اسلامک کارنر

م۔ی۔ت صدقے کو کیوں زیادہ ترجیح دیتی ہے

م.وت کیا ہے۔سب سے پہلے میری م.وت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا!اس لئے جب میں م.رجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ” ل.ا.ش کہاں” ہے؟اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔!اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے “ج.نازہ لےآؤ “!!! میرانام نہیں لینگے ۔۔!اور جب میرے د.ف.نانے کا وقت آجائےگا تو کہیں گے

“م.ی.ت کو ق.ری.ب کرو” !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔!اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے :1۔ جو لوگ تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔2۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنیباتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔ 3۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کو ہوگا جو کہ ہفتہ، دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا ۔

اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کے پنوں میں رکھ دیں گے!لوگوں کے درمیان تیرا قصہ ختم ہو جاۓ گااور تیرا حقیقی قصہ شروع ہو جاۓ گا۔ وہ ہے آخرت کا ۔تجھ سے چھین گیا تیرا ۔۔۔1۔ جمال ۔۔۔2۔ مال۔۔3۔ صحت۔۔4۔ اولاد ۔۔5۔ جدا ہوگئےتجھ سے مکان و محلات۔6۔ بیوی ۔۔۔7۔ غرض ساری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ باقی نہ رہا تیرے ساتھ سوائے تیرے اعمال کے۔اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوا ۔اب سوال یہاں یہ ہیکہ :تو نے اپنی ق.بر اور آخرت کے لئے اب سے کیا تیاری کی ہے ؟یہی حقیقت ہے جسکی طرف توجہ چاہئے ۔۔اس کے لیے تجھے چاہئے کہ تو اہتمام کرے :1۔ فرائض کا2۔ نوافل کا3۔پوشیدہ صدقہ اور صدقہ جاریہ کا۔۔۔۔۔4۔ نیک کاموں کا5۔ رات کی نمازوں کاشاید کہ تو نجات پاسکے۔

اگر تو نے اس مقالہ سے لوگوں کی یاددہانی میں مدد کی جبکہ تو ابھی زندہ ہےتاکہ اس امتحان گاہ میں امتحان کا وقت ختم ہونے سے تجھے شرمندگی نہ ہو اور امتحان کا پرچہ بغیر تیری اجازت کے تیرے ہاتھوں سے چھین لیا جائے اور تو تیری اس یاددہانی کا اثر ق.ی.ام.ت کے دن تیرے اعمال کے ترازو میں دیکھےگا (اور یاددہانی کرتے رہئے بیشک یاددہانی مومنوں کو نفع دیگا)م.ی.ت صدقہ کو کیوں ترجیح دیتی ہے اگر وہ دنیا میں واپس لوٹا دی جائے۔۔جیسا کہ قرآن میں ہے۔“اے رب اگر مجھے تھوڑی دیرکے لئے واپس لوٹا دے تومیں صدقہ کروں اور نیکوں میں شامل ہو جاؤں (سورة المنافقون )یہ نہیں کہیگا کہ۔۔عمرہ کروں گانماز پڑھوں گاروزہ رکھوں گاعلماء نے کہا کہ :م.ی.ت صدقہ کی تمنا اس لئے کرے گی

کیوں کہ وہ مرنے کے بعد اس کا عظیم ثواب اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔اس لئے صدقہ کثرت سے کیا کرو- بیشک مومن ق.ی.ام.ت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button