تازہ تریننیشنل خبریں

جب چڑیا چگ گئیں کھیت

محاورے کہاوتیں ہمارے لوک ادب کا حصہ ہیں۔ ان محاوروں اور کہاوتوں میں اہل دانش لوگوں کی ان تھک محنت مشاہدے اور دور اندیشی شامل ہوتی ہے۔ صدیاں گذر جانے کے باوجود وہ باتیں ہمیشہ اپنی تازگی کا احساس دلاتی ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہاوت یا محاورہ آج کیلئے ہے۔

روزمرہ کی زندگی سے لیکر امور مملکت چلانے کیلئے کچھ اصول اور قائدے ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیابی ملتی ہے نہیں تو ناکامی مقدر بن جاتی ہے۔ سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ صحیح آدمی کا انتخاب کیا جائے اور صحیح وقت پر صحیح کام کیا جائے۔ اگر صحیح کام صحیح وقت پر نہ کیا گیا تو وہ بےسود لگتا ہے اور کامیابی کی جگہ پر جگ ہنسائی ہوتی ہے۔

محاورے کہاوتیں ہمارے لوک ادب کا حصہ ہیں۔ ان محاوروں اور کہاوتوں میں اہل دانش لوگوں کی ان تھک محنت مشاہدے اور دور اندیشی شامل ہوتی ہے۔ صدیاں گذر جانے کے باوجود وہ باتیں ہمیشہ اپنی تازگی کا احساس دلاتی ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہاوت یا محاورہ آج کیلئے ہے۔

روزمرہ کی زندگی سے لیکر امور مملکت چلانے کیلئے کچھ اصول اور قائدے ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیابی ملتی ہے نہیں تو ناکامی مقدر بن جاتی ہے۔ سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ صحیح آدمی کا انتخاب کیا جائے اور صحیح وقت پر صحیح کام کیا جائے۔ اگر صحیح کام صحیح وقت پر نہ کیا گیا تو وہ بےسود لگتا ہے اور کامیابی کی جگہ پر جگ ہنسائی ہوتی ہے۔

مینار پاکستان کے جلسے کے بعد لوگ سمجھنے لگے کہ عمران خان کی طلسماتی شخصیت ہی پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر دنیا کے سامنے ایک مستحکم اور طاقتور ریاست کے طور پر لیکر آئے گی۔ ریاست مدینہ کی جہلک نظر آئے گی ۔ ملکی و غیر ملکی قرضوں سے نجات ملے گی۔ بیرونی ممالک سے لوگ پاکستان میں اپنے بچوں کا رزق تلاش کرنے آئیں گے۔ ہر سو خوشیاں ہی خوشیاں ہونگیں۔ لوگ پر امن فضا میں اپنے معاملات زندگی سرانجام دیں گے۔ بچے سکولوں میں یکساں نظام تعلیم کے تحت معیاری تعلیم حاصل کریں گے۔ امیر اور غریب کا فرق ختم ہو جائے گا۔ کمزور اور طاقتور کیلئے ایک ہی نظام عدل ہوگا۔ ہسپتالوں میں بہترین علاج میسر گا۔ پولیس تھانوں میں انسانیت سوز واقعات بند ہوجائیں گے۔ قبضہ مافیہ کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کسان خوشحال ہوگا۔ مزدور دیہاڑی اتنی کمائے گا کہ سکون سے کھا پی کر آرام سے سو سکے گا۔

انصاف کا حصول نہایت ہی آسان ہوجائے گا کیونکہ انصاف کے نام سے بننے والی پارٹی کا راج جو آنے والا تھا۔ یہ الگ بحث ہے کہ عمران خان کی حکومت کیسے قائم ہوئی کس نے قائم کرائی؟ کس کا دست شفقت ان کے سر اقدس پر آ گیا؟ ظاہری و باطنی قوتوں سے ناواقف ہم سادہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس پارٹی کو ہم ووٹ دیتے ہیں وہ پارٹی جیت جاتی ہے اور اس پارٹی کا منتخب کردہ شخص وزیراعظم بن جاتا ہے۔ ہمیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ آر اوز کس طرح الیکشن کے نتیجوں میں ردوبدل کرتے ہیں، آر ٹی سسٹم کیسے بیٹھ جاتا ہے؟

نئے پاکستان کی بات کر کے عمران خان صاحب وزیراعظم بن گئے۔ عوام نے سوچا راتوں رات سابقہ کرپٹ نظام تبدیل ہو جائے گا۔ سب منتظر تھے کہ اربوں ڈالر جو باہر پڑا ہوا ہے وہ واپس آ جائیگا، وہ پیسے منحوس آئی ایم ایف کے منہ پے مارے جائینگے۔ سرے محل نیلام ہوگا برطانیہ کی جائیدادیں نیلام ہوں گی۔ پیٹرول سستا ہو جائے گا کیونکہ خان صاحب کہا کرتے تھے کہ جب پیٹرول مہنگا ہو جائے تو سمجھ جائیں وزیر اعظم کرپٹ ہے ۔ ہمارا خان تو سپریم کورٹ سے مستند شدہ ایماندار شخص ہے۔ ایماندار شخص نے بے ایمان لوگوں سے قومی دولت واپس کرانے کیلئے نہایت ہی قابل انسان مرزا شہزاد اکبر کو اپنا مشیر برائے احتساب مقرر کیا جن کی انتھک کاوشیں ہم سب کے سامنے ہیں موصوف نے ساڑھے تین سالوں میں امریکا، برطانیہ سمیت سات ممالک کے وی آئی پی خرچے پر اپنی کھوجی ٹیم کے ساتھ بیس سے زیادہ دورے کئے جن پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ چور لٹیروں پر متعدد کیس بنائے گئے کچھ کو جیل میں بھی ڈالا گیا۔ لیکن پیسے کتنے ریکور ہوئے اس بات کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ مشیر صاحب جب میڈیا سے بات کرتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا کہ حزب اختلاف خاص طور پر شریف خاندان نے پورا ملک لوٹ لیاہے (جب تک فاضل عدالتیں کسی کو کرپٹ نہیں کہتیں میں چور لٹیرا نہیں کہہ سکتا) تین چار وزیر مشیر ن لیگ کی مرکزی قیادت کو چور لٹیرا ثابت کرنے کیلئے اپنی عدالت لگا دیتے تھے۔

شہزاد اکبر کی لاجواب کارکردگی کو دیکھتے ہوئے خان صاحب نے انہیں جس انداز سے رخصت ہونے کا کہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

نکلنا خُلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن,

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے.

قوم کے قیمتی پونے چار سال ناقص احتساب کے نام پر ایک نالائق شخص پر ضائع کئے گئے۔ اس دوران شہزاد اکبر نے سیاسی پارٹیوں بیورکریٹ اور عدلیہ کو بھی بخش نہیں کیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کا خاندان بھی ان کے غیرقانونی احتساب کے نام پر الزامات کا سامنا کرتا رہا۔ شہزاد اکبر کی ناکامی اور نالائقی کی وجہ سے جہانگیر ترین اور علیم خان بھی خان صاحب سے ناراض ہو گئے۔ شہزاد اکبر نے خان صاحب کو ایسا جکڑ کر رکھا کہ ان کی باتوں کے علاوہ ان کو کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ پانی جب سر سے گزر گیا تب خان صاحب کو بھی ہوش آیا کہ شہزاد اکبر احتساب کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔ آج حکومت کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں کہیں نہ کہیں شہزاد اکبر کا کچھ نہ کچھ ہاتھ ضرور ہے۔ ویسے بھی اس حکومت کا یہ وطیرہ رہا کہ غیر سیاسی و غیر منتخب لوگوں کو لایا جاتا رہا جنہوں نے عوام کے بجائے اپنا الو سیدھا کیا اور چلتے بنے ۔

کسی نے دوائوں کی کمپنیوں کو فائدہ دیا تو کسی نے کورونا ایشو پر اربوں روپے کی خورد برد کر دی۔ غیر سیاسی لوگوں کو پتا ہے کہ ہمیں عوام میں جانا نہیں اس لیئے بہتر ہے وہ فیصلے کریں جن سے اپنا اور اپنوں کا فائدہ ہو۔ یہ لوگ غیر سیاسی و غیر مہذب زبان استعمال کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے جس کا اندازہ ہم لوگ وزیراعظم کے مشیران کے انداز بیاں سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاریوں سے لیکر آج تک وزیر اعظم صاحب کے دوران گفتگو جس طرح غیر مہذب و غیر شائستہ الفاظ کا چناو کیا گیا ہے وہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتے۔ پونے چار سال تک صرف چور ڈاکو کا جو راگ سنایا جا رہا تھا وہ راگ سن سن کر قوم بھی تنگ آ گئی ہے۔کسی بھی چور ڈاکو کو ابھی تک سزا نہیں ملی۔ ویسے بھی خان صاحب یو ٹرن اور وقت پر فیصلے نہ کرنے کیلئے مشہور ہیں جس کا خمیازا عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ ملکی حالات اور حکومت کی کارکردگی کو دیکھ کر یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ” اب پچھتائے کیا ہوت ،جب چڑیا چگ گئیں کھیت”

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button