تازہ ترینلائف سٹائل

معین اختر نے ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی تھی، تابش ہاشمی

معروف میزبان تابش ہاشمی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں لیجنڈری اداکار معین اختر نے ایک ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی تھی مگر انہوں نے اپنے پروفیسر کی ہدایت پر معین خان کے ساتھ کام سے معذرت کی۔
تابش ہاشمی حال ہی میں احسن خان کے شومیں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے نہ صرف اپنے کیریئر پر بات کی بلکہ انہوں نے کئی واقعات سے پردہ بھی اٹھایا۔

پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا شو دیگر شوز سے الگ ہے کیونکہ یہ ان کا پروگرام ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر ہوتا ہے، جہاں بولنے کی کوئی پابندی نہیں، اس لیے ان کے شو میں لوگوں سے واضح انداز میں سوالات پوچھے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کھل کر بات کرنے کی وجہ سے کبھی کبھار ان کے شو میں کی گئی باتیں اسکینڈل بھی بن جاتی ہیں۔

تابش ہاشمی نے پروگرام کے دوران حال ہی میں اپنے شو میں شریک ہونے والی ٹک ٹاکر حریم شاہ کے معاملے پر بھی بات کی اور بتایا کہ وہ شیخ رشید کا نام نہیں لینا چاہتے تھے مگر جلد بازی میں انہوں نے وزیر داخلہ کا نام لے لیا تو حریم شاہ نے خود ہی کہا کہ وہ ابھی براہ راست انہیں فون کرکے دیکھتی ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے حریم شاہ فون نہ کرنے سے نہیں روکا، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہمذکورہ معاملے سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھے گی اور کون نہیں چاہتا کہ ان کا پروگرام مشہور نہ ہو۔
تابش ہاشمی نے بتایا کہ کامیڈی کے میدان میں ان کا سفر سال 2004 میں اس وقت شروع ہوا جب وہ انجینئرنگ پڑھ رہے تھے، اس دوران انہوں نے یونیورسٹی میں پرفارمنس کی تھی، تاہم بعد ازاں وہ شوبز سے دور ہوگئے اور دوسرے شعبے میں ملازمت اختیار کرلی۔

میزبان نے بتایا کہ پھر 2008 میں فلم ساز اظفر رحمٰن نے انہیں ایک فلم میں کام کرنے کی پیش کش بھی کی مگر انہوں نے معذرت کرلی، جس پر ہدایت کار ان سے ناراض بھی ہوگئے اور ان کے درمیان تقریبا ایک دہائی تک بات چیت نہ ہوئی۔

تابش ہاشمی کے مطابق جب پھر 2017 میں وہ دوبارہ اظفر رحمٰن سےملے تو انہوں نے انہیں ٹاک شو کرنے کی پیش کش کی اور اس بار وہ انکار نہ کرسکے ۔

میزبان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 2018 میں انہوں نے ’ٹو بی آنیسٹ‘ کی پہلی 6 اقساط ریکارڈ کیں، جنہیں لوگوں نے خوب سراہا، کیوں کہ پاکستان میں اس طرح کے شو پہلے کبھی نہیں بنے تھے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مذکورہ شو ریکارڈ ہونے کے ایک سال بعد ریلیز ہوئے تھے، تب میں کینیڈا جا چکا تھا اور وہاں اپنی آپ کو کامیاب کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس دوران میں پاکستان میں ہٹ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ’بچپن میں مجھ میں اعتماد کی بہت کمی تھی میں صرف اپنے آپ سے بات کرتا تھا کہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ باتیں کرتے تھے اور میرے پاس جواب ہوتا تھا لیکن انہیں جواب دینے کا اعتماد نہیں ہوتا تھا۔

تابش نے بتایا کہ سالوں باتیں جمع ہوتی رہی جو اب نکل رہی ہیں۔
پروگرام میں مزید بات کرتے ہوئے تابش ہاشمی بتایا کہ جب وہ طالب علم تھے تب معین اختر ان کی یونیوسٹی میں آئے تھے اور انہوں نے معین اختر کے ساتھ پرفارمنس کی، جس کے بعد معین اختر نے انہیں اپنے ساتھ کام کرنے کی پیش کش بھی کی لیکن یونیورسٹی کے پروفیسر کی نصیحت کے باعث انہوں نے ان کے ساتھ کام نہیں کیا۔

ان کے مطابق ان کے استاد نے انہیں کہا تھا کہ معین اختر ایک بڑے آرٹسٹ ہیں اگر تم ان کے ساتھ کام کروگے تو وہ یقیناً تمہیں اپنے آپ سے چھوٹا رول دیں گے، جس کے بعد لوگ تمہیں معین اختر کے نام سے ہی جانیں گے۔

تابش نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نصیحت کے باعث کبھی معین اختر سے مل بھی نہیں سکے حالانکہ وہ ان سے دو گلیاں دوری پر رہتے تھے۔

عمر شریف سے متعلق ایک سوال کے جواب میں تابش کا کہنا تھاکہ ’حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بہت سے اسٹیج آرٹسٹ آج بھی عمر شریف کے جملے استعمال کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ انکے جملے اتنے آئیکونک تھے کہ وہ ہماری زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button