تازہ تریننیشنل خبریں

حکومتی ارکان کی جانب سے اسمبلی کے اجلاس میں احتجاج کا منصوبہ تیار

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان نے احتجاج کا منصوبہ تیار کرلیا ، حکومتی ارکان ایوان میں پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کریں گے ۔

نجی ٹی وی” ایکسپریس” کے مطابق حکومتی ارکان ایوان میں پلے کارڈ تیار کر رہے ہیں جن پر ضمیر فروش مردہ باد اور امریکہ مخالف نعرے درج کئے گئے ہیں ۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا جہاں پہلے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سپیکر سےکہا کہ پوری قوم کو سلام پیش کرتاہوں جن کی جدوجہد کے نتیجے میں یہ دن آیاہے ، میں گزارش کرنا چاہتاہوں کہ آج سپریم کورٹ کا جو حکم ہے ، اس کے مطابق ہاوس کی کارروائی چلائیں گے کہ اس لیے آج پارلیمان ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہاہے ، آج پارلیمان آئینی اور قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہاہے ۔

اقتدار بچانے کیلئے ہو سکتا ہے حکومت آج پھر سرپرائز کی کوشش کرے ، مرتضیٰ جاوید عباسی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی جماعت کی جانب سے واضح کر دوں کہ عدم اعتماد کی آئین میں گنجائش ہے ، تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا جبکہ دفاع کرنا ہمارا فرض ہے ، ہم اس تحریک کا آئینی ، سیاسی اور جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آئین کا احترام سب پر لازم ہے ، وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ وہ مایوس ہیں لیکن عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں ، پاکستان کی تاریخ آئین شکنی سے بھری ہوئی ہے ، حالیہ آئین شکنی کا حوالہ دیتا ہوں کہ 12 اکتوبر 1999 میں آئین شکنی ہوئی ، جب اعلیٰ عدلیہ کے سامنے کیس گیا تو پی سی او ججز کی جانب سے وضاحتیں تلاش کی گئیں اور جو مانگا ہی نہیں گیا تھا وہ آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت بھی دیدی گئی ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس آج ، تحریک عدم اعتمادپرووٹنگ بھی 6 نکاتی ایجنڈےمیں شامل
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں یہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا فورم اعلی ترین ہے جس میں حکومت کے اعلیٰ ترین وزراء اورافواج پاکستان کی نمائندگی ہوتی ہے ، جب نیشنل سکیورٹی کمیٹی اس مراسلے کو دیکھتی ہے تو نتیجے پر پہنچتی ہے کہ معاملہ سنگین اور حساس ہے ، اور وہ آرڈر کرتی ہے کہ پاکستان میں مداخلت ہو رہی ہے ، دفتر خارجہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ احتجاج ریکارڈ کرایا جائے ، فیصلے کے مطابق دفتر خارجہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں احتجاج ریکارڈ کراتا ہے ۔ اجلاس میں پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو طلب کر کے ان کے علم میں لایا جائے تاکہ وہ بھی صورتحال کی سنگینی سے واقف ہوں ، جناب سپیکر آپ اجلاس طلب کرتے ہیں ، اپوزیشن کو بھی مدعو کرتے ہیں اور اپوزیشن کا فرض تھا کہ وہ آتی مگر وہ نہیں آئی ۔

وزیر خارجہ کے اپوزیشن سے متعلق الفاظ پر اپوزیشن بینچز سے لفظی گولہ باری کی گئی جس کے باعث سپیکر نے اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کیلئے ملتوی کر دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button