔ سماجی استحکام اس بات پر منحصرہے کہ ایک معاشرہ انسان کے فطری مطالبات کی تکمیل اور سماجی نظم میں کیسے توازن پیدا کرتا ہے۔ وہ سماجی نظم کواتنا سخت گیر نہیں ہونے دیتاکہ انسان ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی گھٹن کا شکار ہوجائے۔ وہ فردکو بھی اتنا بے لگام نہیں ہونے دیتاکہ اس کے ہاتھوں سماجی نظم کی سلامتی خطرات میں گھرجائے۔ اس کیلئے معاشی تفاوت کو کم کرنا اوراظہارِ ذات کے امکانات کو یقینی بنانا لازم ہے۔ اس کے ساتھ سماجی اقدار کے استحکام کیلئے ایسی جدوجہد بھی لازم ہے جس کے نتیجے میں یہ اقدار فرد کی شعوری شخصیت کا حصہ بن جائیں۔منافقانہ سماجی رویے اِس سماجی تبدیلی کو صرف مہمیز دیتے ہیں جو ہم نے اپنالیے ہیں۔ میں خود تواندھیرے اجالے چوکتا نہیں اور ساتھ ہی چاہتا ہوں کہ میرے بچے حسنِ کردار کا نمونہ ہوں۔ ایک طرف گانے سنوں اور دوسری طرف موسیقی کی حرمت کا فتویٰ دوں۔ اظہارِ رائے پر پابندی ہو اور ساتھ ہی یہ خواہش بھی ہوکہ نئی نسل تخلیقی ذہن کی حامل ہو۔ اب یہ نہیں چلے گا۔ سماج کے اونٹ کواب کسی ایک کروٹ بیٹھنا ہوگا۔اُس اداس شام کو جب میں ریستوران سے اٹھا تو وہ نئی نسل کے لوگوں سے بھرچکا تھا۔ میں نے ان کو دیکھا تھا توایک بار پھر چونک اٹھا۔ ان کی نظروں میں میرے لیے شناسائی کی کوئی جھلک نہیں تھی۔ جیسے میں ان کے لیے اجنبی ہوں۔ میرا اور ان کا کوئی رشتہ نہ ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button