تازہ ترینپاکستان

میرے بیٹے کا جانا، اللہ کی مرضی ہے ۔۔ بیٹے سے والدین کی آخری ملاقات ایک ڈراؤنا خواب تھی، بیٹے نے کیا کہا؟ جانیے

مری کے افسوس ناک واقعہ میں جہاں کئی افراد جان سے گئے وہیں، خیبر پختونخواہ کے ایک والد اب بھی بیٹے سے کی گئی آخری بات کو یاد کر رہے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان سے تعلق رکھنے والے بلال اپنے 4 دوستوں سمیت اس سانحہ میں اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، لیکن ان کی آخری بات چیت نے سب کو افسردہ کر دیا ہے جو انہون نے اپنے والدین سے کی تھی۔

4 بجے کے قریب 21 سالہ بلال نے گھر کال کی تھی، جس میں بلال نے بتایا کہ یہاں صورتحال کافی خراب ہے، اسی لیے ہم واپس گھر آ رہے ہیں، بلال اس وقت مری میں اپنے ایک دوست اور دو کزنز کے ساتھ موجود تھا۔

لیکن رات 9 بجے کچھ ایسا ہوا جس نے گھر والوں کی پریشانی کو مزید بڑھا دیا تھا اور وہ رات ایک ایسی رات تھی جس گھر والوں کو سونے نہیں دیا تھا۔ رات 9 بجے بلال نے دوبارہ کال کی اور بتایا کہ یہاں ٹریفک جام میں ہم پھنس چکے ہیں۔

بلال کے والد محمد غفور نے بتایا کہ بلال کے آخری الفاظ تھے، کہ جیسے ہی ورڈ کھلتے ہیں، ہم گھر آ جائیں گے۔ جمعے کی رات بلال کی فیملی کے لیے کسی ڈرؤانے خواب جیسی تھی۔

ہفتے کی صبح جب والدہ نے کال کی تو کسی انجانے نے کال اٹھائی جسے سُن کر والدہ پریشان ہو گئیں، اور آگے سے جواب آیا کہ بلال گاڑی میں شدید برف باری کی وجہ سے جاں بحق ہو گیا ہے۔

یہ بات سنتے ہی والدہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی، وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔ والد نے جب دیگر کزنز اور دوست کو کال کی تو ان کی وفات کا سُن کر مزید دھچکا ہوا۔

بلال کی فیملی کے دیگر افراد کی جانب سے کہا گیا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے، اور ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ عوام وارننگ اور راستے بند کر کے سیاحوں کو روک سکتی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button