تازہ تریندلچسپ و عجیب

وہ علامات جو آپ کو سوچنے پر مجبور کردیں

انسان معاشرتی حیوان ہونے کے ناطے دوسروں کے ساتھ رابطے پر مجبور ہے اور اپنے کنبے کا پیٹ پالنے کے لئے ذریعہ معاش بھی اختیار کرتا ہے ۔ قسمت کی بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کو اپنی من پسند نوکری بھی مل جائےاور آپ کی تمام تر ضروریات پوری ہو رہی ہوں لیکن خطرے کی گھنٹی وہاں بجتی ہے جہاں آپ کی پسندیدہ نوکری ہولیکن پھربھی آپ بیزاری اور چڑچڑے پن کا شکار ہو رہے ہوں اور آپ کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہو ۔

ایسی صورتحال میں آپ کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے بعض اوقات ہم چھوٹی چھوٹی ایسی جسمانی یا نفسیاتی علامات کو نظر انداز کردیتے ہیں تو پھربہتری کا سفر اگر ناممکن نہیں بھی ہوتا تو مشکل ضرور ہو جاتا ہے ۔ بہت سے لوگ نہ صرف دفترمیں کام کرتے ہیں بلکہ گھر میں بھی دفتر کھولے رکھتے ہیں جس سے ذہنی تنائو میں اضافہ ہوتا ہے جب ذہنی دبائو بڑھتا ہے اور گھر پر بھی بے جا مصروفیت رہتی ہے تو سب سے پہلے نیند پر اثر پڑتا ہے ۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑنے لگتے ہیں اور بے خوابی نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے ۔
ایک اور مسئلہ جو سامنے آتا اور ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہماری ملازمت ہماری صحت پر اثر انداز ہو رہی ہے وہ حد سے زیادہ جسمانی تھکاوٹ ہے کیونکہ انسانی جسم ایک مشین کی مانند ہے جو ایک مخصوص حد میں ہی کام کر سکتا ہے ۔ جب مناسب آرام نہ کیا جائے تو جسم میں درد اور پٹھوں میں کھنچائو جیسے مسائل عام طور پر سامنے آتے ہیں ۔ آج کل زیادہ تر کام ڈیجیٹل ہے لیپ ٹاپ اور موبائل کے ذریعے سب کام ہو رہے ہیں تو ایسی صورت میں لگاتاران آلات کا استعمال انسان کو پریشان کرنے کے لئے کافی ہے ۔
ملازمت جب ہماری صحت پر برے اثرات ڈالتی ہے تو ہمیں جسمانی تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ منفی خیالات بھی آنے لگتے ہیں ۔ کیونکہ ہم جیسا جسیا سوچتے ہیں ویسا ویسا ہی ہونے لگتا ہے ۔ گویا انسان کا تخلیقی سفر رک جاتا ہے ، وہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ایک مشین بن جاتا ہے گویا ایک بے کار پرزے کی مانند ہو جاتا ہے ۔

جب آپ کس بھی ذہنی الجھن کا شکار ہوتے ہیں اور ڈیڈ لائن کے مطابق دفتری کام پورا نہیں کر پاتے ۔ جیسے کبھی حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ لائیٹ چلی جائے ، گھر میں مسائل چل رہے ہوں تو سٹریس بڑھنے لگتا ہے اور یہ چیز یہاں نہیں رکتی بلکہ مسلسل پریشانی سے وزن بڑھتا ہے اوربعض اوقات کم بھی ہونے لگتا ہے ۔
ملازمت سے بے دخل کئے جانے کا خوف درحقیقت آپ کو زیادہ سے زیادہ کام پر مجبور کرتا ہے آپ کی فیملی بھی پریشانی کا شکار ہونے لگتی ہے ۔ اب اگر بات کریں فیملی کی پریشانی کی تو اکثر اوقات بہت سے افراد دفتر کا غصہ بچوں اور بیوی پر نکال دیتے ہیں بیگم کی سیدھی بات بھی انھیں تیر کی طرح لگتی ہے ۔ فرسٹریشن کا شکارایسے لوگ بچوں کو بھی چار پانچ تھپڑ لگا دیتے ہیں بعد میں انھیں افسوس بھی ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا ؟ گھر میں توڑ پھوڑ بھی کر دی لیکن تب تک وقت گذر چکا ہوتا ہے ۔
سو آپ کے رویے میں تبدیلی بھی ملازمت کے پریشر کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ سوچ سوچ کر آپ ماسوائے خود کے کسی اور کو پریشان نہیں کرتے پھر یا تو خوراک کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے یعنی بسیار خوری کی جاتی ہے یا پھر بالکل ہی بھوک اڑ جاتی ہے ۔ یہ سب چھوٹی علامات بڑی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں ۔ مسلسل تھکن ۔ ذہنی دبائو شوگر اور ہارٹ پرابلم جیسی مہلک بیماریوں میں بھی مبتلا کر سکتی ہیں سو بہتر یہی ہوتا ہے کہ ورک اسڑیس اتنا ہی لیں جتنا ضروری ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button