پاکستان

کیا کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے بیان کسی مخصوص سیاسی جماعت کے لئے تھا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کر دیا

راولپنڈی (مانیٹرنگ، این این آئی) ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے ان کا بیان کسی ایک سیاسی جماعت کے لئے نہیں ہے پچھلے کچھ دنوں میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایسے بیانات دئیے ہیں جنہوں نے براہ راست فوج کی سینئر لیڈر شپ کے مورال پر منفی اثرات مرتب کئے، پاک فوج کے ترجمان میجر بابر افتخار نے ایک بار پھر کہا ہے کہسیاستدانوں کی طرف سے نامناسب بیانات دئیے جا رہے ہیں،بار بار کہہ رہے ہیں فوج کو سیاست سے دور رکھیں،کچھ عناصر چاہتے ہیں مسلح افواج

اور عوام کے درمیان محبت، اعتماد کے رشتہ میں کسی طرح سے دراڑ ڈالی جائے،یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی،آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں بالکل بھی مناسب نہیں،تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہو جائے گی اس موضوع کو بحث نہ بنائیں، الیکشن کرانے سے متعلق ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،جلد الیکشن کا فیصلہ سیاستدانوں نے کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں،سکیورٹی چیلنجز بہت زیادہ ہیں، ملکی حفاظت کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے،تنقید پر کسی کو پرابلم نہیں سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تنقید نہیں پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،سکیورٹی کے معاملے پر ہماری ضرورت پڑی تو فوج اپنی خدمات دینے کیلئے تیار ہے،ملک کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں،ملک پر کوئی آنچ نہیں دیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے اس میں سب کچھ واضح ہے، سینئر سیاستدانوں کی طرف سے مختلف مواقعوں پر نامناسب بیانات دئیے جا رہے ہیں، کافی عرصے سے برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بار بار کہہ رہے ہیں کہ فوج کو سیاست سے دور رکھیں، ملک میں سکیورٹی کے چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری افواج سرحدوں اور اندرون ملک اہم ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں،تمام فوکس ان تمام ذمہ داریوں پر ہے، سیاسی حالات میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، میں میڈیا، سیاستدانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں بالکل بھی مناسب نہیں ہے، تقرری کا طریقہ کار آئین اور قانون میں واضع کر دیا ہے، تقرری آئین اور قانون کے مطابق ہو جائے گی، اس موضوع کو بحث بنانا اور بات چیت کرنا اس کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ایک بار پھر درخواست ہے اس کو موضوع بحث نہ بنائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button