تازہ ترینانٹرنیشنل خبریں

بیجنگ سرمائی اولمکپس نے کامیابیوں کی انتہائی بلندیوں کو چھو لیا

بیجنگ سرمائی اولمپکس شاندار انداز میں جاری رہے۔ 109 گولڈ میڈلز کی دوڑ میں 3000 کے قریب اتھلیٹس شریک ہوئے اور چین اور دنیا بھر سے 12 ہزار سے زائد میڈیا اہلکاروں نے ان گیمز کی کوریج کی۔ ان کھیلوں میں خواتین کی تعداد اب تک منعقد ہونے والے سرمائی کھیلوں میں سب سے زیادہ تھی۔ ان کھیلوں کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس مرتبہ سات کھیل پہلی مرتبہ شامل کئے گئے۔ وبا کے مشکل دور میں بیجنگ سرمائی اولمپکس کے کامیاب اور بروقت انعقاد نے دنیا کو یقین اور اعتماد دیا ہے۔

بیجنگ سرمائی اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے مطابق بیجنگ سرمائی اولمپکس بہت کامیاب رہے اور اس دوران متوقع اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔ بیس تاریخ کو بیجنگ سرمائی اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے ایگزیکٹیو وائس چیئرمین چانگ جین ڈونگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ موجودہ بیجنگ سرمائی اولمپکس وبائی صورتحال کے تحت منعقد کیے گئے ہیں، یہ چین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر سامعین سے متعلق امور ۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی نے کلوزڈ لوپ کے اندر اور باہر شائقین کو سرمائی اولمپکس دیکھنے کے لیے منظم کیا۔ کلوزڈ لوپ میں موجود ناظرین میں مختلف وفود کے کھلاڑی اور دوسرے ارکان شامل ہیں۔ کلوزڈ لوپ سے باہر کے ناظرین میں رضاکارانہ طور پر سائن اپ کرنے والے چینی باشندے اور چین میں موجود غیر ملکی دوست شامل ہیں۔ فی الحال، ان سب نے اچھا ردعمل دیا ہے .چانگ جین ڈونگ نے کہا، "اگرچہ یہ سرمائی اولمپکس وبائی صورتحال کے تحت منعقد کی گئیں ،لیکن پھر بھی یہ بہت کامیاب رہیں اور ہمیں متوقع اہداف حاصل ہوئے ہیں۔

متعدد ممالک کی میڈیا شخصیات نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کو سراہا ہے اور کہا کہ سرمائی اولمپکس بہت کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔

قبرص کے قومی ٹیلی ویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارسٹو دیمو نے کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس کے آغاز کے بعد سے، قبرص کے قومی ٹیلی ویژن نے ان کھیلوں کی جامع کوریج کی ہے، جس کا کل دورانیہ تقریباً 60 گھنٹے ہے۔ قبرص کے سرکاری ٹیلی ویژن کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی کوشش سرمائی اولمپکس کے لیے وقف کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اختتامی تقریب بھی بہت کامیاب ہوگی۔ کیونکہ اب تک چین کی طرف سے منعقد ہونے والی بڑی گیمز بہت کامیاب رہی ہیں۔ امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز” نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایک طویل عرصے سے چین نے بڑی تعداد میں ریلوے، ہائی ویز اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کیے ، جس سے چینی شہریوں کے لیے ملازمتوں کے لاکھوں مواقع پیدا ہوئے اور نقل و حمل کم خرچ اور باسہولت ہوئی۔ چین کو توقع ہے کہ 2022 کے سرمائی اولمپکس کے ذریعے، چین اسکیئنگ، آئس ہاکی اور دیگر سرمائی کھیلوں میں چینی عوام کی دلچسپی کو فروغ دینے میں کامیاب رہے گا، اس طرح صارفین کی خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی ،خاص طور پر ملک کے سرد اور معاشی طور پر پسماندہ شمال مشرقی علاقے میں۔ چین کا خیال ہے کہ سرمائی اولمپکس شمالی چین کے زیادہ تر حصے کو عالمی سرمائی کھیلوں کی منزل میں بدل دیں گے۔ اس کے علاوہ، چین کے لیے اولمپکس دنیا کو ملک کے داخلی اتحاد اور اعتماد کو دکھانے کا ایک موقع ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چینی حکومت اولمپکس کی میزبانی کی لاگت کے بڑھنے سے باخبر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے 2008 کے سمر اولمپکس کے لیے بنائی گئی بہت سی سہولیات کو دوبارہ استعمال کیا، جن میں مقابلے کے وینیوز بھی شامل ہیں۔ یہ طرز عمل اخراجات کو مزید کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوا ہے۔

بیجنگ سرمائی اولمپکس کے کامیاب اختتام کے موقع پر، آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے 19 تاریخ کو چائنا میڈیا گروپ کے سربراہ شین ہائی شوانگ کو خط لکھا، جس میں بیجنگ سرمائی اولمپکس کی نشریات کی غیر معمولی کامیابی پر ایک بار پھر مبارکباد دی گئی۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس کے دیکھنے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اولمپک سرمائی کھیلوں میں چینی عوام کی دلچسپی بہت بڑھ گئی ہے اور کھیل چینی عوام میں گہری جڑیں پکڑیں گے۔ باخ نے خط میں کہا کہ میں آپ کو اولمپک گیمز میں آپ کی خدمات کے اعتراف میں کریوشیف ٹرافی پیش کرنے پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں۔ آئی او سی اولمپک گیمز کے لیے طویل مدتی وابستگی اور مسلسل کوششوں کے لیے چائنا میڈیا گروپ کا بہت مشکور ہے۔ 2022 بیجنگ سرمائی اولمپکس کے لیے سی ایم جی کی نشریاتی کوریج نے اولمپک جذبے کو فروغ دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button