نیشنل خبریں

کورونا وائرس کی ایک اور نئی قسم دنیا میں تیزی سے پھیلنے لگی

نئی دہلی (این این آئی) ماہرین نے کورونا وائرس کی ایک اور بہت تیزی سے پھیلنے قسم کے سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اومیکرون کی یہ نئی قسم اس وقت کئی ممالک میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔بی اے 2.75 نامی اس قسم کو سینٹورز کا نام بھی دیا گیا ہے جو سب سے پہلے مئی 2022 کے شروع میں بھارت میں دریافت ہوئی تھی،

اس کے بعد سے یہ کئی ممالک میں اومیکرون کی ایک اور بہت تیزی سے پھیلنے والی قسم بی اے 5کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔بی اے 2.75کو اب تک برطانیہ، امریکا، آسٹریلیا، جرمنی اور کینیڈا سمیت 10سے زیادہ ممالک میں دریافت کیا جاچکا ہے۔یورپین سینٹرز فار ڈیزیز پریونٹیشن اینڈ کنٹرول (ای سی ڈی سی)نے اومیکرون کی اس نئی قسم کو انڈر مانیٹرنگ ویرینٹ قرار دیا تھا۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی کورونا کی اس نئی قسم کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور ادارے کی عہدیدار ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن کے مطابق ابھی بی اے 2.75کے حوالے سے دستیاب نمونوں کی تعداد ناکافی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ بی اے 2.75میں بہت زیادہ تعداد میں میوٹیشنز ہوئی ہیں۔برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر اسٹیفن گرافن نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس بہت تیزی سے خود کو بدل رہا ہے۔ امپرئیل کالج لندن کے وائرلوجسٹ ڈاکٹر ٹام پیکاک نے بتایا کہ ابھی اس نئی قسم میں ہونے والی میوٹیشنز کے بارے میں کوئی پیشگوئی کرنا مشکل ہے، یعنی اس سے وائرس کو پھیلنے میں کس حد تک مدد ملے گی ابھی کہنا مشکل ہے۔ڈاکٹر ٹام پیکاک نے ہی نومبر 2021میں سب سے پہلے اومیکرون قسم کو شناخت کیا تھا ،اب ان کا کہنا ہے کہ یہ نئی قسم بی اے 5کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں یہ نئی قسم بہت تیزی سے پھیل رہی ہے

مگر وہاں کا ڈیٹا ابھی بہت زیادہ واضح نہیں۔ڈاکٹر اسٹیفن گرافن نے کہا کہ اس سے وائرس کی اپنے اسپائیک پروٹین میں تبدیلیاں لانے کی حیرت انگیز صلاحیت کی مثال ملتی ہے،

اسپائیک پروٹین کو یہ وائرس انسانی خلیات متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور بیشتر ویکسینز میں وائرس کے اسی حصے کو ہدف بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بیشتر افراد ڈیلٹا کو ہی وائرس کا ارتقائی عروج تصور کررہے تھے، مگر اومیکرون کی آمد اور اینٹی باڈیز کے خلاف

وائرس کی بڑھتی مزاحمت سے عندیہ ملتا ہے کہ اس وائرس کو انفلوائنزا جیسا سمجھنا ٹھیک نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button