اسلامک کارنر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

الحمد للہ.زيد بن ثابت رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 🙁 جس نے کسی روزہ دار کوافطاری کروائي اسے بھی اتنا ہی اجر وثواب حاصل ہوگا اورروزہ دار کے اجر وثواب میں سے کچھ بھی کمی نہيں ہوتی ) ۔سنن ترمذي حدیث نمبر ( 807 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1746 ) ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے بھی صحیح الجامع ( 6415 ) میں صحیح کہا ہے ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :افطاری کا معنی یہ ہے کہ اسے پیٹ بھر کرکھانا کھلایا جائے ۔ ا ھـ دیکھیں الاختیارات ( 194 ) ۔سلف صالحین رحمہم اللہ تعالی کھانے کھلانے کی حرص رکھا کرتے تھے اوراسے افضل عبادات میں سے خیال کرتے تھے ۔بعض سلف رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :مجھے اسماعیل کی اولاد سے دس غلام آزاد کرنےسے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے دس بھوکے ساتھیوں کو بلا کر کھانا کھلاؤں ۔

بہت سے صحابہ کرام اورسلف حضرات تو روزہ کی حالت میں اپنی افطاری کسی اورکودینے پر ترجیح دیتے تھے ، جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما ، اور داود الطائي ، مالک بن دینا ، احمد بن حنبل ، رحمہم اللہ تعالی عنہم ، شامل ہيں ، اورابن عمررضي اللہ تعالی عنہما تو یتیموں اورمسکینوں کے بغیر افطاری ہی نہیں کرتے تھے ۔اوربعض سلف حضرات تو اپنے مسلمان بھائیوں کو کھانے کھلاتے اورخود روزہ کی حالت میں ان کی خدمت کرتے تھے ، ان میں حسن بن مبارک شامل ہيں ۔ابوسوار عدوی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :بنوعدی کے لوگ اس مسجد میں نماز پڑھا کرتے ان میں سے کسی ایک نے کبھی بھی اکیلے کھانا نہیں کھایا تھا اور نہ ہی وہ اکیلے افطاری کرتے ، اگر انہیں کوئي مل جاتا تو اس کے ساتھ کھاتے وگرنہ وہ اپنا کھانا مسجد میں لا کر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کرکھاتے ۔

کھانا کھلانے کی عبادت میں سے کئي ایک عبادات پائی جاتی ہیں جن میں سے چندایک ذکر کیا جاتا ہے :آپس میں ایک دوسرے سے محبت وبھائي چارہ قائم ہوتا ہے جوجنت میں داخل ہونے ایک سبب ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے 🙁 تم اس وقت تک جنت میں داخل نہيں ہوسکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ ، اوراس وقت تک ایمان ہی نہیں جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 54 ) ۔اوراسی طرح اس میں نیک اورصالح لوگوں کے ساتھ مجلس اوراطاعت وفرمانبرداری میں ایک دوسرے کا تعاون ہے جوکھانے سے طاقت کے حصول کے بعد ہوتی ہيں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button