تازہ ترینلائف سٹائل

سوشل میڈیا ایپس بمقابلہ کاغذ و قلم کا امتزاج

ٹک ٹک ٹک، گھر ہو یا سڑک ،دفتر ہو یا ہوٹل، ہر طرف ٹک ٹک ٹک اور ہیش ٹیگ کا شور، ٹرینڈز کے چکر میں نوجوان امی ابو کا خالہ اور چاچو سے باتیں کرنا تو دور کی بات، کھانا پینا اور چھوٹے بہن بھائیوں کو نہلانے اور کھلانے تک سے لاعلم ہو چکے ہیں۔ نگوڑے موبائل نے جہاں د نیا بھر کی معلومات آپ کی ہتھیلی پر رکھ دی ہے، وہیں ایک گھر کے اندر بھی دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ اسلام آباد کی ایک ٹھنڈی شام میں ایک ریسٹورنٹ کے کونے میں بیٹھی ایک آنٹی نے کولڈ کافی کی لمبی سے چسکی لی اور ساتھ بیٹھی خاتون سے گلہ کیا، دوسری خاتون نے بھی مہنگی شال درست کرتے ہوئے نزاکت اور شائستگی سے پلیٹ سے بار بی کیو کی ایک بوٹی کا ٹکڑا اٹھایا، پھر بولیں ، ہاں بھئی یہ تو ہے، میری بیٹی کے پا س تو وقت نہیں مجھ سے بات کرنے کےلئے، اسی لئے یہاں تمہارے پاس آگئی ہوں، انہوں نے ساتھ ہی پرس سے ٹشو پیپر نکال کر ہونٹوں پر لگی لپ سٹک صاف کی۔ ایک اہم میٹنگ کے لئے میں بھی اسلام آباد کے اسی ریسٹورنٹ میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ افسر کا انتظار کر رہی تھی۔ اسی لئے سوچ لیا کہ گھر واپس آکر اس موضوع پر ضرور لکھوں گی کہ آخر لکھنے لکھانے کے فائدے کیا ہیں؟؟؟۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button