پاکستانتازہ ترین

ایک رات کے 50 ہزار مانگے، لوگوں نے منتیں کیں کہ کمرہ دے دو بچے رو رہے ہیں ۔۔ لوگوں کو گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور کرنے والے ہوٹل مالکان نے انسانیت کو بھی شرما دیا

مری کی بگڑتی صورتحال نے جہاں انتظامیہ اور حکومتی کارکردگی کی قلعی کھولی وہیں مقامی پوٹلز کی بے حسی بھی سامنے آئی۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

مری میں موجود سیاح مقامی ہوٹلز کی دادا گیری اور ہٹ دھرمی پر برہمی کا اظہار کرتے دکھائی دیے ہیں۔ سماء ٹی وی کی رپورٹ میں کئی سیاحوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا، ان میں سے بیشتر نے مقامی ہوٹلز کی جانب سے من مانے کرایہ جات سے متعلق بتایا۔

سیاح کا کہنا تھا کہ میں نے 40 ہزار روپے میں ہوٹل کا کمرہ بُک کرایا، جو کہ بحث کر کے لیا، ورنہ وہ ایک کمرہ 70 ہزار کا دے رہے تھے۔ اب آپ بتائیں کہ ہم 70 ہزار روپے کا کمرہ لیں یا بچوں کو کھانا کھلائیں۔ جب سیاح نے رقم کم کرنے کا مطالبہ کیا تو ہوٹل انتظامیہ نے صاف کہہ دیا کہ کمرہ لینا ہیں تو لیں ورنہ ہمارا ٹائم برباد نہ کریں۔

مقامی ہوٹلز نے انسانیت کے منہ پر طمانچہ اس وقت مارا جب مجبوری میں سیاحوں نے مشکل صورتحال میں منہ مانگے دام کمرے خرید لیے۔ مشکل وقت میں تو انسان انسان کے کام آتا ہے، اور ہوٹل انڈسٹری میں تو سکھایا ہی یہی جاتا ہے، کہ انسانیت سب سے عظیم ہے، مگر ان مقامی ہوٹلز سے اندازہ ہوا کہ بے حسی کس چیز کا نام ہے۔

ایک اور سیاح کا کہنا تھا کہ جن سیاحوں کی موت ہوئی ہے، اس کے ذمہ دار یہ ہوٹلز والے ہیں۔ انہوں نے سیاحوں کو رکنے کے لیے کمرے نہیں دیے جس کی وجہ سے وہ مجبورا گاڑیوں میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔

کھانا کھانے کا 1900 بل لیا ہے، 9 پراٹھے اور ایک چائے کا 900 روپے بل تھما دیا۔ ایک اور سیاح نے بتایا کہ ایک دن کا کرایہ ویسے 22 ہزار تک ہوتا ہے مگر اس رات کرایہ بھی 50 ہزار تک کر دیا تھا۔

سیاح بتا رہے تھے کہ فیملیز منتیں کرتی رہ گئیں مگر انہیں کمرہ نہیں دیا گیا کیونکہ کمروں کے ریٹس ڈبل نہیں ٹرپل مرتبہ بڑھا دیے گئے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button