پاکستان

سپریم کورٹ نے منحرف اراکین پارلیمنٹ سے متعلق آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لئے دائر صدارتی ریفرنس کا محفوظ شدہ مختصر آرڈر سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں،انحراف کرنا سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کر سکتا ہے،آرٹیکل 63 اے کی اصل روح ہے کہ سیاسی جماعت کے کسی رکن کو انحراف نہ کرنا پڑے، آرٹیکل 63 اے کا مقصد جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے، منحرف ارکان کی نااہلی کیلئے قانون

سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، وقت آ گیا ہے کہ منحرف ارکان کے حوالے سے قانون سازی کی جائے،مذکورہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطائ￿ بندیال نے پڑھ کے سنایا ہے۔تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائیگا ۔صدارتی ریفرنس سننے والے پانچ رکنی بینچ نے تین دو کے تناسب مذکورہ فیصلہ جاری کیا ہے۔ قبل ازیں منگل کی صبح معاملہ کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر مسلم لیگ (ن ) کے وکیل مخدوم علی کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کراتے ہوئے موقف اپنایا کہ حالات تبدیل ہو گئے، حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے اپنے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے موقف اپنایا کہ عدم حاضری پر سوشل میڈیا پر میرے خلاف باتیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ کیا آرٹیکل 63 اے ایک مکمل کوڈ ہے،کیا آرٹیکل تریسٹھ اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے،کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا،عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے،صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا،صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے،ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھے۔اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ صدر مملکت کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں ،آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں،اس صورت میں کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مجھے حکومت کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں ملیں،اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گاجو پہلے تھا،میں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ریفرنس ناقابل سماعت ہے،کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے۔جسٹس منیب اختر نے اس موقع پر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا،بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں۔جس پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ ریفرنس سابق وزیراعطم کی ایڈوائس پر فائل ہوا، میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے،سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلائ￿ موجود ہیں، صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا ،قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔ اس دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا،تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں،ڈیرھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں،صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں،صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ کافی آگے نکل چکا ہے،آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں دوسرا فریق سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس دوران اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے،عدالتی آبزرویشنز سے اتفاق نہیں کرتا لیکن سر تسلیم خم کرتا ہوں، عدالت نے رکن اور سیاسی جماعت کے حقوق کو بھی دیکھنا ہے، انحراف پررکن کے خلاف کاروائی کا طریقہ کار آرٹیکل 63 اے میں موجود ہے، آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف پر اپیلیں عدالت عظمیٰ میں آئیں گی، صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینے سے اپیلوں کی کاروائی پر اثر پڑے گا،آرٹیکل 63ون کے انحراف سے رکن خودبخود ڈی سیٹ نہیں ہو جاتا، انحراف کرنے سے رکن کو شوکاز نوٹس سے وضاحت مانگی جاتی ہے،سربراہ وضاحت سے مطمئن نہ ہو تو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔اس موقع پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں اپنی سالانہ تقریر میں یہ معاملہ کبھی اٹھایا،کیا ارٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے کبھی کسی جماعت نے کوئی اقدام اٹھایا،کیا کسی سیاسی جماعت نے تریسٹھ اے کی تشریح یا ترمیم کے لیے کوئی اقدام اٹھایا۔ اس دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سینٹ میں ناکامی کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے ارکان کو کوئی ہدایات جاری نہیں کی،عمران خان نے ارکان سےاعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے بیان جاری کیا، عمران خان نے کہا ارکان اپنے ضمیر کے مطابق مجھے اعتماد کا ووٹ دینے کا فیصلہ کریں، عمران خان نے کہا مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو گھر چلا جاؤں گا، عدم اعتماد کی تحریک کے وقت بھی عمران خان وزیراعظم تھے، عمران خان نے اپنے پہلے موقف سے قلا بازی لی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اس دوران اٹارنی جنرل سےاستفسار کیا کہ کیا وزیراعظم اپنی ہدایات میں تبدیلی نہیں کر سکتا، کیا وزیراعظم کے لیے اپنی ہدایات میں تبدیلی کی ممانعت ہے،کیا انحراف کرنا بددیانتی نہیں ہے، کیا انحراف کرنا امانت میں خیانت نہیں ہوگا،خیانت کی ایک خوفناک سزا ہے،کیا انخراف پر ڈی سیٹ ہونے کے بعد آرٹیکل 62( 1) ایف کا اطلاق ہو سکتا ہے، کیا انحراف کرکے ڈالا گیا ووٹ شمار ہوگا،ان سوالات کے برائے راست جواب دیں،خیانت کی ایک خوفناک سزا ہے۔جس پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم نے آئین کے تحت حلف لیا ہوتا ہے،وزیر اعظم اپنی بات سے پھر نہیں سکتا، خیانت بہت بڑا جرم ہے۔ اس دوران جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ ایک خیانت اپنے ضمیر کی بھی ہوتی ہے، کیا ضمیر سے خیانت کرکے کسی کی مرضی سے ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہ عدالت کے سوال کا جواب نہ دے پاؤں لیکن اپنی گزارشات تو دے سکتا ہوں، رکن عوام سے پانچ سال کے لئے ووٹ لیکر آتا ہے، وزیراعظم ارکان کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے،عوام کے سامنے ارکان جوابدہ ہیں،اگر کوئی وزیر اعظم عوام سے کیے وعدہ پورے نہ کرے تو کیا ہوگا۔جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس صورت میں ارکان استعفے دے دیں۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا منحرف کی سزا کے لیے قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ جس پر اٹارنی جنرل

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button