پاکستان

روس سے تجارت پر بھارت کو امریکی پابندیوں سے استثنیٰ دینے کی ترمیم منظورکرلی گئی

واشنگٹن (این این آئی)امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قانونی ترمیم منظور کی ہے جو روس سے میزائل خریدنے پر بھارت کو تعزیری پابندیوں سے بچائے گی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل منظور ہونیوالی بھارت سے متعلق ترمیم کو صدر جو بائیڈن کے دستخط سے پہلے

سینیٹ سے گزرنا باقی ہے۔بھارتی نژاد امریکی کانگریس مین رو کھنہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ ترمیم بائیڈن انتظامیہ پر زور دیتی ہے کہ وہ بھارت کو کائونٹرنگ امریکاز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (کاٹسا)سے چھوٹ دے جو ماسکو سے ہتھیار خریدنے پر نئی دہلی کے خلاف فوری پابندیاں لا سکتا ہے۔ترمیم کا استدلال ہے کہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے اس طرح کی چھوٹ کی ضرورت ہے،اس سے قبل اس ترمیم کو 2023کیلئے امریکی دفاعی بل پر غور کے دوران ایک این بلاک ترمیم کے حصے کے طور پر زبانی ووٹ سے منظور کیا گیا تھا۔امریکا بھارت کو چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے ‘کواڈ’ کے نام سے جانا جانے والے اتحاد میں بھی شامل کیا ہے جس کا مقصد بحرالکاہل کے علاقے میں چین کا مقابلہ کرنا ہے۔2017میں امریکی کانگریس کے ذریعہ نافذ کیا گیا، کاسٹا نامی قانون روسی دفاع اور انٹیلی جنس کے شعبوں کے ساتھ لین دین میں شامل کسی بھی ملک کے خلاف تعزیری کارروائیوں کا بندوبست کرتا ہے۔روس-یوکرین جنگ کے دوران نئی دہلی کی جانب سے ماسکو سے ایس400میزائل ڈیفنس سسٹم کو حاصل کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کاسٹا بھارت-امریکا تعلقات میں ایک اہم نقطہ بن گیا تھا۔

مئی میں سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ سینیٹر باب مینینڈیز نے کانگریس کی سماعت میں نشاندہی کی تھی کہ بھارتی روس سے تیل خریدتے ہیں، وہ ایس400اینٹی میزائل سسٹم خریدتے ہیں، اقوام متحدہ میں(روس پر تنقید کرنیوالے ووٹوں پر)گریز کرتے ہیں اور پھر بھی ان کو ان خلاف ورزیوں کی سزا نہیں دی گئی۔تاہم مین رو کھنہ جو امریکی کانگریس میں انڈیا کاکس کے وائس چیئرمین ہیں، انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ

‘چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ کھڑا رہے۔دوسری جانب رواں ہفتے رائٹرز نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ جون میں روس سے بھارت کی تیل کی درآمدات تقریبا 9لاکھ 50ہزار بیرل یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ بھارت نے جون میں تقریبا 48لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ترسیل کی، جو کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریبا 23فیصد زیادہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button