اسلامک کارنر

غسل کب فرض ہوتا ہے

شہوت کی وجہ سے منی( سفید گاڑھا پانی ) کا نکلنا غسل کو واجب کر دیتا ہے, ہمبستری ہو یا نہ ہو۔ بعض اوقات منی پتلی ہونے کی وجہ سے پیشاب کے ساتھ یا ویسے ہی کچھ قطرے آجاتے ہیں جو شہوت کے بغیر ہوتے ہیں تو ان سے وضو ٹوٹ جاۓ گا لیکن غسل واجب نہیں ہوگا ۔احتلام سے بھی غسل واجب ہوجاۓ گا۔ یعنی نیند میں منی نکل آۓ اور بیدار ہونے پر اسکا اثر کپڑوں پر موجود ہو تو غسل واجب ہوجاۓ گا ۔احتلام یاد ہو لیکن اسکا اثر کپڑے وغیرہ پر نہیں تو غسل واجب نہیں۔ہمبستری کرنے سے غسل واجب ہوجاۓ گا۔ انزال ہو یا نہ ہو (یعنی منی نکلے یا نہ نکلے۔عورت کا ماہواری کے بعد غسل کرنا واجب ہے۔نفاس کی وجہ سے غسل واجب ہوجاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد جو خون نکلتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ حیض اور نفاس کے ضروری احکام کچھ دن بعد بیان کیے جائیں گے۔

مردے کو غسل دینا فرض ہے یا سنت مردے کو غسل دینا فرض کفایہ ہے فرض کفایہ کا حکم یہ ہے کہ اگر ایک نے غسل دے دیا تو سب گناہ سے بچ جائیں گے اور سب کا فرض ادا ہوجاۓ گا۔اور اگر کسی نے بھی غسل نہ دیا تو سب گنہگار ہونگے ۔جس پر غسل فرض ہوجاۓ اسکو چاہیے کے نہانے میں تاخیر نہ کرے بلکہ جلدی نہا لےکیونہ حدیث مبارک کا مفہوم ہے ۔جس گھر میں جنب ہو ( جس پر غسل فرض ہو ) اس گھر میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتااگر نماز کا وقت نکل رہا ہو تو فورا نہانا فرض ہے یعنی اب اگر نہیں نہاۓ گا تو گنہگار بھی ہو گامنی کا صراحت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا کیونکہ پانی نکلنے والا تین طرح کا ہوتا ہے , منی , مذی , ودی منی نکلنے کی صورت میں غسل فرض ہوتا ہے لیکن مذی, ودی وغیرہ نکلے تو غسل فرض نہیں ہوتا پر وضو ٹوٹ جاۓ گا۔ غسل کب سنت اور کب مستحب ہے , اور غسل فرض ہونے کی صورت میں کونسی چیزیں منع ہیں ؟ ان سب کا بیان اگلے سبق میں ہوگا۔ کسی مسئلہ کی وضاحت مقصود ہو تو میں پوچھ سکتے ہیں.بحوالہ بہار شریعت, نور الایضاح

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button