تازہ تریننیشنل خبریں

تصادم جاری رہا تو کمزور جمہوریت کے پٹڑی سے اترنے کا خدشہ ہے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی دنگل اور شطرنج کے کھیل میں کوئی بھی اسلامی نظام کی بات نہیں کر رہا۔ سیاست دان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں، وہ زبان استعمال ہو رہی ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے میں زیب نہیں دیتی۔ وزیراعظم ایک دفعہ پھر کنٹینر پر سوار ہو گئے ہیں۔ تصادم جاری رہا تو خدانخواستہ کمزور جمہوریت کے پٹڑی سے اترنے کا خدشہ ہے۔ بڑی اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کے رہنما جماعت اسلامی سے رابطے کر رہے ہیں۔ جب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کی لڑائی مہنگائی، بے روزگاری کم کرنے، سودی معیشت ختم کرنے اور ملک کو استعمار سے نجات دلانے کے لیے ہے، توجواب نفی میں ملتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ کی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ مسلسل کئی گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں موجودہ ملکی صورت حال، جماعت اسلامی کی عوامی حقوق کے لیے 101دھرنوں کی تحریک، تنظیمی امور اور بلدیاتی اور جنرل الیکشن کی تیاریوں کی صورت حال پر گفتگو ہوئی۔ امیر جماعت نے پارلیمنٹ لاجز میں اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ پر پولیس تشدد کی مذمت کی اور اس واقعے کو پارلیمانی روایات کی شدید خلاف ورزی اور حکومتی بوکھلاہٹ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی و ذاتی مقاصد کے لیے اداروں کا استعمال قابل افسوس ہے ، ایسے اقدامات سے ملک انارکی کی جانب جائے گا۔

سراج الحق کے مطابق جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہمارا ہر قدم اور ہر جلسہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہے۔ ہمارا پیسہ، ہماری زندگیاں دین کے لیے جدوجہد پر صرف ہوں گی۔ ہمیں موت بھی آئے تو اسی مقصد کی خاطر۔اسلام کی بنیاد توحید پر ہے اور توحید دورنگی نہیں سکھاتی۔ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ظالم کا ساتھ نہ دے۔ حضورؐ نے فرمایا جو ظلم کا ساتھ دے گا وہ ان کی امت میں سے نہیں۔ ہر مسلمان حضورؐ کی تحریک کا وارث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنے آپ کو بے یارومددگار نہ سمجھیں۔ قوم جان لے وہ غیر اہم نہیں ہے۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور عوام اپنے ہاتھوں میں قرآن اٹھائے اور ملک کو خوشحالی، امن اور اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button