پاکستان

میں تو نائب کپتان ہوں ، پی ٹی آئی چھوڑنے کی خبروں پر شاہ محمود قریشی کا موقف آگیا

ملتان(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میں میری شمولیت جوتی کی نوک پر ہے، پراپیگنڈہ کرنے والے منہ کی کھائیں گے،اب میں پی ٹی آئی فیملی اور عمران خان کا نائب کپتان ہوں، مجھے تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل نوازشریف اور آصف زرداری کی دعوت تھی ، میں نے سوچ سمجھ کر عمران خان کا ساتھ دیا

اور ہمیشہ ساتھ رہونگا،عمران خان نے واضح طور پر کہا تھا اگر شاہ محمود قریشی ایم پی اے بن جاتے توپنجاب کے وزیراعلیٰ ہوتے،کارکنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ڈٹ کر کھڑا ہے اب نائب کپتان،میں اور میرا پورا خاندان عمران خان کے ساتھ ہے،میں حقیقی آزادی کے حصول اورملک کو غلامی سے نجات کے لئے عمران خان کی قیادت میں جدوجہد جاری رکھوں گا،راجہ ریاض کو قائد حزب اختلاف کہتے ہوئے شرم آتی ہے، راجہ ریاض کہہ رہا ہے میری زرداری سے ملاقات ہوئی اورمیں پیپلز پارٹی میں جا رہا ہوں، میں کہتا ہوں میری جوتی جاتی ہے پیپلز پارٹی میں،ن لیگ نے ساری ٹکٹیں لوٹوں کو دی ہیں،پی پی 217سمیت 20حلقوں میں عوام لوٹوں کو مستردکریں گے،ہم ضمنی الیکشن میں قانون کی مکمل پاسداری کریں گے لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے، پی پی217میں پری پول دھاندلی کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو باضابطہ درخواست دیدی ہے۔ ابالیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ ہماری درخواست پر کارروائی کرے کیونکہ ہم نے یہ ثبوت پیش کئے ہیں کہ ہمارا مخالف امیدوار سرکاری وسائل کابے دریغ استعمال کر رہا ہے، ہم ساری الیکشن مہم پر امن چاہتے ہیں یہ ہمارا پہلا الیکشن نہیں ہے،ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔

حمزہ شہباز کی ہدایت پرپورے پنجاب میں سرکاری مشینری دھاندلی کیلئے استعمال ہو رہی ہے،اوپی پی 217میں تین مختلف مقامات پرہمارے کارکنوں پر حملے ہو چکے ہیں، زین قریشی کے مد مقابل امیدوار کو بچے گلیوں میں لوٹا لوٹا کہتے ہیں تو میرا کیا قصور؟ میں نہیں کہ رہا مریم نوازشریف خود کہہ رہی ہیں لوٹوں کا ساتھ نہ دینا انکا مقام غسل خانہ ہے،لوگ پوچھ رہے ہیں کہ

کیا اب یہ لوٹے ڈرائنگ روم کے قابل ہوگئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے گزشتہ روز ممتاز آباد میں اعجاز خان بابر اورعدیل ہاشمی کے زیر اہتمام میڈیا سے بات چیت اورکارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ ندیم قریشی‘ سبین گل‘مہندر پال سنگھ‘معین ریاض قریشی‘ اعجازجنجوعہ‘ خالدجاوید وڑائچ‘دبیرہاشمی‘

مہتاب گردیزی سمیت اہلیان علاقہ کی کثیرتعداد موجود تھی۔مخدوم شاہ محمودقریشی نے مزید کہا اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، گزشتہ روز تاریخی جلسہ ہوا جس نے ماضی کے ریکارڈ توڑ دیے جبکہ جلسہ میں صرف مقامی لوگ ہیشامل تھے۔قوم نے عمران خان کے بیانیے امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کر لیا ہے، لوگوں نے دیکھ لیا یہ آزمائے ہوئے چہرے ہیں، ان کو دوبارہ نہیں آزمایا جاسکتا۔

تین ماہ میں مہنگائی نے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ان کی نالائقی سامنے آچکی ہے۔ ان میں ملک چلانے کی اہلیت نہیں۔ جس کی وجہ سے قوم نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کے نزدیک ضمنی الیکشن ان کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اسی لئے انہوں نے ساری انتظامیہ کو اس الیکشن میں جھونک دیا ہے لیکن عوام اور کارکن باشعور ہیں اور وہ کسی کو دھاندلی کی اجازت نہیں دیں گے۔

اگر الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر فیصلہ کردیتا ہے کہ تو پنجاب میں ہمیں برتری حاصل ہوگی ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 173‘ جبکہ مسلم لیگ اور ان کے اتحادیوں کی تعداد 172 ہے۔ اسطرح اگر ضمنی الیکشن میں 20نشستیں پی ٹی آئی نے حاصل کی توپنجاب سے ان چوروں‘لٹیروں کا صفایاہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے

حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلی نہیں ہیں ہم نام تلاش کررہے ہیں کہ ان کو نگران کہیں یا کیا نام دیں۔میں امید ظاہر کرتا ہوں پنجاب انتظامیہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ضمنی انتخاب میں مداخلت نہیں کریگی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی میں ملتان کی تمام انتظامیہ کو فراہم کرونگا اور ان سے کہوں گا کہ وہ غیر جانبدار رہیں اس سلسلے میں کمشنر ملتان جو کہ میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں

ان سے کہوں گاکہ وہ کارپوریشن کے عملے کو ہمارے بینر اتارنے سے روکیں۔ اور کارپوریشن کے انسپکٹر محبت خان جو ہمارے بینر اتارنے کی کارروائی کی نگرانی کررہا ہے کو ہدایت کریں کہ وہ ایسی کارروائی سے باز رہے۔ مجھے توقع ہے کہ کمشنر ملتان اس کا نوٹس لیں گے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم الیکشن میں پر امن ماحول چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں

عوام منظم طریقے سے اپنے من پسند امیدوار کو ووٹ دیں۔ ہم ہار جیت سے نہیں گھبراتے۔ انہو ں نے کہا ہر گھر میں ماں اور بہنیں ہیں۔ میں ان کے لب و لہجے پر حیران ہوں۔میں تارڑ اور دیگر قائدین کے خاتون خانہ جن کا سیاست سے تعلق نہیں جو گھر پر اللہ اللہ کرتی ہیں ان کے خلاف باتوں کی مذمت کرتا ہوں۔

پی ٹی آئی کے نوجوانوں کو جواب دینا آتا ہے۔لیکن میں پی ٹی آئی کارکنوں کوکہتا ہوں شائستگی کے دامن کو نہ چھوڑیں۔ ہم میں حوصلہ بھی ہے برداشت بھی ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں اچھا ٹرن آؤٹ دیکھ رہا ہو ں او رمجھے توقع ہے کہ یہ الیکشن عام ضمنی الیکشنوں سے مختلف نتائج دیگاکیونکہ یہ نظریات کاالیکشن ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

پی ٹی آئی 217کے امیدوار مخدومزادہ زین حسین قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو اپنی صفوں سے امیدوار نہیں مل سکا۔ مسلم لیگ نے امپورٹڈ امیدوار سلمان نعیم کو میدان میں اتارا۔ہمارا مخالف امیدوار لوگوں کو خریدنے کی کوشش کررہا ہے لیکن پی پی 217 کے لوگ بکنے والے نہیں۔

سلمان نعیم کو سترہ جولائی کو جب شکست ہوگی تو انہیں معلوم ہوگا کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ آپ سترہ جولائی کو عمران خان کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے گھروں سے باہر نکلیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تحریک انصاف 17 جولائی کو کامیاب ہوگی۔

زین قریشی نے کہا کہ انتخابی مہم میں عوام اور کارکنوں نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے۔ مجھے توقع ہے جس طرح کارکن انتخابی مہم میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں اسی طرح 17 جولائی کو بھی پولنگ سٹینشوں پر پہنچ کر بلے کے نشان پر مہرلگائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button