اسلامک کارنر

دو 2 محبت کرنے والوں میں نکاح سے بہتر کوئی چیز نہیں۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آج کل ہمارے معاشرے میں بیٹے بیٹو ں کے رشتوں کے معاملات بہت زیادہ گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں ،سب سے پہلے رشتہ آتا نہیں جب رشتہ آجائے تو شرائط کا انبار لگا دیا جاتا ہے اور اسی طرح ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اس کی سب سے پہلی وجہ لڑکا یا لڑکی کی رضا مندی کے بغیر شادی کرنا بھی ہے۔آج کا دور سائنسی دور ہے یہاں انسانوں کے ذہن بہت زیادہ ٹیکنیکل طریقوں سے سوچنا شروع ہو گئے ہیں ۔انسان سکون کا خواہاں ہے قلبی اطمینان کا طلب گار ہوتا ہے اور شادی میں جنسی تسکین بھی ظاہری بات ہے ایک قابل ذکر فیکٹر ہے مگر قلبی اطمینان اور ذہنی سکون بڑی نایاب چیزوں میں شمار کیاجاتا ہے ۔

کیونکہ آج کل ہمارے تعلیمی و تربیتی سسٹم تباہ و برباد ہو چکا ہے مغرب کا وہ سسٹم جس میں نکاح کا تصور نہ ہے اس کو جب ہم نے اسلامی اقدار میں گھسیڑنا چاہا تو نتیجتاً ایک قبیح سسٹم ہمارے گلے کا طوق بن گیا ۔ظاہری بات ہے جب ہم کسی مشین کا کوئی پرزا کسی دوسری مشین میں فٹ کرنا چاہیں گے تو مشین بہتر کام کرنے کی بجائے اپنے پہلے کام سے بھی جائے گی ۔ ہمارے معاشرے میں جنسی تسکین کی کمی نہیں ہے مرد حضرات شادی کرتے ہیں جنسی تسکین تو انہیں حاصل ہوجاتی ہے مگر ان کی اپنی تربیت کی کمی کی وجہ سے یا پھر عورت کی طرف سے کسی خامی کی وجہ سے گھر نہیں چل پاتے ۔

اسی طرح کچھ والدین اپنی بچیوں تعلیم سے دور رکھتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہے یہ باہر نکلیں گی تو خراب ہوجائیں گی ۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے کیونکہ اب معاشرہ جس ڈگر پر کھڑا ہے یہاں ایک عورت کو تعلیم و تعلم کے ساتھ آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو اتنا مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کہ مرد اس پر کسی قسم کا ظلم تھوپنے سے قاصر رہے تب تو یہاں کا سسٹم کچھ آگے چلے گا اور محبت کی شادی کے حوالے سے یہاں مردوں کی غیرت جاگنا شروع ہوجاتی ہے اور وہ عورت کی رائے کو یا عورت کی پسند کو کوئی وقعت نہیں دیتے تو سن لیجئے کہ اکثر گھروں کے اجڑنے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی زبردستی کر دی جاتی ہے۔

اور اس سے رائے نہیں لی جاتی حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ لڑکی کا اعتماد اس قدر بحال کرنا چاہئے کہ اگر وہ کسی لڑکے کو پسند کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو اس کا اظہار کر سکے اور والدین میں بھی اتنی برداشت ہونی چاہئے کہ وہ اس کو ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور اچھا فیصلہ کریں اسی بات کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ دومحبت کرنے والوں میں نکاح سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔

زمانہ نبویﷺ میں ایک بچی ایک غریب صحابی سے نکاح کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے ولی جو کہ اس کے چچاتھے نے ایک مالدار صحابی سے اس کا نکاح کرادیا تو جب یہ بات حضور ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کا نکاح کالعدم قرار دیا اور دوبارہ اس غریب صحابی سے اس کا نکاح کرایا اور اس موقع پر مندرجہ بالا بات ارشاد فرمائی کہ دومحبت کرنے والوں میں نکاح سے بہتر کوئی چیز نہیں۔اب اس نکاح کو اسی اصول کے تحت کالعدم کیا گیا کیونکہ اس نکاح میں لڑکی کی مرضی شامل نہیں تھی ۔لہٰذا لڑکی کی مرضی سے نکاح کرنا ضروری ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button