پاکستان

ٹیکس کونسل نے فرح خان کے اثاثہ جاتی کی تفصیل جاری کر دی

لاہور (آن لائن) مسز فرحت شہزادی (فرح خان) کے ٹیکس کونسل نے فرح خان کے اثاثہ جاتی کی تفصیل جاری کر دی ہیں۔ گذشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کے ٹیکس وکیل اسد رسول ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عمران دور میں فرح کی دولت میں چار گنا اضافہ ہوا سراسر جھوٹ ہے اور غلط رپورٹنگ کرکے حقائق اور اعداد و شمار کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔سب سے پہلے، یہ الزام کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت بنانے کے بعد سے پہلے تین سالوں میں ان کی دولت میں چار گنا اضافہ ہوا

ہے جبکہ، اصل پوزیشن یہ ہے کہ30جون 2018 کو ان کی اعلان کردہ پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے پہلے 70کروڑ 16لاکھ 52ہزار 611 روپے تھی جو کہ30جون 2021 تک بڑھ کر 75کروڑ 23لاکھ 70ہزار 848 روپے ہو گئی یہ اضافہ صرف 6.74% ہے جب کہ خبروں میں 400% اضافے کا دعوی کیا گیا ہے مزید الزام کہ30جون 2021 تک ان کی دولت 97کروڑ 18لاکھ 69ہزار 187 روپے ہے غلط ہے کیونکہ قرضہ اور 219, 498, 339 روپے کی Other Liabilities کو نیٹ ویلتہ میں اضافے کا غلط موازنہ کرنے کے لیے جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے تیسرا یہ الزام کہ ان کی دولت30جون 2018 کو NIL تھی ایک بار پھر جان بوجھ کر غلط رپورٹنگ ہے کیونکہ انہوں نے ایمنسٹی سکیموں کی ضرورت کے مطابق تین ایمنسٹی ڈیکلریشنز فال کرنے کے بعد30جون 2018 کو نظرثانی شدہ سٹیٹمنٹ فائل کی تھی جب سے وزیر اعظم نے عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا ہے تب سے فرح خان کی دولت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ30جون 2017 تک ان کی کل دولت29کروڑ 76لاکھ 35ہزار 231 روپے سے 30جون 2018کو 61کروڑ 17لاکھ 14ہزار 652 روپے تک تین ایمنسٹی ڈیکلریشنز کی وجہ سے بڑھ گئی ہے جس میںیکم جولائی 2012 سے 30جون 2018 تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا تھا اور یہ تمام مدت پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت سے متعلق ہے۔ 2018 کی ایمنسٹی اسکیم کا اعلان شاہد خاقان عباسی نے 5 اپریل 2018 کو کہا تھا اور اس اسکیم کے تحت تین میں سے دو ایمنسٹی ڈیکلریشنز دائر کے گئے تھے اگرچہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 2019 کی ایمنسٹی اسکیم کے تحت تیسرا ایمنسٹی ڈیکلریشن دائر کیا گیا تھا لیکن اس میں یکم جولائی 2013سے 30جون 2018 تک 5 سال کیمدت کا احاطہ کیا گیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت بعد میں 18اگست 2018 کو قائم ہوئی تھی جب کہ عثمان بزدار20اگست 2018 کو وزیر اعلی بنے اس طرح پورا اضافہ پچھلی حکومت کی مدت سے متعلق تھا انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 47کروڑ 53لاکھ 6ہزار 940 روپے ظاہر کیے گئے اور ان پر1کروڑ 96لاکھ 59ہزار 347 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا گیا سپریم کورٹ پاکستان کی طرف سےان ایمنسٹی سکیموں کے تحت، ایمنسٹی ڈیکلریشنز میں70لاکھ 6ہزار 940روپے کی اضافی آمدنی اور40کروڑ 53لاکھ روپے کے اثاثے کل 2018 کی سکیموں کی توثیق کے بعد ملک بھر میں اربوں ٹیکس ادا کرنے والے ہزاروں ٹیکس دہندگان نے ایمنسٹی سکیموں سے فائدہ اٹھایا۔ 2018 اور 2019 کی دونوں ایمنسٹی سکیموں کو قومی اسمبلی نے لالہ کیا تھا اور ان میں یہ نشات موجود تھیں کہ سکیمیں احتساب آرڈیننس سمیت کسی بھی وقت نافذ العمل قانون کی دفعات کو زائل کر لیں گی اس میں مزید یہ بھی رکھا گیا کہٹیکس دہندگان کی طرف سے کئے گئے ڈیکلریشنز خفیہ ہوں گے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن (1)216 کے مطابق ٹیکس دہندگان کی معلومات کی رازداری کی ضمانت دی گئی ہے اور اگر کوئی سرکاری ملازم ٹیکس دہندگان کی معلومات ظاہر کرتا ہے، تو وہ سیکشن 196 کے مطابق ایک سال تک کی قید کی سزا کا مستحق ہے جبکہ صحافی وغیرہ جنہوں نے سرکاری ملازم کو ٹیکس دہندگان کیخفیہ معلومات افشاء کرنے پر اکسایا وہ دفعہ 199 کے تحت تین سال تک قید کی ٹیکس دہندہ نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مذکورہ شق کے تحت ایف بی آر کے ان اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کریں جنہوں نے خفیہ معلومات افشا کی تھیں اور ساتھ ہی ان صحافیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنہوں نے انہیں اس افشانی پر آمادہ کیا ہے جبکہ ٹیکس دہندہ مختلف قوانین کے تحت دستیاب حقوق کے مطابق دیوانی اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button