اسلامک کارنر

بے قابو زبان کے نقصانات

زبان، ایک عظیم نعمت: زبان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت اور لطائف صنائع میں سے ایک لطیفہ ہے۔ اس کا حجم اگرچہ مختصر ہے لیکن اس کی اطاعت بھی زیادہ ہے اور گناہ بھی بڑا ہے۔ ایمان اور کفر دونوں حقیقتوں کا اظہار زبان ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ ان میں اول الذکر غایت اطاعت ہے اور ثانی الذکر انتہائی درجے کی معصیت ہے۔

ہر چیز خواہ وہ موجود ہو یا معدوم، خالق ہو یا مخلوق، خیالی ہو یا حقیقی، ظنی ہو یا وہمی ، زبان پر آتی ہے اور زبان ہر چیز کے متعلق نفی یا اثبات کرتی ہے۔ علم کے دائرے میں جتنی بھی چیزیں ہیں خواہ وہ حق ہوں یا باطل، سب کی سب زبان ہی کے ذریعے بیان کی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو زبان کو دوسرے تمام اعضاء سے ممتاز کرتی ہے۔ آنکھ کی رسائی صرف رنگوں اور شکلوں تک ہے، کانوں کے دائرہ اختیار میں صرف آوازیں ہیں، ہاتھ صرف ان چیزوں تک دراز ہو سکتے ہیں جن کا جسمانی وجود ہو۔ یہی حال تمام اعضاء کا ہے۔

ان میں صرف زبان ہی ایسا عضو ہے جس کا دائرہ اختیار انتہائی وسیع ہے۔ جس طرح زبان خیر کے میدان میں دوڑ سکتی ہے اسی طرح شر کےمیدان میں بھی اسے کوئی شکست دینے والا نہیں۔ اس لیے زبان پر قابو رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جو شخص زبان پر قابو نہیں رکھتا شیطان اس سے نہ جانے کیا کچھ کہلوا لیتا ہے اور اسے برے انجام کی طرف لے جاتا ہے۔
زبان کے شر سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے جو اسے شریعت کی لگام پہنائے اور سنت کی زنجیریں ڈال دے۔ اور صرف اس وقت آزاد کرے جب کوئی ایسی بات کرنی ہو جو دین و دنیا کے لیے مفید ہو اور اسے ہر ایسی بات سے روکے جس کی ابتدا یا انتہا سے برے انجام کی توقع ہو۔

تاہم یہ بات معلوم کرنا کہ کون سی بات اچھی ہے اور کون سی بات بری،کہاں زبان کو بولنے کے لیے آزاد کرنا بہتر ہے اور کہاں برا ہے، انتہائی دشوار ہے۔ اور معلوم بھی ہوجائے تو اس پر عمل کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے۔ انسان کے اعضاء میں سب سے زیادہ نافرمانیاں زبان سے سر زد ہوتی ہیں کیونکہ اسے حرکت دینے میں نہ کوئی دقت ہے اور نہ تعب و تھکن۔ لوگ زبان کی آفات سے بچنے میں تساہل برتتے ہیں اور اس کے شر کو معممولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ شیطان کا مؤثر ترین ہتھیار ہے۔

اس کے ذریعے وہ اللہ کے بندوں کو شکست دیتا ہے اور انہیں گمراہی کے راستے میں چلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آنے والے صفحات میں ہم ، بتوفیق ایزدی، زبان کی آفتیں الگ الگ بیان کریں گے اور پوری تفصیل کے ساتھ ہر آفت کی حدود، اسباب اور نتائج پر گفتگو کریں گے، نیز اس سے بچنے کی تدابیر بھی ذکر کریں گے اور اس کی مذمّت میں جتنے اخبار و آثار وارد ہوئے ہیں انہیں بھی بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button