اسلامک کارنر

اگر بیوی انکار کر دے تو شوہر کے لئے کیا حکم ہے؟

عالم صاحب میں ایک مسئلہ معلوم کرنا چاہتی ہوں، شرع میں اس عورت کے لیے کیا حکم ہے جس کسی عورت کا شوہر اپنی بیوی کو اپنے پاس بلائے ہمبس تری کے لے اور بیوی ہمبس تری کے لے منع کر دے ۔کہ آج میری ہمت نہیں ہے کبھی یہ کہے آج نہیں کل،آج میرا دل نہیں ہے پھر کسی دن،تو شریعت کیاکہتی ہے اور اسکے شوہر کے لے کیا حکم ہے ۔جواب تفصیل سے بتائیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے پھر عورت نے انکار کردیا اور شوہر نے اسی طرح ناراضگی کی حالت میں رات بسر کی تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (مشکاة: ۲۸۰)اس حدیث میں دو باتیں ہیں:(۱) عورت کا انکار کرنا بغیر کسی عذر شرعی کے ہو۔(۲) عورت کے انکار کرنے کی وجہ سے شوہر ناراض ہوجائے اور ناراضگی ہی میں پوری رات گذرجائے۔لہٰذا نتیجہ کے طور پر یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر عذر بیماری تکلیف ماہ واری وغیرہ کی وجہ سے انکار کرے گی تو مذکورہ وعید اس کے لیے نہیں ہے، نیز بہلا کر پیار محبت سے اس کا ذہن دوسری طرف متوجہ کردے۔ جس میں صراحةً انکار بھی نہ پایا جائے۔ اور اپنا منشا بھی پورا کرلے تو یہ بھی وعید میں داخل نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button