تازہ تریننیشنل خبریں

” اس ملک میں تبدیلی تونسہ کے بزدار ، پاک پتن کی مانیکا اور گوجرانوالہ کی فرح کو ارب پتی بنانے کے کام آئی“

روف کلاسرا نے اپنے کالم میں کہاہے کہ اگر اس ملک میں تبدیلی آئی تھی تو وہ تونسہ کے بزدار ، پاک پتن کے مانیکااور گوجرانوالہ کے گجر خاندان کیلئے آئی، گوجرانوالہ کا خاندان تو دبئی اور امریکہ بھاگ گیا ہے ، باقی دو نے ابھی فیصلہ کرناہے ، ایک پوری نوجوان نسل تونسہ پاک پتن اور گوجرانوالہ کے ان خاندانوں کو ارب پتی بنانے کے کام آئی ، یہ خاندان سب تبدیلی کو کھا کر نکل گئے اور بے چارے پی ٹی آئی ورکرز سڑکوں اور سوشل میڈیا پر اپنی حکومت کے اپنے ہی ہاتھوں برطرف ہونے جا جشن منا رہے ہیں ۔“


مقامی اخبار ” دنیا “ میں شائع ہونے والے کالم میں روف کلاسرا کا کہناتھا کہ عمران خان جہاں اینٹی امریکہ جذبات کا فائدہ اٹھا کر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، وہیں انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ اگر نئے الیکشن نہ ہوئے اور ان کی جگہ کوئی اور بیٹھ گیا تو بہت سے راز کھلیں گے جن کا ذکر علیم خان نے کیاہے ، حکومت جانے سے بہت سے افسران جو اس لوٹ مار میں شریک تھے ، وہ عدہ معاف گواہ بن کر مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، اور عمران خان کا امیج مزید خراب ہو سکتا تھاکہ جس تبدیلی کیلئے لوگوں نے 22 برس کوششیں کی وہ دراصل تین خاندانوں کی خوش حالی کیلئے تھی ، سب کچھ ان تین خاندانوں نے بانٹ لیا۔

روف کلاسرا کے مطابق ایک خوف یہ بھی ہے کہ بیرون ملک سے جو کروڑوں روپوں کے تحائف ملے ، جن کا ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا گیا ، ان کی تفصیلات بھی بہت ڈسٹرب کر سکتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس ہوا، ایک صحافی نے کیس کیا کہ انہیں کابینہ ڈویژن سے وہ انفارمیشن لے کر دی جائے تو اس صحافی کو دھمکایا گیا ، اس کے پیچھے لوگ لگا دیئے گئے ، ان توشہ خانوں کے تحائف میں ایسا کیا تھا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم نے تہیہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو جائے تحائف کی تفصیلات قوم کو نہیں بتائی جائیں گی ، روایتی طور پر جو پاکستانی صدر یا وزیراعظم سعودی عرب جاتے ہیں ان کی بیگم صاحبہ کو سونے ، ہیرے جواہرات، سے لاد دیا جاتاہے ، لاکھوں روپے مالیت کی گھڑیاں الگ ملتی ہیں، اسی سے اندازہ کر لیں کہ مشرف اور شوکت عزیز کے گھر والوں کو سعودی دوروں میں متعدد بار ہیرے جواہرات کے سیٹ ملے اور ایک ایک سیٹ کی قیمت آج سے پندرہ سال پہلے ستر ستر لاکھ روپے تھی ،اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ عمران خان توشہ خانہ کے تحائف چھپانا چاہتے تھے ، کیونکہ پھر عام آدمی حیران ہو گا کہ ریاست مدینہ کا نام لینے والے کروڑوں روپے کے تحائف چپکے سے گھر لے گئے ، جیسے مشرف ، شوکت عزیز ، زرداری ، یوسف رضا گیلانی یا نوازشریف لے گئے تھے ،فرق کیا رہا اگر آپ نے بھی اسی طرح توشہ خانے کا مال کھانا تھا ، جیسے پہلے والے کھا گئے ؟

میرا رپورٹنگ کا تجربہ ہے کہ پاکستانی لوگ اربوں لوٹ جائیں پر رد عمل نہیں دیں گے لیکن اس طرح کی چوروں پر حیران اور افسردہ ہوں گے کہ فلاں بندہ مفت گھڑی لے گیا یا ہیرے جواہرات کا سیٹ گھر لے گیا ، عمران خان کو خطرہ ان اربوں روپے کی کرپشن سے نہیں جن کے الزامات ان کی ٹیم پر لگتے رہے ہیں یا کچھ لوگوں پر پنجاب میں چار پانچ افسران کی مدد سے کمانے کا الزام ہے ، انہیں دراصل اس بم شیل سے زیادہ خوف ہے جو کبھی بھی تحائف کی تفصیلات باہر نکلنے پر پھٹ سکتا ہے ، انہیں پتہ ہے کہ شہبازشریف کے وزیراعظم یا حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ بننے کی صورت میں ان کے سب سے قریبی لوگ مشکل میں ہوں گے ۔

ویسے داد دیں شریف خاندان کو جس نے اسلام آباد پر حکومت کیلئے شہباز شریف تو پنجاب کیلئے حمزہ شہباز کو چنا ، کچھ دن پہلے تک جو باپ بیٹا جیل میں تھے ، مبینہ طور پر اپنے گھریلو ملازمین کے بینک اکاونٹس منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کر رہے تھے ، وہ اب پورے ملک اور صوبے کے کر تا دھرتاہوں گے ، دونوں اس وقت کرپشن الزامات پر ضمانت پر ہیں ، لیکن زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ عمران خان جو 22 سال تک اس ملک میں انصاف اور میرٹ کیلئے لمبی جنگ خود بھی لڑتے رہے اور دوسروں سے بھی لڑواتے رہے ، دھرنے کے دنوں میں ان کے کئی ورکرز نے جان کی قربانی بھی دی ، کئی گھر ایک نئے دن کی آس میں اجڑے ، وہ سب دراصل پنجاب کے ان تین خاندانوں کیلئے قربانی دے رہے تھے ،جنہوں نے ان بیالیس ماہ میں خوب ہاتھ مارا جس کی تصدیق کوئی اور نہیں تحریک انصاف کے علیم خان خود کر رہے تھے ، جو سینئر وزیر رہے ،

اگر اس ملک میں تبدیلی آئی تھی تو وہ تونسہ کے بزدار ، پاک پتن کے مانیکااور گوجرانوالہ کے گجر خاندان کیلئے آئی، گوجرانوالہ کا خاندان تو دبئی اور امریکہ بھاگ گیا ہے ، باقی دو نے ابھی فیصلہ کرناہے ، ایک پوری نوجوان نسل تونسہ پاک پتن اور گوجرانوالہ کے ان خاندانوں کو ارب پتی بنانے کے کام آئی ، یہ خاندان سب تبدیلی کو کھا کر نکل گئے اور بے چارے پی ٹی آئی ورکرز سڑکوں اور سوشل میڈیا پر اپنی حکومت کے اپنے ہی ہاتھوں برطرف ہونے جا جشن منا رہے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button