پاکستان

وفاقی کابینہ نے دھمکی آمیز خط اہم شخصیات سے شیئر کرنے کی منظوری دے دی

خط چیف جسٹس آف پاکستان، چئیرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو دکھایا جائے گا

وفاقی کابینہ نے دھمکی آمیز خط اہم شخصیات سے شیئر کرنے کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ
کا ہنگامی اجلاس ختم ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے دھمکی آمیز خط اہم شخصیات سے شیئر کرنے کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد دھمکی آمیز خط چیف جسٹس آف پاکستان، چئیرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو دکھایا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے نجی ٹی وی چینل سماء نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی تصدیق کی۔ دوسری

جانب جیو نیوز کے مطابق آج 9اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ کو رات 12 بجے کھولنے کا حکم جاری کردیا گیاہے۔

بتایا گیا ہے کہ رات 12 بجے سپریم کورٹ کے دروزاے کھول دیے جائیں، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے سیشن کرسکتی ہے۔

اسی طرح چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی دروازے10بجے کھولنے کا حکم دیا ہے۔ تمام عملے کو پہنچنے کی ہدایت کردی ہے۔ قومی اسمبلی

سیکرٹریٹ نے بھی اسپیکر اسد قیصر کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے قائل کرلیا ہے، جس پراسپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے کو الرٹ

رہنے کی ہدایت کردی ہے۔اسی طرح وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی ہوا، جس میں تحریک عدم اعتماد اور قانونی آپشنز پر غور کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے5 رکنی بنچ کے7 اپریل 2022 کے فیصلہ پر نظرثانی کیلئے درخواست دائرکردی ہے، درخواست

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے دائر کی ، درخواست میں 5 رکنی بنچ کے 7 اپریل کے حکم کو واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست کے

متن میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ قومی اسمبلی کو آرٹیکل 69 کے تحت ٹائم ٹیبل نہیں دے سکتی، عدم اعتماد یا وزیراعظم انتخاب 1973 کے آئین میں تفصیل

سے لکھا ہے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے آرٹیکل 5 کے تحت رولنگ دی، جو آئینی تھی، سپریم کورٹ کو اختیار نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کو مائیکرومینج کرے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ 5رکنی بنچ کے 7اپریل کے حکم کو واپس لیا جائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button