تازہ تریندلچسپ و عجیب

جہاز سمندر میں گرادونوں پائلٹ زندہ بچ گئے لیکن پھر ایک پائلٹ جہاز سے باہر نکلا تو شارک مچھلیاں آگئیں اور پھر ۔۔۔ رونگٹے کھڑے کردینے والی تفصیلات

کسی ہوائی جہاز کے سمندر میں گر کر نو دن تک تیرتے رہنے اور پائلٹ کو شارک مچھلیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی کہانی کسی فلم کی کہانی لگتی ہے مگر آپ کو یہ سن کر سخت حیرت ہو گی کہ یہ ہولناک حادثہ حقیقت میں رونما ہو چکا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ واقعہ میکسیکو میں 13فروری 1948ءکو پیش آیا تھا جب دو پائلٹس ایسٹیبن ڈی لائن اور نیل وومیک کو میکسیکو کے شہر کارمین سے جھینگے لانے کے لیے ’سی 47‘ طیارے پر بھیجا گیا تھا۔

جب وہ اپنی منزل سے 40میل کے فاصلے پر تھے، ان کا جہاز اچانک بے قابو ہو کر سمندر میں گر گیا۔ جہاز گرنے کے بعد سمندر کے پانی پر تیرنے لگا اور خوش قسمتی سے دونوں پائلٹس اس واقعے میں زندہ بچ گئے تاہم زندہ بچ جانا نیل کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی ثابت ہوا۔ ایسٹیبن نے بعد ازاں بتایا کہ چند دن جہاز میں مقید رہنے اور زخموں کی وجہ سے نیل کی ذہنی حالت متاثر ہوئی اور وہ آپے سے باہر ہو کر جہاز سے نکل کر اس کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا۔
ایسٹیبن بتاتا ہے کہ ”میں نے نیل کو سمجھانے اور اندر آنے کی بہتیری کوشش کی لیکن وہ نہیں مانا۔ سمندر میں اس جگہ شارک مچھلیوں کو بہتات تھی اور جس دن سے ہمارا طیارا گرا تھا، ان خونخوار مچھلیوں نے اس کا گھیراﺅ کر رکھا تھا۔ نیل کچھ دیر جہاز کے اوپربیٹھا رہا اور پھر پھسل کر سمندر میں جا گرا اور میں نے شارک مچھلیوں کو اسے چیرتے پھاڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ “

رپورٹ کے مطابق نیل اور ایسٹیبن کے طیارے کو حادثہ پیش آنے کے بعد ان کی تلاش کے لیے ایک آپریشن شروع کیا گیا تھا تاہم ایک ہفتے تک ان کا کوئی سراغ نہ ملنے پر آپریشن روک دیا گیا۔ اس وقت تک وہ دونوں زندہ تھے۔ تاہم آپریشن کرنے والے عملے کو نہ مل سکے۔ نیل کی موت کے دو روز بعد ایک چھوٹا بحری جہاز اس علاقے سے گزرا ، جس کے عملے نے پانی پر تیرتے ہوئے اس جہاز کو دیکھ لیا اور ایسٹیبن کی جان بچا لی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button