پاکستان

عمران خان کو ایک اور جھٹکا!! سابق وزیر اعظم کو ملنے والے تحائف کے بارے اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

سابق وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی معلومات عام کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے کہا توشہ خان گفٹ فروخت کر دئیے گئے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے

ریمارکس دئیے کہ 20 فیصد ادا کرکے گفٹ فروخت کرنا عجیب ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل مستعفی ہو گئے ہیں، وقت دیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کر لی۔عدالت نے کہا کہ جو کچھ توشہ خان سے لیا گیا وہ سب کچھ آئندہ سماعت پر بتانا ہے۔ہم باہر جاتے ہیں تو واپسی پر پوچھا جاتا ہے کہ کیا سیکھا ؟۔انصاف ہر کسی کے

ساتھ ہونا چایئیے۔یہ پبلک انٹرسٹ کا کیس ہے بتایا جائے توشہ خانہ سے کیا ملا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ جو چیزیں گھر لے گئے وہ واپس لیں چاہے 20 سال پرانا معاملہ کیوں نہ ہو۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس سارے معاملے کو متنازع نہیں بنا رہے۔تحفائف صرف وزیراعظم سے نہیں سب سے واپس لانے چاہئیے۔ عدالت نے کہا کہ آپ بیرون ملک جائیں تو پاکستان کے تحائف میوزیم میں لگے نظر آئیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کابینہ ڈویژن سے ہدایات لینے کی ہدایت کر دی۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خان اسکینڈل پر کہا تھا کہ میرا تحفہ میری مرضی۔انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک صدر نے گھر پر تحفہ بھجوایا، وہ تحفہ توشہ خانہ بھیج کر آدھی قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔عمران خان نے کہا کہ پیسہ بنانا ہوتا تو گھر کو کیمپ آفس ڈکلیئر کر کے کروڑوں روپیہ بناتا لیکن نہیں کیا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خان اسکینڈل پر کہا کہ ساڑھے تین سال بعد ان کوتوشہ خانہ ملا ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے، توشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ ریکارڈ پر ہے۔عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ سے چیزیں 50 فیصد قیمت ادا کر کے خریدیں، ہم نے توشہ خانہ کی چیزوں کی قیمت 15سے بڑھا کر 50 فیصد کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button