پاکستان

عمران خان کے کچھ ساتھی ملک کو مارشل لاء کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں

یہ اندر سے آمرانہ ذہنیت رکھتے ہیں،پوزیشن نے کب کہا کہ نیب میں مقدمات بنائیں گے؟حکومت میں آکرہمارا مقصد انتقام نہیں ترقی اور استحکام ہوگا۔ صدرپی

ڈی ایم اور سربراہ جے یوآئی (ف) مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر اور سربراہ جے یوآئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے کچھ ساتھی ملک کو مارشل لاء کی
طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، یہ اندر سے آمرانہ ذہنیت رکھتے ہیں،پوزیشن نے کب کہا کہ نیب میں مقدمات بنائیں گے؟حکومت میں آکرہمارا مقصد انتقام نہیں ترقی اور استحکام ہوگا۔

انہوں نے جیونیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی پوری سیاست کا محور تھا کہ میں این آراو نہیں دوں گا، این آراو نہیں لوں گا۔

اگر وہ اس قسم کی بات کررہا ہے تو اس کا مطلب وہ کہتا ہے مجھ سے جرائم ہوئے ہیں اور اس کا حساب نہ لیا جائے، اپوزیشن نے کب کہا کہ نیب میں مقدمات

بنائیں گے؟ہم نے ملک کو ترقی دینی ہے، معیشت بہتر کرنی ہے، عام آدمی کی حالت بہتر کرنی ہے، ایک بجٹ دیں گے۔
(جاری ہے)

اپوزیشن کسی طرح کی منفی سوچ کی طرف نہیں جا رہی۔ اس کو اپنا منفی چہرہ شیشے میں نظر آرہا ہے کہ جو بویا ہے وہی کاٹوں گا، ہمارا مقصد انتقام نہیں

ترقی اور استحکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بچگانہ اقدامات کررہا ہے اور جاتے جاتے بحران پیدا کررہا ہے، جب اقتدار میں آیا تھا تو اس نے کتنے منت ترلے کیے ہوں گے۔اس کے ساتھ کچھ ایسے لوگ ہیں جو ملک کو مارشل لاء کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔

یہ اندر سے آمرانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ ہم نے پارلیمانی اور آئینی راستہ اختیار کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فواد چودھری کو ہم وہ حیثیت نہیں دیتے

کہ وہ جو منہ سے بات نکالے ہم اس کو فلسفہ سمجھ لیں، ہم الیکشن کی طرف خود جانا چاہتے ہیں ہمیں شفاف الیکشن چاہیے گدلا الیکشن نہیں چاہتے۔ عدم اعتماد

ایک آئینی راستہ ہے، اب عدم اعتماد سے بچنے کیلئے یہ الیکشن کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن بھی الیکشن کی طرف جانا چاہتے لیکن اصلاحات کرانے کے بعد جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے بھی کہا کہ حلقہ بندیاں ہونی ہے، وزیراعظم کو 16خطوط لکھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button