اسلامک کارنر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

انسان کی شخصیت، اس کے عادات واطواراور افعال اورکردارسے نمایاں ہوتی ہے۔ انسان فطری طورپراپنا مصاحب اور دوست بھی انہی کو بناناپسند کرتاہے جو معاشرے میں اچھے ہوتے ہیں اوربرے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرتاہے۔ فارسی مثل مشہورہے’’صحبت طالع تراطالع کند‘‘، اور جاپانی مقولہ ہے’’جب کسی شخص کا کردارتم پرواضح نہ ہوتواس کے دوستوں کو دیکھو‘‘۔

اس سے اس کے معیارکا پتہ چلتاہے اس لئے معمولی سے معمولی عقل وشعور رکھنے والا انسان کبھی برے لوگوں کو ا پنا دوست بناناپسند نہیں کرتا بلکہ اس کی فحش باتوں اوربرے کاموں سے بچنے کے لئے اس سے دوری اختیارکرنے میں اپنی بھلائی محسوس کرتاہے۔نبی کریم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن محبت اورالفت کاحامل ہوتاہے اوراُس شخص میں کوئی خوبی اوربھلائی نہیں جونہ خودمحبت کرے اورنہ لوگوں کواس سے الفت ہو۔‘‘(مسند احمد،بیہقی شعب الایمان)۔احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ نبی نے جہاں اچھے لوگوںکے اوصاف اورخوبیاں بیان کی ہیں وہیں برے اورناپسندیدہ لوگوںکی بھی پہچان بتادی ہے تاکہ ایسے لوگوںسے دوررہاجاتاہے۔

اس سلسلے میں ایک اصولی بات یہ ہے کہ ہروہ انسان جس میں کسی طرح کی خیرکی امید نہ رکھی جائے حتیٰ کہ اسکے شرسے بھی لوگ محفوظ نہ ہوںتووہ شخص بدترین انسان مانا جائے گاکیونکہ ایسی صورت میں وہ معاشرے کے فسادوبگاڑکا سبب بنے گا۔نبی کریم کا فرمان ہے: ’’تم میں بدترین شخص وہ ہے جس سے دوسرے لوگوں کونہ خیرکی امیدہو نہ اسکے شرسے لوگ محفوظ ہوں۔‘‘ (ترمذی ،باب الفتن)۔بسااوقات انسان کسی برے شخص سے ملتا ہے مگراسکے ساتھ بہترانداز سے پیش آتاہے ،اس سے گمان ہونے لگتاہے کہ وہ معاشرے کا بہترین فردہوگا حالانکہ وہ بدترین انسان ہوتا ہے۔نبی کریمنے ایسے شخص کی وضاحت فرمادی ہے۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم سے ملاقات کی اجازت چاہی ،

آپ نے فرمایاکہ اسے آنے کی اجازت دیدو،ساتھ ہی یہ بھی فرمایاکہ وہ معاشرے کا براانسان ہے۔جب وہ داخل ہواتوآپ نے ان سے نرم گفتگوکی ، اس کے جانے کے بعد حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا:اے اللہ کے رسول! آپ نے تواس کے سلسلے میں ایسا ایسا فرمایاتھا جبکہ آپ نے اس سے گفتگومیں نرمی اختیارکی۔ حضرت عائشہ ؓ سے نبی کریم نے ارشادفرمایا: ’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قدرومنزلت میں سب سے براانسان وہ ہے جس کے شراورفحش کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑ دیں یا اس سے دوری بنالیں۔‘‘(بخاری)۔

معلوم ہوا کہ معاشرے کے ایسے بدترین لوگوں کی شناخت واضح کرنا جوعلی الاعلان فسق وفجورکا ارتکاب کرتے ہیں اُسے غیبت میں شمارنہیں کیاجائیگا کیونکہ یہاں مقصود ہجونہیں بلکہ لوگوںکواسکے شرسے محفوط رکھنا ہے۔آئندہ سطروںمیں انسانوں کی مزیدچند علامتوں کا ذکر کیاجارہاہے جنھیں نبی نے بیان کیاہے تاکہ لوگ اُن سے دوررہیں اوراچھے برے کی تمیز کر سکیں۔ نبی کریم نے فرمایا: ’’تم قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدترین انسان انہیں پاؤگے جو دورخی اختیارکرتے ہیں۔‘‘(بخاری)۔آپ نے اس کی مزیدوضاحت ان الفاظ میں فرمائی: ’’یقینابدترین شخص وہ ہے جودومنہ رکھتاہو،کچھ لوگوں کے پاس ایک منہ لے کرجاتاہے اورکچھ لوگوںکے پاس دوسرامنہ لے کرجاتاہے۔‘‘(مسلم)۔

ایسا شخص سچ اورجھوٹ کوملاکر لوگوں میں فساد وبگاڑپیداکرنے کی کوشش کرتاہے۔اسی وجہ سے اسے نفاق کی علامت قراردیا گیاہے۔ ایسے لوگوں کوانسانیت کا دشمن اورمعاشرے کا ناسور سمجھاجاتاہے۔ایسا شخص لوگوں کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگارہتاہے تاکہ ان کی اطلاع دوسرں کو دے۔اس طرح ان کے مابین قطع تعلق کا سبب ہے۔اسی وجہ سے اس کا دل حسداورکینہ کی آگ میں جلتارہتاہے۔امام غزالیؒ نے دوطرفہ باتیں بنانے والے کوچغل خوری کی خصلت سے بھی بدتر بتایا ہے۔ چغلی میں آدمی صرف ایک کی بات کودوسرے کے یہاں نقل کرتاہے

جبکہ یہاں دوطرفہ مخالفانہ باتیں پہنچائی جاتی ہیں۔قیامت کے دن ایسے شخص کے پاس دوانگاروں کی زبان ہوگی۔ ایسے شخص سے متعلق نبی کا ارشاد ہے: ’’جو شخص دنیامیں دوچہرے رکھتاہوگا،قیامت کے دن اس کے منہ میں دوانگاروںکی زبانیں ہوگی۔‘‘(ابوداؤد)۔ آپ نے ایسے بدترین شخص کی مزید وضاحت فرمائی : ’’اللہ کے بندوں میں برے وہ لوگ ہیں جوچغل خوری کرتے ہیں،محبت کرنے والوںکے درمیان تفرقہ ڈالتے ہیں اور بھلے لوگوںمیں عیب تلاش کرتے ہیں۔‘‘( مسنداحمد)۔اس حدیث میں رسول اللہ نے بدترین شخص کی 3 علامتیں بتائی ہیں: «

ایک یہ کہ وہ چغل خوری کرتا ہے تاکہ ایک شخص کی عیب جوئی کے سبب دوسرااس سے بدگمانی کا شکار ہوجائے۔ ایسے شخص کے متعلق ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’چغل خورجنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ (بخاری ومسلم)۔ « دوسرا وہ شخص ہے جو لوگوں کے مابین محبت واخوت کو اختلاف وانتشارکے ذریعے تارتارکرنے کی کوشش کرتاہے۔ « تیسرا شخص وہ ہے جواس فکرمیں لگارہتاہے کہ کسی نیک آدمی میں کوئی عیب نکال کر اسے پھیلادے تاکہ لوگوں میں اس کی رسوائی ہو۔بہ الفاظ دیگروہ دوسرے انسانوں کی رسوائی کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ تمام انسانوں کاخالق و مالک اللہ ہے۔ وہی انسان کی ضرورتوںکوپوری کرتاہے ، لہذاانھیں اسی کے سامنے سجدہ ریزہونا چاہیے

نہ کہ اللہ کے بالمقابل کسی دوسرے کوحاجت رواتسلیم کیا جائے ،جیساکہ مزاروںپر دیکھنے کوملتاہے ۔یہ بندے کی سب سے بڑی سرکشی ہوگی ،ایسے شخص کو بھی حدیث میں بدترین انسان کہاگیاہے۔آپ کا ارشادہے : ’’بدترین انسان وہ ہے جوقبروںکومساجد(عبادت گاہ) بنالیتے ہیں۔‘‘(مسنداحمد)۔ اس کائنات میں بہت سے انسان ایسے بھی ہیں جودوسروں کی دنیا بنانے میں بھول جاتے ہیں کہ وہ جوکچھ کرر ہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط ؟ اس طرح ان کی آخرت تباہ وبربادہوجاتی ہے۔ ان کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبے میں برے لوگ وہ ہوںگے جو دوسرں کی دنیا بنانے میں اپنی آخرت خراب کرلیں گے۔‘‘ قیامت کی علامتوں میں سے ہے:

برائیاں عام ہوجائینگی اوران کا اتناچرچاہونے لگے گا کہ لوگ برے کاموں کوبرانہیں سمجھیں گے ، اس طرح برے لوگوں کی کثرت ہوجائے گی۔اسی بات کی پیشن گوئی کرتے ہوئے پیارے نبی نے ارشادفرمایا: ’’برے لوگوں پر پر قیامت کا وقوع ہوگا۔‘‘( بخاری)۔ مذکورہ تمام احادیث سے ایسے بدترین لوگوں کی شناخت بتائی گئی ہے جس کے متعلق آپ نے شرالناس ،شرارالناس ، شرارعباداللہ وغیرہ کہہ کرو ضاحت فرمائی ہے۔ ان کے علاوہ جھوٹ ،غیبت ،بدکاری وبداخلاقی وغیرہ جیسے عمل کے مرتکب لوگ بھی بدترین انسان ہیں کیونکہ ایسے لوگوں سے بھی خیرکی توقع نہیں کی جاتی اورنہ اس کے شرسے لوگ مامون نہیں ہوتے لہذا وہ بھی بدترین انسان ہیں جن کو حدیث میں براکہاگیاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button