اسلامک کارنر

نبی کریم ﷺ نے صحابی کا ہاتھ پکڑ کر کہااپنے نفس کو شیطان سے بچانے کے لئےیہ دعا

نبی کریم ﷺ کے پاس ایک صحابی آئے۔ ان کا نام شکل بن حمید رضی اللہ عنہ تھا۔ شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کے پیارے پیغمبر۔ ش یطان سے بھی بچ گیا۔ گن اہوں سے بھی بچ گیا۔ ہم اپنی شرارتوں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اب کسی کو کہہ کر دیکھیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ آپ کی شرارت سے بچائے۔ وہ آپ سے اگلے چار پانچ دن بات نہیں کرے گا۔ کہ آپ نے کیا کردیا؟ یہ شریعت کہہ رہی

ہے۔ ہماری شرارت ہمارے نفس کی بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے توا للہ کے رسول نے صحابی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اپنائیت دی۔ محبت دی۔ اور فرمایا: تم نا یہ دعا پڑھ لو۔ “اللھم انی اعوذبک من شر سمیع ” ۔ یا اللہ! میں غلط سنوں بھی نا۔ غیبت، چغلی ، گالیاں، گانے ، الہادی کلمات، کفریہ ، شرکیہ ، بدعت کلمات ، یا اللہ مجھے سننے کی توفیق ہی نہ دے ۔”اعوذبک من شر سمیع ومن شر بصری” یا اللہ! میری آنکھ کی شرارت سے بھی بچا۔ میں غلط دیکھوں ہی نا۔ “واعوذبک من شر لاسانی” یااللہ! میری اس زبان کی شرارت سے بچا میں غلط بولوں ہی نا۔ “واعوذبک من شر قلبی “یا اللہ! دل کی شرارت سے بھی مجھے بچا۔ میں غلط سوچوں بھی نا۔ میرے ارادے ، میری نیتیں ، میرے تفکرات، نظریات اور میرے افکار اتنے پاکیزہ بنا دے۔ جو تجھے راضی کرنے والے ہوں۔ غلط نظریہ ، غلط سوچ میرے دل میں نہ آئے ۔ دل

کی شرارت سے بھی پناہ مانگتا ہے۔”واعوذبک من شر منی ” اللہ ! پھر تونے مجھے طاقت دی ہے۔ پھر اس کوصیحح استعمال کرنے کی توفیق دے۔ یا اللہ! میری طاقت کی شر سے بھی مجھے محفوظ فرما۔ عہدہ مل گیا۔ کسی بیچارے کو جاب لیس کروادیا۔قلم ہاتھ میں ہے۔ کسی کو جیل بھجودیا۔ قلم ہاتھ میں کسی کو جرمانہ کردیا۔ قلم ہاتھ میں ہے۔ کسی کو مجر م قرار دے کر پھانسی پر لٹکو ا دیا۔ قلم ہاتھ میں ہے یا ہاتھ میں نہیں ہے۔ ہاتھ میں بندوق ہے۔ بازوؤں میں قوت ہے۔ اوزرات ہیں۔ کسی کو ق تل کردیا۔ کسی کو ماردیا۔ اللہ قوت جو ہے۔ اس کی شرارت سے مجھے محفوظ فرما۔ یہ پانچ دعائیں چھوٹی چھوٹی ایک ہی حدیث میں جمع ہیں۔ جب انسان یہ دعائیں کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان پانچوں زاویوں کی شرارت سے محفوظ بنا دیتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button