پاکستان

عمران خان کی بطور وزیراعظم واپسی کب ہوگی؟؟ لیک شدہ آڈیو نے نیا پینڈوراباکس کھول دیا

شازار جیلانی لکھتے ہیں کہ ”بلغاروی خاتون بابا وانگا جاوید چوہدری کی پسندیدہ مستقبل بین خاتون ہے۔ اس کے پاس جب کالم لکھنے کے لئے مصالحہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ اس خاتون کی، کی گئی پیشگوئیوں میں سے کسی ایک کو اٹھا کر حال میں موجود کسی قدرتی آفت، سانحے، سیاسی قتل، جنگ یا وبا پر منطبق کر لیتا ہے۔ اور کہانی مکمل ہوجاتی ہے۔ بابا وانگا کی آخری پیشگوئی

جاوید چوہدری کے مطابق کورونا کی وبا کے بارے میں تھی۔ صدام حسین کو ناموجود ڈبلیو ایم ڈی کے ناکردہ جرم میں مارنے والوں نے ناسٹر ڈیمس کے مشرق وسطیٰ سے کالی پگڑی والے کی پیشگوئی ویڈیو کیسٹوں کی شکل میں پھیلائی۔ نوے کے عشرے تک مشہور امریکی جین ڈکسن ’اپنے روحانی علم‘ کے زور پر

حکومتوں اور ڈکٹیٹروں کی تبدیلی کی پیشگوئی کر کے سی آئی اے کے کیے گئے آپریشنز کو قدرتی رنگ دیتی رہی۔ انسان جتنا ماضی سے زیادہ دلچسپی مستقبل میں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف مستقبل کے لئے منصوبے بناتا ہے بلکہ اس کی کامیابی کے بارے میں جاننا بھی پسند کرتا ہے۔ عمران خان سمیت ہر کوئی اس بات پر آج متفق ہے کہ ماضی کی حکومت عمران خان کو دلائی گئی تھی۔ مستقبل میں وہ حکومت میں واپس آ سکتا ہے یا نہیں اس کے لئے میرے پاس بابا وانگا کی پیشگوئیوں کی کتاب ہے اور نہ ناسٹر ڈیمس کی۔ البتہ آج سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک آڈیو کلپ سنا تو یوں لگا کہ جیسے مجھے بھی جاوید چوہدری کی طرح بابا وانگا کی کتاب ملی ہو۔ اس آڈیو کلپ میں کوئی نامعلوم شخص گزشتہ دنوں لاہور گیریژن میں منعقدہ جنرل باجوہ کی میٹنگ، وہاں پر اس کی تقریر اور اس کے بعد حاضرین کے سوال و جواب کے بارے میں واٹس ایپ میسج دے رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے چار ساڑھے چار گھنٹوں پر اس طویل نشست پر چار سطروں پر مشتمل پیغام بھی جاری نہیں کیا، بلکہ صرف اتنا کہا کہ قوم اور فوج کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گے۔ اس سے بالاتر کہ یہ پیغام سچ ہے یا جھوٹ، کیوں کہ ہم اس کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اگر ہم صرف پیغام کے متن پر غور کریں تو اس آڈیو کلپ کے اندر عمران خان کی واپسی کا مکمل منصوبہ موجود ہے۔

خصوصاً پیغام کے آخری چند سیکنڈز تو بہت واضح ہیں۔ آڈیو کلپ

کے مطابق جب جنرل باجوہ ریٹائرڈ افسران کی میٹنگ میں چلے گئے تو اس نے ان کو کہا کہ مجھے معلوم ہے آپ کس طرح کے سوالات کریں گے اور کیسے جوابات سننا چاہتے ہیں۔ آڈیو کلپ کے مطابق نکالے جانے کے بعد جب عمران خان نے امریکہ کے خلاف بیانات دینے شروع کیے تو اسے سمجھایا گیا کہ اور کچھ بھی کریں لیکن سیدھا نام لے کر امریکہ پر اٹیک نہ کریں کیونکہ ہمارے لیے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ آڈیو ٹیپ کے مطابق آگے جنرل باجوہ نے حاضرین کو بتایا کہ عمران میرے ساتھ روز بات کرتا ہے (باہمی تعلقات اچھے ہیں )۔ اس کی شہرت سات فیصد سے بڑھ کر ستائیس فیصد ہو گئی ہے۔ آڈیو ٹیپ کے مطابق جنرل باجوہ نے عمران خان کو کہا کہ تم کوشش کرو اور میجارٹی لے کر آؤ، ہم تمہیں قبول کر لیں گے۔ آگے بتایا کہ عمران کی ٹیم نکمی تھی اور وہ بات نہیں سنتا تھا، اس لئے ہم نیوٹرل ہو گئے۔ ملک میں فسادات کے خدشے پر مشتمل سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی ٹینشن بڑھ جانے کی صورت میں اگر فسادات کا خطرہ پیدا ہوا تو مارشل لاء نہیں لگایا جائے گا بلکہ سب سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر کے سپریم کورٹ سے فریش الیکشن کا فیصلہ لے لیا جائے گا۔ مبینہ آڈیو کلپ کی سچائی کو نظر انداز کرتے ہوئے غور کریں تو ساڑھے چار گھنٹے تک سمجھنے سمجھانے کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف اور زرداری کے خلاف آرمی میں بنائے گئے ماحول کے تلخ اثرات اب بھی شدت سے موجود ہیں۔ کیونکہ آڈیو کلپ کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ کیا سوالات کرنا چاہتے ہیں اور کیا سننا چاہتے ہیں۔ اس آڈیو کلپ کو سن کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ گراؤنڈ ورک شروع کردی گئی ہے۔

عمران خان نے کراچی والے جلسے میں امریکہ کے خلاف اپنے بیانات سے مکمل مختلف راستہ اختیار کیا۔ آڈیو کلپ کے مطابق آگے کے لئے لائحہ عمل یہ ہو گا کہ حالات اتنے خراب کر دیے جائیں کہ ملک میں خدانخواستہ فسادات ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔ میریٹ ہوٹل کے واقعے کو ذہن میں رکھیں اور اس کے بعد اینکرز اور منحرف اراکین کے گھروں کی گھیراؤ پر سوچیں تو فسادات کے لئے ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ جس کو لانگ مارچ اور دھرنے کی صورت میں عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ مذکورہ آڈیو کلپ کے مطابق فسادات کے خدشے کو روکنے کی غرض سے آرمی مداخلت کرتی ہوئی سب سیاستدانوں کو گرفتار کر لے گی اور اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا جائے گا اور نئے انتخابات کے لئے فیصلہ لے لیا جائے گا۔ عمران خان بھی فریش انتخابات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ عدالت عالیہ پہلے عمران خان کی حکومت کو بحال کر کے اور پھر پرزن وین بھیج کر اس کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا حکم دے کر اس وقت کی حزب اختلاف اور آج کی حکومت کے اندر اپنے لیے قابل قدر مقام حاصل بنا چکی ہے۔ یاد رہے جب ثاقب نثار نے آسیہ مسیح کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس نے بھی خود کو ماضی میں نواز شریف کے ساتھ کی گئی نا انصافیوں کے بدنما داغوں کو دھونے اور پنجاب میں خود کو ہیرو بنانے کی خاطر پہلے ڈیم بنانے کے لئے فنڈ قائم کیا پھر اس میں اپنی چھوٹی پوتی کی جمع پونجی جمع کرا کر وقتی شہرت پائی اور جب ہر طرف اس کے دانش، دور اندیشی اور حب الوطنی کے چرچے ہونے لگے تو اس نے اپنے اصل پراجیکٹ یعنی ریلیز آسیہ مسیح پر عمل کیا۔ لبیک والوں کو کس نے اور کیوں نکالا اور اس کا خالص منافع کس کس نے کمایا؟ وہ الگ کہانی ہے۔ ثاقب نثار پہلے تو اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے برطانیہ چلا گیا لیکن لبیک والوں سے دوسرا سمجھوتا ہوا تو خفیہ معاہدے میں ثاقب نثار کی تحفظ اور واپسی کی بات بھی طے کی گئی۔ دوسری طرف عمران خان نے سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو اپنی غلطی مان کر خود کو عدالت عالیہ کے لئے قابل قبول بنانے کا راستہ بھی اپنانا شروع کر دیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا، ڈائریکٹر آئی ایس پی آر نے آئندہ مارشل لاء نہ لگانے کا عندیہ دیا ہے تو فواد چوہدری نے چند روز پہلے کہا کہ ’ہم فسادات کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ ۔ موجودہ حالات میں تو کسی نے اس کے اس جملے کو قابل توجہ نہیں جانا لیکن مستقبل میں اس کی یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوئی تو مذکورہ آڈیو کلپ واقعی بابا وانگا کی کتاب ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button