پاکستان

عمران خان نے ثابت کر دیا کہ وہ ملک کے کسی بھی اہم اور حساس عہدے کیلئے مس فٹ ہیں،مصطفی کمال

کراچی (این این آئی)پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ثابت کر دیا کہ وہ ملک کے کسی بھی اہم اور حساس عہدے کے لیے مس فٹ ہیں۔ ثابت ہوگیا کہ عمران خان احسان فراموش ہیں اور ان میں وفا نہیں۔ اللہ تعالی نے وزیراعظم بنا کر عمران خان کے ظرف کو بے نقاب کردیا ہے۔ عمران خان نے آج پوری دنیا میں پاکستان کےدشمنوں کو یہ باور کروا دیا ہے کہ پاکستان کے سارے سیاست دان چور اور اداروں کے سربراہان غدار ہیں۔ جو کام ہمارا دشمن بھارت 75

برس میں نہیں کرسکا وہ عمران خان نے چار ہفتوں میں کردیا۔ بھارت کے سو جنگی جہاز پاکستان میں جو تباہی نہیں پھیلا سکتے تھے، عمران خان نے اکیلے ہی اس سے زیادہ تباہی پھیلا دی ہے۔ عمران خان خود ہی بیک وقت وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس اور چئیر مین الیکشن کمیشن بننا چاہتے ہیں۔ امریکہ سے واپسی پر امت کی بیٹی عافیہ صدیقی کو واپس لاتے تو ہم سمجھتے کہ عمران خان میں امریکہ کیخلاف بڑی ہمت ہے۔ جب افغانستان سے فوجی انخلا ہوا اور معاہدہ میں امریکی جیلوں سے افغان قیدیوں اور افغان قید سے امریکیوں کو چھوڑا گیا تو اس وقت عافیہ کو کیوں نہیں چھڑایا۔ لیکن امریکیوں کے سامنے تو عمران خان کے پر جلتے ہیں۔ عمران خان کی امریکہ واپسی پر بھارت نے کشمیر ہڑپ لیا، اور احتجاجا ہمارے وزیراعظم نے اپنے ہی ملک میں آدھے گھنٹے کے لیے ٹریفک روک کر دنیا بھر میں پاکستان کو مزاق بنا دیا۔ آج نوٹنکی کرتے ہیں کہ امریکہ کے خلاف ہوں۔ عمران خان کی مجال نہیں کہ امریکہ کو آنکھ دکھائیں۔ خان صاحب کے حالیہ بیان سے ملک میں معاشی، سیاسی اور سرحدی حالات انتہائی کشیدگی کی طرف چلے گئے ہیں۔ عمران خان کو پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس نے جو صادق اور امین کا خطاب دیا وہ انہوں نے توشہ خانہ میں خرد برد کرکہ مٹی میں ملا دیا۔ اللہ کا نظام دیکھیں کہ جن علما، سیاسی و مذہبی جماعتوں نے انکا ساتھ دیا، اللہ نے ان سب کو بھی عمران خان کی وجہ سے بے نقاب کردیا۔ 15 مئی کو باغ جناح میں خواتین کا تاریخی جلسہ ہوگا جو بتائے گا کہ کراچی اب دھوکہ نہیں کھائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے چار سال میں صرف باتوں کا ٹورنامنٹ کھیلا، کرپشن، ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھر، سستا گھر اسکیم، بے روزگار اسکیم، دو سو ارب ڈالرز کی واپسی جیسے جھوٹے خواب عوام کو دکھائے، ان میں سے ایک بھی خواب پورا تو کیا ہوتا قوم سے باقی بچا کھچا بھی چھن گیا۔ ملک دیوالیہ ہونے کے نذدیک پہنچ گیا۔ عمران خان کی لگائی ہوئی آگ کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ہے لیکن انکو اپنی ذات کے علاہ کچھ نظر نہیں آرہا۔ بقول عمران خان جو ان کے ساتھ ہے وہ امر بلمعروف ہے اور جو خلاف ہو وہ نہی المنکر ہے۔ یہ چاہتے ہی کہ اسمبلی میں صرف پی ٹی آئی کے لوگ ہوں لگتا ہے، عمران خان کا خیال ہے کہ انھوں اس قوم میں پیدا ہوکر کوئی احسان کیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کی وجہ سے کرپٹ ظالم اور متعصب حکمران اور انکی اولادیں آج قوم پر مسلط ہوگئے ہیں۔ عمران خان کو پاکستان کی فکر ہوتی تو اپنے دور حکومت میں کوئی قانون سازی کرتے تاکہ ان چاروں سے جان چھوٹتی۔ اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرتے تو ان سے جان چھوٹ سکتی تھی۔لیکن کوئی ایک کام نہیں جو دنیا کے سامنے پیش کرسکتے، عمران خان چار سال بعد اپنی حکومتی نااہلی پر معزرت کے بجائے فرح گوگی کا دفاع کرہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ نفسیاتی مریض ہے اور کیس اسٹڈی کے طور پر ریاستی اداروں کے تعلیمی نصاب میں پڑھایا جائے گا کہ ایسے انسان سے دور رہنا۔ جس ادارے نے آپ کو وزیراعظم بنانے کے لیے ساری دنیا سے برائی لے لی آج یہ انکومیر جعفر میر صادق کا لقب دے رہے۔ ہم نے موت کو گلے لگایا اور وقت کے فرعون کے خلاف کھڑے ہوے اور اس شہر کو خون ریزی کی سیاست سے آزاد کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خان صاحب نے اپنی حکومت جانے کے بعد جو بیانہ اپنایا وہ بہت تشویشناک ہے، پہلے ایک خط لائے جس میں امریکہ پر ملکی سالمیت کے خلاف سازش کا الزام لگایا، نیشنل سکیورٹی کونسل نےاس بیانیے کی تردید کردی مگر پی ٹی آئی کے لوگ پوری دنیا میں اس پروپیگنڈا کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال حکومت کی کوئی ایک کارنامہ اپنے کارکنان کے سامنے رکھے اور میڈیا کو آگاہ کریں کچھ نہیں کیا صفر بٹا صفر کارکردگی،سندھ میں زرداری اینڈ کمپنی سے مکمل ہاتھ ملائے رکھا اور سندھ حکومت کو کھلی چھٹی دے دی گئ،ایم کیو ایم اس شہر کی جماعت تھی اور آپکی اتحادی وزارت کےباوجود آج کراچی کے لوگ کروڑوں روپے کا پینے کا پانی خرید رہے ہیں،جس زرداری کو آج چور کہہ رہے ہیں، حکومت گرنے سے چند گھنٹے قبل اسی آصف زرداری سے آخری رابطہ کیا کہ ہم کو بچالو ساتھ حکومت بناتے ہیں۔ اگر زرداری مان جاتے تو پھر زرداری بھی امر بلمعروف ہو جاتے۔ کچھ عرصہ پہلے جس زرداری کو سب سے بڑی بیماری کہ رہے ہیں اس زرداری سے ووٹ لے کر سینیٹ میں اپنا اسپیکر منتخب کرایا۔ انہوں نے کہا کہ تم کیا جانوں ریاست مدینہ کیا ہوتی ہے وہ کسی شہر کا نہیں اللہ کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کا نام ہے، اس ریاست میں سب کو امان تھی، کسی دشمن کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوئی۔ 2018 میں پی ایس پی کے خلاف بدترین دھاندلی ہوئی ہم نے کسی سے شکایت نہیں کی کسی ریاستی ادارے کو برا نہیں بولا حتی کے پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم بھی جوائن نہں کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button