پاکستان

مجھے ڈر ہے دعا زہرہ کو قتل نہ کردیا جائے سندھ میں لاکر سیف کسٹڈی میں رکھا جائے، والد

کراچی (آن لائن )دعا زہرہ کے والد کے وکیل الطاف حسین کھوسو نے کہا ہے کہ مجھے ڈر ہے دعا کو قتل نہ کردیا جائے اس لیے اسے سندھ میں لاکر سیف کسٹڈی میں رکھا جائے۔ انکوائری افسر نے تمام نامزد ملزمان کو مفرور ظاہر کیا ہے، چالان میں بچی کی عمر کم لکھی گئی ہے اغوا میں گینگ ملوث ہے، دعا کو اغوا کرنے والا گینگ پہلے بھی وارداتیں کرچکا ہے۔بچی کو قانون کے مطابق پروٹیکشن دی جائے ہمیں خدشہ ہے کہ میڈیا پر معاملہ گرم ہونے کے باعث بچی کو کہیں قتل یا غائب نہ کردیا جائے۔ دعا

زہرہ کو کسی گینگ نے اغوا کیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس گینگ کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ دعا کی طرح کوئی اور بچی ان کا شکار نہ ہو۔ان خیالات کا اظہار 21روز قبل کراچی کے علاقے ملیر،الفلاح گھر کے باہرسے لاپتا ہونے والی لڑکی دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی، والدہ اور دعا زہرہ کے وکیل، پاکستان لیگل یونائٹیڈ سوسائٹی، پلس کے چیئرمین الطاف حسین کھوسو ایڈووکیٹ نے ہفتے کو گلستان جوہر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہیں۔دعا زہرہ کہ وکیل الطاف حسین کھوسو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دعا کی بازیابی اور ان کو اغوا کرنے والے گینگ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ نکاح نامے میں نکاح خواں کا نام اور مہر بھی نہیں لگی ہمیں سندھ اور پنجاب حکومت سے انصاف کی امید ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کردی ہے، ہم نے درخواست میں لکھا ہے کہ بچی کو والدین سے ملایا جائے، دعا نے مجسٹریٹ کے سامنے جو بیان دیا ہے وہ ابھی تک ہمیں نہیں ملا، میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ ہمارے خلاف کوئی شکایت درج کرائی گئی لیکن ہمیں کوئی تحریری شکایت نہیں ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی نکاح نامہ نہیں دیا گیا اور اغوا میں پورا گینگ ملوث ہے مختلف اطلاعات آرہی ہی، کوئی ایسا قانون نہیں کہ کم عمر لڑکی کی شادی کرادی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے درخواست میں کہا ہے کہ دعا کو باحفاظت واپس لایا جائے اور بنیاد اس بات کو بنایا ہے کہ اغوا کے وقت دعا کی عمر 14 سال سے کم تھی جس کے باعث اسے والدین کی ’سیف کسٹڈی‘ میں ہونا چاہیے۔ اگر وہ والدین کے پاس واپس نہیں آنا چاہتی تو اسے دارلامان یا کسی اور بہتر جگہ بھیجا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے درخواست میں دوسری چیز یہ کہی ہے کہ بچی کے قانونی سرپرست اس کے والدین ہیں تو لازمی طور پر اسی کی ملاقات والدین سے کروائی جائے۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ ظہیر احمد کے ہمراہ وہ تمام لوگ جنہوں نے دعا کو گھر سے غائب کرنے میں اس کی مدد کی ہے ان سب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔وکیل الطاف حسین کھوسو نے مزید کہا کہ ہم نے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بچی کا نکاح نامہ جعلی قرار دیا جائے۔ اس کے نکاح سے متعلق جتنے بھی کاغذات ہیں یا کاغذی کارروائی کی گئی ہے وہ ہمارے سامنے ظاہر کی جائےاور ان تمام کاغذات کی تصدیق کروائی جائے۔دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی نے کہا کہ دعا زہرہ سے کسی دباؤکے زریعے بیان دلوایاجارہا ہے، 18سال سے کم عمر بچی کو لیکر جانا اغوا ہے، میری بیٹی کواغوا کیا گیا اوراپنی مرضی سے بیان دلوایا جارہا ہے۔دعا کے برتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق اس کی پیدائش کی تاریخ 27 اپریل 2008 ہے جس کے مطابق وہ 13 سال 11 ماہ اور 17 دن کی تھی جب وہ گھر سے غائب ہوئی تھی۔ دعا کے والد کا کہنا ہے کہ میرے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہدعا بالغ نہیں ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جس مولوی کا نام نکاح نامے میں لکھا تھا اس نے کہا کہ میں نے یہ نکاح پڑھایا ہی نہیں ہے، یعنی اس کا نکاح مکمل طعر پر جعلی ہے۔وہ زبردستی دعا سے جھوٹا بیان دلوا رہے ہیں اور انجانے میں دعا ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ بچی گیارہ دن سے زاید ان کے پاس رہی ہے، اس کے ساتھ نہ جانے زیادتی ہوئی ہے یا اسے ڈرایا دھمکایا جارہا ہےاس لیے وہ وہی کہہ رہی ہے جو وہ کہہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پھر بھی مجھے پوری امید ہے کہ مسئلہ کراچی میں ہی حل ہوجائے گا۔ جلد ہی سب کو خوش خبری سنائیں گے۔دعا کی والدہ نے کہا کہ میری بیٹی کو غائب ہوئے 21 دن ہو چکے ہیں، جو میرے لیے 21 برس کے برابر ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی کس حال میں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہی میری بچی پر جنسی تشدد نہ کیا جارہا ہو، ہماری بچی کس اذیت میں ہے۔والدہ نے کہا کہ ہماری ان لوگوں سے درخواست ہے کہ میری بچی دعا زہرہ کو صحیح سلامت گھر بھیج دیں ہم انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ گھر میں دعا کی بہنیں اس کا انتظار کر رہی ہیں، میں انتظار کر رہی ہوں۔دعا زہرہ کی والدہ نے مزید کہا کہ ہمیں بھی جان کا خطرہ ہے، ہمیں ڈر لگتا ہے کہ جو گینگ دعا کو اغوا کرکے لے گیا ہے کہیں وہ ہماری فیملی کو نقصان نہ پہنچائے۔حکومتی اداروں سے میری درخواست ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور جلد سے جلد یہ مسئلہ حل کیا جائے۔ہمیں لاہور پولیس کی جانب سے بھی دعا کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہیں۔ حکومتی اداروں سے درخواست ہے کہ دعا کو واپس لانے میں ہماری مدد کریں۔خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ملیرالفلاح گولڈن ٹاؤن سے دعا زہرہ کے لاپتا ہوجانے کے بعد اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دعا کو اغوا کیا گیا ہے۔بعد ازاں دعا زہرہ منظر عام پر آگئی اور اس نے بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی ہے اور اس نے نکاح کرلیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button