تازہ تریننیشنل خبریں

جماعت اسلامی نے مفادات کی لڑائی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملکی سیاست بند گلی میں داخل ہو گئی، حکومت اور اپوزیشن کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ گھروں پر حملے، چاردیواری کے تقدس کی پامالی اسلامی کلچر ہے نہ سیاسی و جمہوری۔ ملک جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، جمہوریت کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ مسائل کا سیاسی و آئینی حل تلاش کیاجائے۔ آئینی حل کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنا، جمہوری رویوں کی نفی ہے۔ جماعت اسلامی نے اس مفادات کی لڑائی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ نظریاتی و اصولی سیاست ناپید ہے، سیاسی افراتفری کا نقصان ہمیشہ جمہوریت کے خاتمہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ سیاست دانوں کے درمیان لگی مفادات کی آگ سے پوری قوم جل رہی ہے۔ لوٹا کریسی اور ہارس ٹریڈنگ کا کلچر دہائیوں سے جاری ہے ، تینوں بڑی حکمران جماعتیں اس میں ملوث ہیں۔نظریاتی سیاست کی غیر موجودگی کی وجہ سے سیاست دانوں کی خریدوفروخت کے کلچر کو فروغ ملا۔ سیاست دانوں کی تربیت اگر گراس روٹ لیول سے شروع ہواور وہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سیاست کریں، تو وہ کبھی بھی لوٹاکریسی اور ہارس ٹریڈنگ کے مکروہ عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جاری تماشے نے پوری دنیا میں پاکستان کا تمسخر اڑ ا دیا۔ ایک دوسرے کو گالیاں بکی اور گریبان پکڑے جا رہے ہیں۔ کوئی اعلان کرتا ہے کہ 10 لاکھ کا جلسہ کروں گا، دوسرا کہتا ہے 20 لاکھ بندے اسلام آباد آئیں گے۔ سیاست دانوں کے درمیان معرکہ آرائی 22کروڑ عوام کے لیے نہیں ہو رہی۔ جماعت اسلامی نے اس مفادات کی لڑائی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں محض اقتدار کے لیے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں اور حکمران اشرافیہ اقتدار پر اس لیے قابض رہنا چاہتی ہے تاکہ اپنی دولت اور جاگیروں میں مزید اضافہ کر سکے۔ حکمران اپنے شہزادوں اور شہزادیوں کا مستقبل بنا رہے ہیں، 74برسوں سے یہی کھیل جاری ہے، پہلے 22خاندان تھے، اب 35ہو گئے ہیں، جو تینوں جماعتوں میں نظر آئیں گے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ملک کا نظریہ اور جغرافیہ تباہ کیا۔ ایک طرف پی ٹی آئی ہے جو پونے چار سالوں سے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کر رہی ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو برسہابرس سے اقتدار پر براجمان رہے، مگر قوم اور ملک کے لیے کچھ نہیں کیا۔ حکومت کی کارکردگی صرف ٹی وی سکرینوں پر نظر آتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان دنگل بند ہونا چاہیے، اگر نظام نہیں چلتا تو فریش انتخابات ہوں، تاکہ ملک کے وارث عوام اپنی مرضی سے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔ قوم سے کہتا ہوں کہ سٹیٹس کو اور استعمار کے آلہ کاروں کو مسترد کر کے جماعت اسلامی پر اعتماد کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button