تازہ ترینصحت و زندگی

اسد عمر نے فوری ‘لاک ڈاون’ کا امکان مسترد کردیا، کورونا کیسز میں اضافہ

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ اومیکرون کے باعث کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے خدشے اور ایک دن میں کیسز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرنے کے باوجود فوری طور پر لاک ڈاون کا نہیں سوچا جا رہا ہے۔

نجی چینل ‘جیو نیوز’ کو ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس وقت لاک ڈاون کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ہم کورونا کیسز کی تعداد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جیسا کہ ہم نے آج بتایا جو دنیا میں ہوا اور جو پاکستان میں ہونے جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری توجہ ویکسینیشن کی رفتار بڑھانے اور جنہوں نے ویکسین لگوانے سے انکار کیا ہے ان پر پہلے عائد کی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر ہے ۔
وزیرمنصوبہ بندی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ 24گھنٹے کےدوران پاکستان میں 1085 نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئےہیں۔ملک میں آخری مرتبہ ایک ہزار سے زائد کیسز14 اکتوبر 2021 میں 1086 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس خطاب نے ڈاکٹر فیصل سلطان کے کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ لہر کے دوران وبا کا سب سے زیادہ اثر کراچی پر آنا شروع ہوا، گزشتہ 2 ہفتوں میں سندھ میں کورونا کیسز میں صرف 166 فیصد کا اضافہ ہوا لیکن اسی عرصے میں کراچی میں 940 فیصد کا اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے اومیکرون پھیلتا تو بہت تیزی سے ہے لیکن اتنا مہلک نہیں، اس کے باوجود یاد رکھیں کہ اس سے فرق پڑتا ہے کیوں کہ جنوبی افریقہ میں ہسپتالوں تک پہنچنے والے افراد کی تعداد 700 فیصد بڑھی ہے۔

اسد عمر نے مزید بتایا کہ امریکا میں کورونا وائرس کیسز کے سبب اسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح 92 فیصد بڑھی ہے جبکہ برطانیہ میں 134 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے حساب سے جو واضح فرق سامنے آیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں لوگوں نے جنوبی افریقہ کے مقابلے میں بڑی تعداد میں ویکسی نیشن کروائی ہوئی ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 12 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں میں کورونا وائرس سے بیمار ہونے اور کچھ کیسز میں شدید بیماری کے شواہد بھی آئے ہیں، اس لیے انہیں بھی ضرور ٹیکہ لگایا جائے۔

اسد عمر نے کہا تھا کہ گزشتہ 7 روز کی اوسط دیکھی جائے تو پورے ملک کے 60 فیصد کیسز صرف کراچی اور لاہور میں سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اس وقت موجود ویکسین اومیکرون کے خلاف بہت مؤثر ہیں، اس لیے جنہوں نے ایک خوراک لگائی ہے وہ دوسری ویکسین لگائیں اور جنہیں 6 ماہ ہوگئے ہیں اور ان کی عمر 30 سال سے زائد ہے وہ بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

سندھ حکومت کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی شہر میں کورونا کی کیسز میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ سندھ میں سامنے آنے والے کورونا کیسز میں سے 416 کیسز کا تعلق کراچی سے تھا۔

محکمہ صحت کے مطابق کراچی شہر میں کورونا مثبت آنے کی شرح 9.23 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اس کے علاوہ شہر میں کورونا کی اومیکرون قسم کے اب تک 200 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ مزید کیسز کی جینوم سیکوئنسنگ جاری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 1 شخص کورونا سے ہلاک ہوا جبکہ 139 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جن میں سے 16 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button