اسلامک کارنر

زلزلے کیوں آتے ہیں ، جب اماں عائشہؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کیا جواب دیا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا زلزلے کیوں آتے ہیں؟ارشاد فرمایا کہ عورتیں غیر مردوں کے لیے خوشبو استعمال کریں۔ جب عورتیں غیر محرم مردوں کے سامنے جانے میں جھجھک محسوس نہ کریں۔ تو زلزلے کی توقع رکھنا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آئیں تو اُس وقت اُن کا سن 40 سال کا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن مبارک 25 سال کا تھا۔ اور حضرت خدیجہ بنت خویلد مزید 25 سال تک شرفِ زوجیت میں رہیں۔ ماہِ رمضان 10 نبوی مطابق اپریل 619ء میں حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے 65 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن 50 سال تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین رہنے لگے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ہمراہ ہر موقع پر ساتھ دیتی رہیں، آپ کے ساتھ ہمدردی کرتی رہیں، مصائب میں آپ کا ہاتھ بٹاتی رہیں، سب سے پہلے آپ کے رسول و نبی ہونے کا اقرار کیا، ایسی غمگسار اور رفیق زوجہ کی جدائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ملول رہا کرتے، بلکہ تنہائی کے غم میں زندگی میں دشواری آنے لگی۔

جانثاران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت فکر لاحق ہوئی، مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون (متوفی 2ھ/ 624ء) کی زوجہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا بنت حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ دوسرا نکاح کر لیں۔ آپ نے فرمایا: کس سے؟ خولہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: بیوہ اور کنواری دونوں طرح کی لڑکیاں موجود ہیں، جس کو آپ پسند فرمائیں اُسی کے متعلق گفتگو کی جائے۔ فرمایا: وہ کون ہیں؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیوہ تو سودہ بنت زمعہ ہیں اور کنواری ابوبکر ( رضی اللہ عنہ) کی بیٹی عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔ ارشاد ہوا: بہتر ہے تم اِن کی نسبت گفتگو کرو۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں اور اُن سے تذکرہ کیا۔ دورِ جاہلیت میں دستور تھا جس طرح سگے بھائیوں کی اولاد سے نکاح جائز نہیں، اِسی طرح عرب اپنے منہ بولے بھائی کی اولاد سے بھی شادی نہیں کیا کرتے تھے۔ اِس بنا پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: خولہ! عائشہ (رضی اللہ عنہا) تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بھتیجی ہے، آپ سے اُس کا کیونکر نکاح ہو سکتا ہے؟ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اِستفسار کیا تو آپ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے دینی بھائی ہیں اور اِس قسم کے بھائیوں سے نکاح جائز ہے۔[27] حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اُنہوں نے قبول کر لیا۔

لیکن اِس سے قبل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جبیر بن مطعم کے بیٹے سے ہوچکی تھی، اِس لیے اُن سے پوچھنا بھی ضروری تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جبیر سے جا کر پوچھا کہ تم نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی نسبت اپنے بیٹے سے کی تھی، اب کیا کہتے ہو؟ جبیر نے اپنی بیوی سے پوچھا۔ جبیر بن مطعم کا خاندان ابھی اسلام سے آشنا نہیں ہوا تھا، اُس کی بیوی نے کہا: اگر یہ لڑکی (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) ہمارے گھر آگئی تو ہمارا بچہ بے دِین ہو جائے گا (یعنی بت پرستی چھوڑ دے گا)، ہم کو یہ بات منظور نہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button