پاکستان

پی ٹی آئی کے پی میں کنفیوژ ، وزیراعلیٰ سمیت کئی وزراء کے ٹی ٹی پی کو بھتہ دینے کی اطلاعات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر تجزیہ کاروں جاوید چوہدری، عادل شاہ زیب اور عادل عباسی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کنفیوژ ہے اور عمران خان کے فیصلوں کی وجہ سے مشکلات کا بھی شکار ہے، ملک کی ذمہ داری اُٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار عادل شاہزیب نے کہا کہ

آج پشاور میں برسراقتدار جماعت میں بے چینی نظر آرہی تھی، اس بے چینی کی بڑی وجہ تحریک انصاف کے بیانیے کا تضاد خصوصاً امریکی سفیر کا خیبرپختونخوا کا دورہ ہے، مضحکہ خیزبات ہے کہ ایک طرف عمران خان امریکی سازش کا الزام لگا رہے ہیں اور دوسری طرف امریکی سفیر کو خیبرپختونخوا بلا کرا ن سے 36گاڑیاں لے رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی متحرک نظر آرہی ہے، اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ سمیت چار پانچ وزراء انہیں بھتہ دے چکے ہیں۔عادل شاہزیب کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کنفیوژ ہے، عمران خان کے فیصلوں سے کے پی حکومت کے لیے مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 70فیصد سیاستدان ٹیلیفون کال کا انتظار کر رہے ہیں، ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد جو ٹرولنگ کی گئی اس سے خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کے کارکن خوفزدہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا ٹرولرز کو ڈھیل 2018 سے پہلے سے دی گئی ہے، 2016 میں نواز شریف کو نکلوایا گیا، یہی سوشل میڈیا سیلز جوآج افواج پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے میں شریک ہیں انہیں حوصلہ دیا گیا، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ جو کیا گیا اس کے بعد ریڈ لائن لگانی پڑے گی، عمران خان کو اپنی پارٹی کو تنقید اور تضحیک کا فرق سمجھانا پڑے گا، افواج کو بھی اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سیاست سے کوسوں دور رہنا چاہیے، افواج اگر نیوٹرل ہوگئی ہیں تو انہیں دوبارہ سیاست کی طرف نہیں آنا چاہیے۔سینئر تجزیہ کار عادل عباسی نے کہا کہ قانونی معاملات پیچیدگی کی طرف جا رہے ہیں اسی لیے عمران خان دباؤ بڑھا رہے ہیں، اطلاعات ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیں گے،

چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کا نام خود عمران خا ن نے تجویز کیا تھا، عمران خا ن نے سکندر سلطان راجہ کا نام تجویز کرنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کی تھی، چیف الیکشن کمشنر کے لیے شیخ رشید کا ووٹ سکندر سلطان راجہ کے حق میں تھا۔عادل عباسی کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر حادثے پر منفی سوشل میڈیا مہم کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچے گا، منفی سوشل میڈیا مہم چلانے

والوں کے کچھ شواہد مل گئے ہیں، منفی سوشل میڈیا مہم چلانے والے پاکستان کے اندر ہی ہیں، حکمراں اتحاد سمجھتا ہے کہ آج الیکشن ہو جائیں تو تحریک انصاف جیت جائے گی، عمران خان پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومتیں رکھ کر انتظامیہ کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات ٹھیک ہونے کا وقت گزر چکا ہے۔

سینئر تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا کہ پورا ملک خصوصاً مقتدر اور حکمراں طبقات کنفیوژ نظر آرہے ہیں، ملک کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے، حکومت راولپنڈی کی طرف دیکھ رہی ہے جبکہ راولپنڈی کہتا ہے 12 جماعتوں کی حکومت ہے، یہاں سب ایک دوسرے کو یزید کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں مگر خود کو حسینی لشکر میں بھی شامل نہیں بتا رہے کیونکہ پھر قربانی دینا پڑے گی

۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سمجھتے ہیں ریاست ان کا راستہ روکناچاہتی ہے، وہ اس کا الزام نیوٹرلز پر لگاتے ہیں، عمران خان نے ایک نیا لفظ ”نیوٹرل ان چیف“ بھی بولنا شروع کر دیا ہے، عمران خان اپنے دور اقتدار میں سارا بوجھ اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دیتے تھے۔جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کہتی ہے ہم حکومت میں آنا نہیں چاہتے تھے سیدھا الیکشن میں جاناچاہتے تھے،

موجودہ حکمراں اتحاد یہ سوچ کر اقتدار میں آیا کہ نیب کو بند کر کے نکل جائے گا مگر انہیں نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا، عمران خان واقعی الیکشن چاہتے ہیں تو پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں توڑ دیں، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا نام شیخ رشید نے دیا تھا۔جاوید چوہدری نے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ٹرولنگ کے ذمہ داروں تک پہنچنا بہت ضروری ہے،

مین بلاگرز نے چودہ پندرہ سال کے بچوں کو مائیکرو بلاگرز کے طورپر رکھا ہوتا ہے، مائیکرو بلاگرز کو ایک ٹوئٹ کے 1500روپے دییے جاتے ہیں، یہاں آپ 1500روپے میں پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کا ٹوئٹ کروا سکتے ہیں، ان مائیکروبلاگرز کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد صرف 25ٹوئٹس تھیں جنہیں ری ٹوئٹ کر کے افواج پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا، ٹوئٹس کرنے والے جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں انہوں نے نام بتائے ہیں، انہیں کس نے کہا تھا، ان میں میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے انہیں ٹوئٹ کرنے کے لیےکہا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button