اسلامک کارنر

بہترین رزق کے لیے دعا

بہترین رزق دینے والے سے رزق مانگنا:
۱۔ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
اور ہمیں رزق دے اور تو بہترین رازق ہے”
المائدہ:114
۲۔ وَإِذَا قُلْتَ: اللهُمَّارْزُقْنِيقَالَ اللهُ: قَدْ فَعَلْتُ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب تم کہو گے:
اللهُمَّ ارْزُقْنِي
تو اللہ کہے گا:میں نے رزق دینے کا فیصلہ کردیا۔
شعب الایمان:610، السلسلۃ الصحیحۃ:333

۳۔
حَدَّثَنَا ابْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ، خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى، فَوَضَعَتْهَا، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: اللهُمَّارْزُقْنَا.
فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ. قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا. قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ، قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتْ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا. قَامَ إِلَى الرَّحَى. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ” أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا، لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
مسند احمد:10658

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس پر فاقے کے حالات دیکھے تو وہ جنگل کی طرف نکل گیا یہ دیکھ کر اس کی بیوی چکی کی طرف بڑھی اور اسے لا کر رکھا، تنور کو دہکایا اور کہنے لگی
اللهُمَّ ارْزُقْنَا:
اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما۔

اس نے دیکھا تو اچانک پیالہ بھرا ہوا تھا۔ پھر وہ تنور کے پاس گئی تو وہ بھی بھرا ہوا تھا۔ اتنے میں اس کا شوہر واپس آگیا اور کہنے لگا کیا میرے بعد تمہیں کچھ حاصل ہوا ہے؟ اس کی بیوی نے کہا ہاں، ہمارے رب کی طرف سے۔ چنانچہ وہ اٹھ کر چکی کے پاس گیا۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ واقعہ ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر وہ چکی کا پاٹ نہ اٹھاتا تو وہ قیامت تک گھومتی رہتی۔
رزق کے حصول کے لیے اللہ سے اس کا فضل مانگنا

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: ضَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِهِ يَبْتَغِي عِنْدَهُنَّ طَعَامًا، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقَالَ: «اللهُمَّإِنِّيأَسْأَلُكَمِنْفَضْلِكَوَرَحْمَتِكَ؛ فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ» ، فَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَقَالَ: «هَذِهِ مِنْ فَضْلِ اللهِ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ»
معجم الكبيرللطبراني:10379
والسلسلة الصحيحة:1543

عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا، آپ ﷺ نے کھانا لانے کے لیے (ایک آدمی کو) اپنی ازواج کے پاس بھیجا لیکن ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی کھانا نہ ملا۔ تو آپ ﷺ نے دعا کی:
اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ،فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ
اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، بےشک تیرے سوا اس کا کوئی مالک نہیں ہے۔
چنانچہ آپ ﷺ کے پاس بھنی ہوئی بکری کا تحفہ لایا گیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے اور ہم رحمت کا انتظار کررہے ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button