اسلامک کارنر

رسول ﷺ نے فرمایا کیا بیوی سے مرد کا نصیب کھلتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ تمام مرد اس بات کو لازمی جان لیں

عنوان: کیا یہ بات درست ہے کہ مال بیوی کی قسمت سے ہوتا ہے اور اولاد مرد کی قسمت سے ہوت 2) سوال:مفتیصاحب ! کیا یہ بات درست ہے کہ شوہر کو بیوی کی قسمت سے دولتلہذا ثابت ہوا کہ نکاح، غنٰی اور مالداری کا سبب ہے، لیکن یہ کہنا کہ مال بیوی کے نصیب سے ہوتا ہے، اسی وجہ سے ملتا ہے، یہ درست نہیں ہے، اسی طرح یہ کہنا کہ اولاد شوہر کے نصیب سے ہوتی ہے، یہ بھی درست نہیں، اولاد میاں بیوی دونوں کے نصیب(2)سوال:مفتی صاحب ! کیا یہ بات درست ہے کہ شوہر کو بیوی کی قسمت سے دولت ملتی ہے، اور اگر شوہر کا کاروبار نہ چل رہا ہو یا شوہر کو ملازمت نہ ملے، تو کیا یہ بیویکی قسمت کی وجہ سے ہوتا ہے؟ اور اگر ایسا ہی ہے، توایسی صورت میں اگر بیوی اپنے شوہر کی دوسری شادی کروادے، تاکہ شوہر کا کاروبار چل پڑے یاکوئی ملازمت مل جائے،

تو کیا یہ صحیح ہوگا؟جواب: قرآن کریم اور احادیث مبارکہسے صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ نکاح، غنٰی اورمالداری کا سبب ہے، درمنثور میں علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور فقر و فاقہ کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نکاح کرنے کا حکم دیا۔عنوان: کیا یہ بات درست ہے کہ مال بیوی کی قسمت سے ہوتا ہے اور اولاد مرد کی قسمت سے ہوتی ہے؟سے ہوتی ہے، جیسا کہارشادِ باری تعالی ہے{يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ یهب لمنیشاءاناثاویهب لمن یشاء الذکور او یزوجهم ذکرانا واناثا}اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اوربیٹیاںدونوں دیتا ہے۔اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس طرح کہنا کہ مال بیوی کے نصیب سے ہوتا ہے اور اولاد شوہر کے نصیب سے ہوتی ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button