پاکستان

تاریخ میں پہلی بار کینسر کا 100فیصد خاتمہ کرنے والی دوا کا کامیاب تجربہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)امریکا میں تجرباتی دوا کے استعمال سے ایک کلینکل ٹرائل میں شامل کینسر کے تمام مریض صحتیاب ہوگئے، جسے ماہرین نے ناقابل یقین قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈوسٹارلیماب نامی تجرباتی دوا کو بڑی آنت کے کینسر کے شکار ایک درجن مریضوں کو استعمال کرایا گیا تھا۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق دوا کے استعمال سے کینسر کی رسولی ختم ہوگئی

جبکہ ان مریضوں کو کسی قسم کے نمایاں مضر اثرات کا سامنا بھی نہیں ہوا۔ٹرائل میں شامل میموریل سلون کیٹرینگ کینسر سینٹر کے ڈاکٹر لوئس البرٹو نے بتایا ‘میرا ماننا ہے کہ کینسر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جس میں ایک ٹرائل میں شامل تمام مریض اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔مگر دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ مریض صحتیاب ہوگئے ہیں یا یہ دوا بڑی آنت کے مختلف اقسام کے کینسر کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہوگی۔اس ٹرائل میں ریکٹم کینسر سے متاثر 12 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔کینسر کی یہ قسم کیموتھراپی اور ریڈی ایشن طریقہ علاج کے خلاف مزاحمت کرتی ہے جس کے باعث مریضوں کے متاثرہ حصے کو سرجری سے نکالنا پڑتا ہے جو زندگی بھر کے لیے مختلف مسائل کا باعث بنتا ہے۔اس نئی تحقیق کو شروع کرتے ہوئے ماہرین کا خیال تھا کہ ڈوسٹارلیماب سے رسولی کا حجم گھٹ جائے گا کیونکہ اس سے مدافعتی خلیات کی کینسر زدہ خلیات کو شناخت اور ان پر حملہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ٹرائل میں شامل مریضوں کو 6 ماہ تک ہر 3 ہفتے میں 500 ملی گرام دوا استعمال کرائی گئی۔محققین کا خیال تھا کہ اس نئے طریقہ علاج کے بعد بھی مریضوں کو کیموتھراپی، ریڈی ایشن تھراپی یا سرجری کی ضرورت ہوسکتی ہے۔مگر حیران کن طور پر دوا کے استعمال سے تمام مریضوں کا کینسر ختم ہوگیا۔ت

مام تر ٹیسٹوں میں رسولیوں کو دریافت نہیں کیا جاسکا اور ٹرائل کے ایک سال بعد بھی مریضوں کو مزید علاج کی ضرورت نہیں پڑی یا کینسر واپس لوٹ کر نہیں آیا۔اب اس ٹرائل کو 2 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے مگر اب بھی کسی مریض کو علاج کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج بہت زیادہ اچھے ہیں مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ دوا کی افادیت کی مکمل جانچ پڑتال کی جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹرائل کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں کینسر کی اس قسم کے علاج میں ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے۔

اس ٹرائل کے نتائج طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے۔دوسری جانب این ایف ٹی اور بلاک چین کی دنیا سے ایک دلچسپ خبر آئی ہے کہ پہلی مرتبہ سرطان کے زندہ خلیات کو دیکھ کر ایک پینٹنگ بنائی گئی ہے اور اسے ڈیجیٹل شکل میں ڈھال کر نان فنجیبل ٹوکن (این ایف ٹی)کی شکل دی گئی ہے۔

اس سے حاصل شدہ رقم ایک نئی مگر مہنگی کینسر تھراپی کے معالجے پر خرچ کی جائے گی۔میڈیارپورٹسکے مطابق پولینڈ میں واقع سرطان پر تحقیق کے انسٹی ٹیوٹ اور ایلویا کینسر فانڈیشن کے اشتراک سے مریضوں کے جسم سے زندہ سرطانی خلیات کی تصاویر لی گئی ہیں۔

یہ تصاویر کنفوکل مائیکرو اسکوپی سے لی گئی ہے، ان تصاویر کو دیکھ کر ایک مشہور مصور پاویل سوانسکی نے ان سے کینوس پر خوبصورت پینٹنگ بنائیں۔ اس کے بعد پینٹنگ کو ڈیجیٹل پروسیسنگ سے گزار کر ایف ایف ٹی کی صورت دی گئی ہے۔لیکن یہ کام بہت احتیاط سے کیا گیا ہے

جس میں ڈاکٹروں، سائنسدانوں، اور ایک مشہور مصور نے مشترکہ طور پر این ایف ٹی بنائی ہے۔ اس کی ساری رقم عطیہ کی جائے گی۔ پاویل بڑے کینوس پر پیچیدہ میورل بنانے کے ماہری ہیں۔ دوسری جانب نے مصوری اور تصویر کشی کے تمام مراحل کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے

جو این ایف ٹی کے ساتھ بطور ثبوت فروخت کی جائیں گی۔اسے این ایف ٹی مارکیٹ پلیس، اوپن سی اور ویسٹ میں فروخت کے لیے رکھا جائے گا۔

تمام رقم کنیسر کے نئے طریقہ علاج سی اے آر ٹی پر خرچ کی جائے گی جو ایک طرح کا مثر امیونوتھراپی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ تھراپی ان 40 فیصد مریضوں کا مداوا بن سکتی ہے جن پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور ہر طرح کی تھراپی ناکام ہوجاتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button