اسلامک کارنر

شوہر غیر عورت کی طرف کیوں مائل ہوجاتا ہے؟ مولانا طارق جمیل بیان

آپﷺ نے ارشاد فرمایا اپنی بیویوں کو زیب و زینت اختیار کرو میں قربان جاؤ ں میں تو آپ کو نبی کا دین بتارہاہوں بیوی کے لئے اچھے کپڑے پہننا مشکل کام ہے ؟ سبحان اللہ ،عورتوں سے کہا اشارۃً ہمیں مردوں کو صراحتاً اپنی بیویوں کے لئے زیب و زینت اختیار کرو بنی اسرائیل میں ز ن ا اس لئے پھیلا کہ مردوں نے بیویوں کے لئے زیب و زینت چھوڑ دی تو وہ غیر مردوں کی طرف مائل ہوگئیں اور پھر عورتوں کو فرمایا کہ خاوندوں کے لئے تیار ہوں آپﷺ نے فرمایا جنت کی حور اپنے خاوند کے لئے ایسے تیار ہوگی جیسے ام سلمہ میرے لئے تیار ہوتی ہیں ،سبحان اللہ،ابھی عورتوں نے شادی پر جانا ہوتو بے چارے مرد کی مصیبت بڑھ جاتی ہے اور خاوند کے لئے تیار ہونا ہوتو اس کو مشکل لگتا ہے اپنے خاوندوں کے لئے تیار رہو ورنہ وہ اور عورتوں کی طرف مائل ہوجائیں گے۔

یہ اس میں خفیہ پیغام ہے میرے نبی ﷺ حیا والے ہیں پاکیزہ زبان پاکیزہ ذات مردو ں کو صراحتا فرمادیا اپنی عورتوں کے لئے تیار ہوا کرو بنی اسرائیل میں اس وجہ سے فحاشی پھیلی اور پھر اشارۃً جنت کی حور اپنے خاوند کے لئے ایسے تیار ہوتی ہے جیسے ام سلمہ اللہ کے رسول کے لئے تیار ہوتی ہیں جب حضرت فاطمہ رضی اللہ کی شادی ہوئی اور نکاح ہوگیا اور رخصتی ایک ماہ بعد دوماہ بعد چھ ماہ بعد ایک سال بعد یا فورا یہ ساری روایات ہیں لیکن زیادہ صحیح ہے کہ کچھ عرصے بعد رخصتی تھی فورا نہیں تھی تو جب حضرت علی نے آکر مطالبہ کیا حضرت ام ایمن کے ذریعے سے تو آپ نے حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ان تینوں سے فرمایا تم جانتی ہو نا میری بیٹی فاطمہ مجھے کتنی محبوب ہے میری بیٹی کو دلہن بناؤ اللہ اکبر۔میری بیٹی کوتیار کرو،یہ میں دین بیان کررہا ہوں ۔

بے پردگی نہیں بے حیائی نہیں ،زیب و زینت میرے دین کا حصہ ہے ، میرے نبی کی شریعت ہے میرا نبی خوبصورت دین لے کر آیا ہے ،ایک خوبصورت زندگی لے کر آئے ہیں ۔پتہ نہیں ہم نے کہاں سے عجیب و غریب دین کے فلسفے نکال لئے ہیں ،سبحان اللہ قربان جاؤں۔آپﷺ نے فرمایا جابر شادی کی فرمایا جی کی کہا کنواری سے یا بیوہ سے ،کہا جی بیوہ سے ،ارے تو نے کنواری سے کیوں نہ کی وہ تجھ سے کھیلتی تو اس سے کھیلتا ۔میں اپنے نبی کا دین بیان کررہا ہوں آپ کیا سمجھ رہے ہیں صرف رمضان کے روزے رکھنا دین ہے ہاں وہ دین کا بہت بڑا حصہ ہے عبادت میرے دین کی بنیاد ہے بنیاد ہل گئی تو سارا دین چلا جائے گا نقصان ہوگا ۔

ساری عمارت ٹوٹ جائے لیکن بنیاد کو عمارت نہیں کہتے ہاں بنیاد پر عمارت کھڑی ہوتی ہے میں عمارت کے کچھ خدو خال بتارہا ہوں کچھ نقش و نگار بتارہا ہوں کہ میرا نبی دین کی عمارت ہمیں کیسے دے کر گیا ہے کبھی آپ نے میلا کپڑا نہیں پہنا پرانا کپڑا پہنا پیوند لگا کپڑا پہنا میلا کپڑا زندگی بھر نہیں پہنا اور آپ کے بدن مبارک سے آپ کے پسینے سےایسے خوشبو آتی جیسے مشک سے خوشبو آتی ہے دنیا کی سب سے مہنگی خوشبو ۔ میرے نبی نے کبھی میلے کپڑے نہیں پہنےپرانا پہنا ہے پیوند لگا پہنا ہے میلا نہیں پہنا میرا دین یہ نہیں کہتاکہ ایسی شکل میں آجاؤ کے لوگ بھاگنے لگ جائیں سب سے زیادہ عزت اہمیت دو شادی کے بعد ماں باپ کا حق پیچھے بہن بھائیوں کا حق پیچھے حتی ٰ کہ اولاد کا حق بھی پیچھے ہے اور خاوند کا حق پہلے ہے بہت سی عورتیں اپنی نادانی کی وجہ سے ماں باپ کے پیچھے لگ کر اپنے خاوند کو چھوڑ دیتی ہیں خاوند کو ذلیل کر دیتی ہیں اپنے بچے کے پیچھے لگ کر خاوند کو چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ سب بے اعتدالیاں میرے معاشرے میں ہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔

ایک دوسرے کو عزت دو رشتوں کو عزت دو ہر ایک کا اپنا مقام ہے ہر ایک کو اپنے مقام پر رکھو ماں باپ کی وجہ سے بیوی کو بے عزت نہ کرو بیوی کی وجہ سے ماں باپ کو بے عزت نہ کرو یہ وہ رشتہ ہے جس میں اولاد بھی نہیں داخل ہوسکتی اولاد کو بھی پیچھے کیا گیا ہے خاوند اوربیوی کے معاملے میں سے ۔اور یہ وہ رشتہ ہے جسے اللہ نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بتایا ہے میری بہت بڑی نشانی کہ تمہیں مٹی سے بنایا ہے میری بہت بڑی نشانی زمین آسمان کا بننا میری بہت بڑی نشانی تمہار اسونا اور دوبارہ اٹھنا میری بہت بڑی نشانی بادل بجلی گرج بارش،میری بہت بڑی نشانی زمین آسمان کا کھڑا ہونا ،میری بہت بڑی نشانی کہ گرم ہوائیں ایک دم ٹھنڈی ہو کر بادل لے کر آتی ہیں ۔

اب پڑھیئے کہ غور کرو گے تو پتہ چلے گا کہ میری بہت بڑی نشانی ہے کہ میں نے خاوند اور بیو ی کا رشتہ بنایا ۔اللہ نے ماں باپ کا رشتہ بنایا اور اسے نشانی نہیں کہا اولاد کا رشتہ بنایا دادے پودے بھی جتلائے اللہ نے پھوپھی خالہ بھی بتائیں دادیاں نانیاں بھی بتائی مگر انہیں نشانی نہیں فرمایا نشانی صرف خاوند اور بیوی کو بنایا اس ایک رشتے کو باقی رکھنے کے لئے سینکڑوں آیات ہیں اور طلاق سے نفرت کا اظہار میرے نبی ﷺ نے فرمایا علی طلاق سے بچنا جب طلاق دی جاتی ہے تو اللہ کا عرش کانپ اٹھتا ہے ناجائز بے جا طلاق ضرورت کی وجہ سے طلاق لی بھی جاسکتی ہے اور دی بھی جاسکتی ہے خاوند بدتمیز ہے یا سسرال ظالم ہے وہ کہتی ہیں ماں سے میرا گزارا نہیں ہورہا میری جان چھڑا دو ماں کہتی ہیں گزارا کرنا ہوگا یہیں رہنا ہوگا یہ ماں باپ کا اپنی اولاد پر ظلم ہے ۔

میں نے اپنے ہی خاندان کے بچیوں پر ہوتے ظلم کو دیکھا۔زندہ کی کھال کھچ رہی ہے اور ماں باپ کا جبر یہ بہت بری چیز ہے ماں باپ کو چاہئے کہ فورا اسے ذبح ہونے سے بچائیں کل کا مت سوچیں کل کا اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا ہم کل کے لئے اپنی بچیوں کو ذبح کر دیتے ہیں میں نے ایسی لڑکیوں کو تڑپتے دیکھا ہے ۔کہیں رشتہ قریب کا ہے لڑکی بدتمیز ہے لڑکا شریف ہے وہ کہتا ہے اباجی میں طلاق دینا چاہتا ہے ہوں میرا اس سے گزارا نہیں ہے زبان شدید ہے اے میرے بھائیوں گھروں کی آبادی چاہے مالدار ہو یا غریب ہو اچھے اخلاق سے ہوتی ہے بڑے اخلاق تباہی کا سبب ہیں۔تو ضرورت کے تحت طلاق دی جاسکتی ہے لی جاسکتی ہے نہ عیب ہے نہ طعنہ ہے نہ ذلت ہے نہ کوئی داغ ہے ۔لہٰذا میرے بھائی خیال رکھئے ادب و آداب عزت و احترام سے اس رشتے کو چلائیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button