اسلامک کارنر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

(( أَمَّا الثَّلَاثَۃُ الَّذِیْنَ یُحِبُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: فَرَجُلٌ أَتٰی قَوْمًا فَسَأَلَھُمْ بِاللّٰہِ وَلَمْ یَسْأَلْھُمْ بِقَرَابَۃِ بَیْنِھِمْ فَمَنَعُوْہُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِھِمْ فَأَعْطَاہُ سِرًّا لَا یَعْلَمُ بِعَطِیَّتِہِ إِلاَّ اللّٰہُ، وَالَّذِيْ أَعْطَاہُ۔ ))1

” وہ تین افراد کہ جنہیں اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے (ان میں سے ایک) تو وہ آدمی ہے جو کسی قوم کے پاس آکر اللہ کے نام پر مانگتا ہے ان سے کسی رشتہ داری کی وجہ سے نہیں مانگتا (لیکن پھر بھی)ٖ وہ اسے نہیں دیتے۔ چنانچہ ایک آدمی ان کے پیچھے ہوجاتا ہے اور سائل کو چھپ کر (صدقہ) دے دیتا ہے۔ اس کے عطیہ کو اللہ کے سوا اور دینے والے کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ”
شرح…: اللہ تعالیٰ نے فقراء و مساکین پر صدقہ کرنے کا حکم دیا اور چھپ کردینے کو اعلانیہ سے زیادہ پسند فرمایا ہے، لہٰذا چھپ کر صدقہ کرنے کی وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ کا پیار اور محبت نصیب ہوجائے تو اس سے بڑی بات کون سی ہے؟

فرمایا:اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیدہ مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔ ”
نفلی صدقہ کی پوشیدگی اظہار سے اعلیٰ و افضل ہے کیونکہ اس میں ریاء کاری سے بچاؤ ہوتا ہے اور اللہ کے اور صدقہ لینے والے کے علاوہ اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی، چنانچہ یہ طریقہ اخلاص اور اللہ کی رضا پر زیادہ دلالت کرنے والا ہے۔
اسی طرح تمام نفلی عبادات کا اخفا اعلیٰ و افضل ہے کیونکہ ریاء کاری کا اندیشہ نہیں ہوتا لیکن وجوبی عبادات میں یہ طریقہ اچھا نہیں۔

عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم إِتَّخَذَ حُجْرَۃً، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: مِنْ حَصِیْرٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلّٰی لَیَالِیَ، فَصَلّٰی بِصَلَاتِہِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہٖ، فَلَمَّا عَلِمَ بِھِمْ جَعَلَ یَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَیْھِمْ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُ الَّذِيْ رَأَیْتُ مِنْ صَنِیْعِکُمْ، فَصَلُّوْا أَیُّھَا النَّاسُ فِیْ بُیُوْتِکُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاۃِ صَلَاۃُ الْمَرْئِ فِيْ بَیْتِہِ، إِلاَّ الْمَکْتُوْبَۃَ۔ ))1
” زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک چٹائی کی اوٹ کر کے مسجد میں) حجرہ نشین ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ:میں خیال کرتا ہوں بے شک زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا یہ چٹائی بوریے کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی راتوں میں کئی دن اس اوٹ میں نماز پڑھتے رہے۔

صحابہ کرام میں سے بعض لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ رہنا شروع کر دیا ( اور نماز موقوف رکھی) پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے: بیشک میں نے تمہارے اس عمل کو دیکھ لیا ہے۔ پس تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو۔ بلاشبہ انسان کی فرضی نماز کے علاوہ نماز گھر میں زیادہ افضل ہے۔ ”
اس کی وجہ یہ ہے کہ فرائض میں دکھلاوے کا دخل نہیں ہوتا لیکن نفل ریا کاری کا نشانہ بنتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلْجَاھِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ۔))2

قرآن بلند آواز سے پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح اور آہستہ آواز سے پڑھنے والا پوشیدہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ ”
مطلب یہ ہے کہ آہستہ آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اونچی آواز والے سے افضل ہے کیونکہ اہل علم کے ہاں یہ بات مسلمہ ہے کہ صدقہ کا اخفاء اظہار سے اعلیٰ ہے۔
اہل علم کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ چھپ کر عمل کرنے والا خودپسندی سے بچ جاتا ہے، بخلاف ظاہری عمل کرنے والے کے کیونکہ اس پر خودپسندی کا خوف ہوتا ہے۔

لوگوں کی بھی یہی حالت ہے یعنی ان سے کسی عمل کو چھپانا، بتانے سے عمدہ ہے کیونکہ اگر بتایا جائے تو بسا اوقات صدقہ و خیرات کرنے والے پر ریاء کاری کا طعنہ اور لینے والے پر غنی ہونے کا الزام لگا سکتے ہیں۔ ہاں! اگر مقصد لوگوں کو بھی صدقہ و خیرات پر ابھارنا اور اکسانا ہو تو پھر اعلانیہ صدقہ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایسے صدقہ کرنے والے کو ایک تو سنت کے اظہار کا ثواب اور دوسرا نمونہ بننے کا ثواب ملتا ہے لیکن یہ جواز اس انسان کے لیے ہے جس کی نیت اچھی ہو اور اپنے نفس پر ریاء کاری کا ڈر نہیں رکھتا لیکن جو اس درجہ کا انسان نہیں اس کے لیے پوشیدہ خیرات افضل ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو فرمایا:
(( سِرٌّ إِلیٰ فَقِیْرٍ، وَجُھْدٌ مِنْ مُقِلٍّ۔ ))1

” فقیر کو پوشیدگی سے (صدقہ) دینا اور کم مایہ آدمی کا مشقت کے ساتھ صدقہ کرنا۔ ”
اللہ تعالیٰ نے خفیہ صدقہ کرنے والے کی عظمت اور وزنی ہونے پر تعریف، اسے سب سے زیادہ قوی کہہ کر کی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو اس نے ہلنا شروع کردیا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کرکے زمین پر ڈال دیا تو زمین ٹھہر گئی (ساکت ہوگئی) فرشتوں نے پہاڑوں کی پیدائش پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا: اے ہمارے رب! کیا پہاڑوں سے بھی زیادہ تیری مخلوق میں سے کوئی چیز قوی ہے؟ فرمایا: ہاں! لوہا ہے۔ فرشتوں نے پھر کہا: کیا لوہے سے بھی کوئی چیز تیری مخلوق میں سے زیادہ قوی ہے؟

فرمایا: ہاں! آگ ہے۔ انہوں نے پھر سوال کیا: آگ سے بھی زیادہ طاقت ور کوئی ہے؟ فرمایا: ہاں! پانی ہے۔ پھر پوچھا: کیا پانی سے بھی زیادہ قوت والی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں! ہَوا ہے۔ پھر عرض کی: کیا: ہَوا سے بھی قوی کوئی چیز تیری مخلوق میں سے ہے؟ فرمایا: ہاں! (وہ) ابن آدم جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے (اور) بائیں ہاتھ سے چھپاتا ہے۔ ”
چھپ کر صدقہ کرنے والے کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ وہ ان سات انسانوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنا سایہ نصیب کرے گا،

رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( سَبْعَۃٌ یُظِلُّھُمُ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِيْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّہُ: … رَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ۔ ))2
” سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنا سایہ نصیب کرے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا، (ان میں سے ایک آدمی) وہ ہے جو صدقہ کرتا ہے تو چھپاتا ہے حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہیں ہوتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button